ملک کے معاشی نظام کو بی جے پی نے تہس نہس کردیا : منموہن سنگھ

نئی دہلی//سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے وزیرا عظم نریندر مودی اور بی جے پی کی معاشی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا معاشی نظام تہس نہس ہوگیا ہے جس کی وجہ سے پچھڑے طبقوں، غریبوں، کسانوں، غیرمنظم سیکٹر کے مزدوروں اور نوجوانوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ڈاکٹر سنگھ نے یہاں کانگریس کے 84ویں سیشن کے دوسرے دن اپنے خطاب میں کہا کہ محترمہ سونیا گاندھی کی قیادت میں متحدہ ترقی پسند محاذ (یوپی اے ) حکومت نے معاشی نرم کاری کا فائدہ عام لوگوں تک پہنچانے کے لئے کئی پالیسیاں وضع کیں اور ان کے مطابق قانون بنائے جس میں غذا، تعلیم اور اطلاع کا قانون خاص طور پر شامل ہیں۔بی جے پی پر وعدے پورے نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ وہ صرف جملوں کی بنیاد پر حکومت چلارہے ہیں۔ کسانوں کی آمدنی دوگنا کرنے کے وعدہ کو جملہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دو کروڑ لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن دو لاکھ لوگوں کو بھی روزگار نہیں ملا۔نوٹ بندی اور جی ایس ٹی پر تنقید کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ہی پسماندہ طبقوں، غریبوں، کسانوں، غیرمنظم سیکٹر کے مزدوروں اور نوجوانوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے ۔پارلیمنٹ میں پیش معاشی سروے کا حوالہ دیتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ یوپی اے کے دور اقتدار میں ترقی کی شرح 7.8 فیصد تھی لیکن اس میں مسلسل کمی ہورہی ہے ۔یواین آئی۔