ملک کا سالانہ بجٹ عوامی توقعات کے برعکس

        مرکز کی بی جے پی حکومت نے یکم ؍ فروری کو سال2022-23کے لئے ملک کا سالانہ بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کردیا۔ مرکزی وزیر مالیات نِرملا سیتا رمن نے لوک سبھا میں بجٹ پیش کر تے ہوئے دعویٰ کیا کہ اگلے 25سالوں میں ہندوستان میں عالمی معیار کے اقتصادی اور سماجی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے عزم کے ساتھ یہ بجٹ بنایا گیا ہے۔ اس کے ثمرات سے ملک کا ہر گاؤں اور بستی کی ترقی کو یقینی بنا یا جائے گا۔ آئندہ 25سال کے لئے منصوبہ بندی اچھی بات ہے۔ لیکن مودی حکومت نے اس وقت کی زمینی حقیقت کو نظر انداز کر تے ہوئے پھر ایک بار اپنے جملہ بازیوں کے ذریعہ عوام کو گمراہ کرنے پوری کوشش کی ہے۔ ایک ایسے وقت جب کہ کورونا کی عالمی وباء نے ہزاروں افراد کو روزگار سے محروم کر دیا ہے، انہیں روزگار سے لگانے کے بارے میں بجٹ میں کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا۔ اسی طرح متوسط اور تنخواہ یاب طبقہ کو کوئی راحت نہیں دی گئی۔ البتہ مودی حکومت نے کارپوریٹ طبقہ کے مفادات کا لحاظ رکھتے ہوئے انہیں بہت ساری مراعات عطاکیں ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ مرکزی حکومت کو ملک کی عوام سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ صرف زبانی جمع و خرچ کا سہارا لیتے ہوئے یہ باور کرایا گیا کہ عام بجٹ عوام کے مفاد میں ہے اور اس ے روزگار کے نئے مواقع کھلیں گے۔ اعداد و شمار کی اُ لٹ پھیر کر تے ہوئے بجٹ کو ’’امرت دور‘‘کے لئے ایک بلیو پرنٹ قرار دیا گیا ۔ واضح رہے کہ ہندوستان اپنی آزادی کا امرت مہو تسو منا رہا ہے۔ اسی تناظر میں نر ملا سیتا رمن نے کہا کہ آئندہ پچیس سال میں ہندوستان اپنی آزادی کے سو سال مکمل کرلے گا تو اس کا یہ دور امرت دور کی تکمیل کا دور ہوگا۔ لیکن کیا واقعی رواں سال کے بجٹ میں وہ سارے پہلووؤں پر توجہ دی گئی جس سے ملک میں پائیدار ترقی کے امکانات ظاہر ہوتے ہوں۔ بجٹ میں غریبوں، کسانوں ، نوجوانوں ، اور کمزور طبقوں کے لئے کوئی سہولتیں فراہم نہیں کی گئیں۔ موجودہ حکومت نے بر سرِ اقتدار آنے سے پہلے ہر سال دو کروڑ لوگوں کو روزگار دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اس پر آج تک عمل درآمد نہیں ہوا۔ عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے بارے میں کوئی بات بجٹ میں نہیں کہی گئی۔ ہر روز کی بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام آدمی کو معاشی طور پر بدحال کرکے رکھ دیا۔ قیمتوں پر قابو پانے کے لئے حکومت کے پاس کوئی میکانزم نہیں ہے۔ سرمایہ دار طبقہ ، حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غریبوں کا استحصال کرتا ہے۔ کوویڈ کی دو شدید ترین لہروں کے دوران عام افراد اور خاص طور پر غریب مزدور جن ناگہانی حالات سے دوچار ہوئے، اُن کو بازآباد کرنے کے بارے میں بجٹ میں کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ عوام یہ توقع کر رہی تھی کہ اس بحرانی دور میںمرکزی حکومت ان کی تکلیفوں کا احساس کر تے ہوئے ان کے لئے راحت فراہم کرے گی۔ لیکن عوام کی اُمیدوں پر پانی پِھر گیا ،جب عام بجٹ میں ان کی فلاح و بہبود کے بارے میںکوئی بھی موافق بات ہی نہیںہے۔ جدید مملکتیں ،فلاحی مملکتیں ہونے کا دعویٰ کر تی ہیں۔ فلاحی اسٹیٹ میں عوام کی ضروریات کو اولین ترجیح دی جا تی ہے۔ آزادی کے ابتدائی دہوں میں ملک کے سالانہ موازنہ میں عوامی فلاح و ترقی کا پہلو نمایاں طور پر اُبھر کا سامنے آ تا تھا۔ لیکن بتدریج بجٹ کے بناتے وقت حکومتوں نے دانستہ طور پر غریبوں کو نظرانداز کرنے اور سرمایہ داروں کا تحفظ کرنے پالیسی اپنالی ہے۔ موجودہ حکومت کا رویہ سابق حکومتوں سے دو ہاتھ آگے ہی ہے۔ اس حکومت نے اپنی پہلی معیاد کے وعدوں کو دوسری معیاد کے تین سال مکمل ہونے کے بعد بھی پورا نہیں کیا۔      
     وزیراعظم نریندر مودی نے ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس ‘‘کا نعرہ دیا تھا۔ لیکن سات سال کے دوران ملک کی عوام اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے کہ کس طرح ملک کا غریب عوام تواتر کے ساتھ پچھڑتا ہی چلاجارہا ہے اور ملک کے چند امیر گھرانے مزید امیر ہو تے چلے گئے ہیں۔ ملک کی معاشی پالیسیاں ایسی بنتی رہیں کہ اس سے صرف سرمایہ دار طبقہ کے مفادات پورے ہوتے دکھائی دیئے۔ غریب عوام کو حکومت صرف طفل تسلیاں دے کر بہلاتی جارہی ہے۔ گاندھی جی کے ’’سوراج‘‘کے سپنوں کی چِتا جلا کرسرمایہ دار کلچر کا ایک نیا اور تازہ باب ملک کی تاریخ میں رقم کیا جا رہا ہے اور اسی کے ساتھ ہندوتوا کو ایک بُت کی شکل دے کر ہر شہری کو اس کے اطراف گھومنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ ہندوستان کی کوئی پالیسی ہندوتوا کے عناصر کو شامل کئے بغیر نہیں بنائی جا رہی ہے۔ چاہے وہ ملک کی معاشی پالیسی ہو یا تعلیمی پالیسی۔ ملک کی آزادی کا امرت مہوتسو منانے والے یہ بھول رہے ہیں کہ ملک کے بجٹ میں کسانوں ، غریبوں ، نوجوانوں کو ان کا حق دئے بغیر آزادی کا 75واں جشن کیا معنیٰ رکھتا ہے ؟دعویٰ یہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت کے ان اقدامات سے آئندہ 25سال میں ملک ہر لحاظ سے ترقی یا فتہ ہو جائے گا۔ ملک میں بڑھتی ہوئی غربت سے کسان خودکشی کر تے ہیں ، تغذیہ کی کمی سے شِیر خواروں کی جانیں جا تی ہیں، نوجوان پڑھ لکھ کر روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں ، عام شہریوں کے لئےرہائش ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ لوگ فٹ پاتھ پر زندگی گزارنے کے لئے مجبور ہیں۔ اُن کے لئے سَر چھپانے کا کوئی آسرا نہیں ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کو مراعات دینے کے لئے غریب کسانوں کی زمینیں چھینی جا رہی ہیں۔ حالیہ عرصہ میں کسانوں نے جو تاریخی احتجاج کیا ، اس کا پسِ منظر یہی تھا کہ مرکزی حکومت نے کسانوں سے ان کی زمین اور پیداوار کو چھین لینے کے لئے تین زرعی قوانین بنائے تھے۔ کسانوں کے زبردست احتجاج سے حکومت اپنے ارادوں میں کا میاب نہیں ہو سکی لیکن کسانوں سے جو وعدے کئے گئے تھے، ابھی تک و ہ پو رے ہوتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے ۔ اس سے حکومت کے ارادوں کا پتہ چلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دنوں کسانوں نے یوم دغابازی بھی منایا اور برسرِ اقتدار حکومت کو الٹی میٹم بھی دے دیا کہ کسانوں کے ساتھ دغابازی اور وعدہ خلافی آنے والے دنوں میں بڑی مہنگی پڑ سکتی ہے۔ ملک کی پانچ ریاستوں اور خاص طور پر اترپردیش اسمبلی کے الیکشن،برسرِ اقدار پارٹی کے لئے ایک ریفرنڈم ثابت ہوں گے۔ یوپی میں موجودہ سرکار کی زمین کھسکتی جا رہی ہے۔ اس میں کسانوں کی ناراضگی کا عنصر بہت اہم ہے۔ مختلف سیاسی تجزیہ نگاروں کی آرا سےیہ بات اُبھر کر سامنے آرہی ہے کہ یوپی میں موجودہ سرکار کے ہاتھوں سے اقتدار جانے ولا ہے۔ ریاست کی عوام اب مزید یوگی جی اور مودی جی پر بھروسہ کرنے والی نہیں ہے۔ گزشتہ پانچ سال میں یوپی میں مذہبی منافرت کا جو کھیل کھیلا گیا وہ عوام کی سمجھ میں آ گیا ہے۔ ہندو،مسلم کی سیاست کو بڑھاوا دے کر  یوپی کو آگ و خون ایک ایسا دریا بنا دیا کہ ہر طرف تعصب اور عناد کے علاوہ کچھ اور نہیں نظر نہیں آ رہا ہے۔ یوپی کے چیف منسٹر یوگی آ دتیہ ناتھ نے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے فرقہ وارانہ جنون کو ہوا دی ہے تاکہ عوام ان سے کوئی سوال نہ کر سکے۔ اب بجٹ نے بھی رہی سہی کسر پوری کردی گئی ہے۔ یوپی کی عوام اب یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ مسلمانوں  کے ساتھ نفرت ،اور انہیں مارنے، کاٹنے سے اُن کا کونسا بھلا ہواہے؟ یوپی کی موجودہ سرکار نے اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لئے سماج کو تقسیم کر دیا ہے۔ اگر عوام نے اس منافرانہ کھیل کو سمجھ لیا ہے تو انہیں یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ مرکز کی مودی حکومت بھی ان کی ترقی کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتی ہے۔ یکم؍ فبروری کو پیش کئے گئے بجٹ میں ملک کے عام طبقہ کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا۔ اُن کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیاہے۔ اس لئے یوپی کے عوام اب یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی ہے کہ عنقریب ہونے والے الیکشن میں اُنہیں کیا کرنے کی ضرورت ہے۔    
      اقلیتوں کے حوالے سے اگر عام بجٹ کو دیکھا جائے تو مایوسی اور بڑھ جاتی ہے۔ مرکزی سرکار کا دعویٰ ہے کہ وہ ملک کی عوام کو اکثریت اور اقلیت میں تقسیم نہیں کرتی۔ اس کے نزدیک ملک کے تما م شہری یکساں حقوق کے حقدار ہیں اور وہ کسی مخصوص طبقہ کو مراعات دینے کی قائل نہیں ہے۔ نظریاتی طور پر یہ مفروضہ تو بہت اچھا ہے ۔ لیکن کیا حقیقت کی دنیا ایسی ہی ہے۔ کیا واقعی سرکار ، ملک کے تمام طبقوں کو قومی وسائل میں برابر کا حصہ دار مانتی ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو اقلیتوں اور خاص طور مسلمانوں کی حالت کیوں اس قدر دگرگوں ہو گئی ہے۔ ملک کی آزادی کے 75سال میں مسلمان تعلیم، معیشت، سیاست اور دیگر شعبوں میں ملک کے دیگر طبقوں سے اتنے پیچھے کیوں ہو گئے ہیں؟۔’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس ‘‘پر ایقان رکھنے والے وزیراعظم نے ملک کے بجٹ میں مسلمانوں کا حصہ کتنا رکھا؟ کیا محض الفاظ کی ادائیگی سے کسی طبقہ کا وشواس حاصل کیا جا سکتا ہے۔ جب کہ حکومت کی ہر پالیسی سے اقلیتوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ حالیہ بجٹ میں وزارتِ اقلیتی اُمور کا بجٹ ملک کے بجٹ کا ایک فیصد بھی نہیں ہے۔ جب کہ وزارت اقلیتی امور ملک کی 19فیصد آبادی کے لئے کام کرتی ہے۔ ملک کی اقلیتوں میں مسلمان، سکھ، عیسائی، بد ھسٹ، جین اور زردشست طبقہ شامل ہے، مسلمان سب سے بڑی اقلیت ہیں ۔ یہ بڑی عجیب اور دردناک بات ہے کہ ملک کے 14فیصد مسلمانوں کے لئے ملک کے بجٹ میں کوئی خاطرخواہ رقم مختص نہیں کی گئی ہے۔ اس پر طرفہ تماشا یہ کہ بی جے پی دھڑلے سے سب کے وکاس کی بات کرتی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ مودی حکومت نے اپنے اس بجٹ میں اقلیتوں کو دی جانے والی سابقہ سہولتوں کو بھی مسددود کر دیا ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ مولانا آزاد فاؤنڈیشن کا بجٹ روک دیا گیا۔ ایک قدآور قومی رہنماء کے نام سے منسوب اسکیم کو ختم کر دینا اس بات کی غمازی کر تا ہے کہ حکومت کے ایوانوں میں کس ذہنیت کے افراد آ تے جا رہے ہیں۔ مولانا آزاد کیا، گاندھی اور امبیڈکر کو بھی فرقہ پرستوں نے نہیں بخشا ہے۔ کچھ دنوں بعد گاندھی کے بجائے گوڈسے کے نام پر قومی یادگاریں بنائی جا ئیں گئی اور ساورکر کے نام پر ایوارڈ دئے جائیں گے۔ گا ندھی جی، مولانا آزاد اور ڈاکٹر امیڈکر کے ناموں کی جگہ کچھ بھی نام رکھ لیں، اس سے ہندوستان کا نام روشن ہونے والا نہیں ہے۔ جمہوریت کے فروغ کے لئے اقلیتوں کے ساتھ اکثریت کا فراخدلانہ رویہ ہونا ضروری ہے۔ حکومت اقلیتوں کی علیحدہ شناخت کو نہ مانتے ہوئے انہیں اکثریت میں ضم کرنے کی کوشش کر ے گی تو اس سے ملک میں ایک نیا بحران شروع ہوجائے گا۔ دستورِ ہند نے اقلیتوں کے حقوق کو نہ صرف تسلیم کیا ہے بلکہ ان حقوق کی ضمانت دی ہے۔ دیانتداری کا تقاضاہے کہ حکومت ، چاہے کسی پارٹی کی ہو، اقلیتوں کو اپنے اعتماد میں لیتے ہوئے ان کی فلاح و بہبود کے لئے ٹھوس اقدامات کرے۔ اقلیتوں کو نظرانداز کردینا، انہیں حاشیہ پر لانے کی کوشش کرنا، اقلیتوں کی جان و مال کا تحفظ نہ کرنا ، فرقہ پرستوں کے رحم و کرم پر انہیں چھوڑ دینا اور ان پر ہونے والے ظلم کو خاموش تماشائی بن کر دیکھنا جمہوریت کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیتا ہے۔ ملک کی اپوزیشن پارٹیوں، سماج کے مختلف طبقوں اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے یہ شکایت کی جا رہی ہے کہ مجوزہ بجٹ صرف سرمایہ داروں کے مفادات کی تکمیل کرتا ہے۔ بجٹ میں ملک کے دیگر طبقوں کے ساتھ نا انصافی کی گئی ہے، مرکزی حکومت بجٹ پر ازسرنو غوروخوص کرے اور جن کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا ہے، اُن کے ساتھ معاندانہ سلوک کو ختم کرتے ہوئے انہیں ان کا جائز حق عطا کرے تاکہ ملک کا ہر طبقہ مطمئن ہو سکے اور سارے ملک کی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے ورنہ عوامی بے چینی یوپی اور مرکزی سرکاروں کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔