ملک میں کووڈ کے یومیہ کیسز بے قابو ہونے لگے| 91000نئے معاملے اور325ہلاکتیں

  
نئی دہلی//ملک میں کورونا وائرس کا زور بڑھتا ہی جارہا ہے ، پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران 71 ہزار سے زیادہ ایکٹیو معاملے سامنے آئے ہیں۔مرکزی وزارت صحت کی طرف سے جاری اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کی صبح8بجے تک 90,928 نئے کیسز سامنے آئے ، جس سے متاثرین کی کل تعداد بڑھ کر تین کروڑ 51 لاکھ 9 ہزار 286 ہو گئی ۔ نئے کیسز میں اضافے کے ساتھ ایکٹو کیسز کی تعداد دو لاکھ 85 ہزار 401 ہوگئی ہے ۔ اسی عرصے میں مزید 325 مریضوں کی موت کے بعد اموات کی مجموعی تعداد چار لاکھ 82 ہزار 876 ہو گئی ہے ۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 19 ہزار 206 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں جن میں سے اب تک 3 کروڑ 43 لاکھ 41 ہزار 9 افراد کورونا سے نجات پا چکے ہیں۔ اسی عرصے میں 14 لاکھ 13 ہزار 30 کووڈ ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ ملک میں کل 68 کروڑ 53 لاکھ 5 ہزار 751 کووڈ ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔دوسری طرف، 26 ریاستوں میں 2630 لوگ کووڈ کے اومیکرون ویرینٹ سے متاثر پائے گئے ہیں، جن میں مہاراشٹر میں سب سے زیادہ 797، دہلی میں 465 اور راجستھان میں 236 معاملے ہیں۔ اومیکرون کے انفیکشن سے 995 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔
 
 

جموں کشمیر میں349مثبت،3فوت

وادی میں 147اور جموں میں 202کیس درج

پرویز احمد 
 
سرینگر //جموں و کشمیر میںمسلسل دوسرے دن بھی کورونا وائرس سے روزانہ متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 300سے زیادہ ہے۔ جمعرات کو جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے51ہزار 763 ٹیسٹ کئے گئے جن میں 37مسافروں سمیت مزید 349افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں۔ اس سے قبل جموں و کشمیر میں 4جولائی 2021کو کورونا وائرس سے 347 افراد متاثر ہوئے تھے۔جموں و کشمیر میں متاثرین کی مجموعی تعداد 3لاکھ 42ہزار 768  تک پہنچ گئی ہے۔ اس دوران کورونا وائرس سے مزید 3افراد کی جان گئی۔ متوفین کی مجموعی تعداد 4533ہوگئی ہے۔ 349متاثرین میں جموں صوبے میں 202 جبکہ کشمیر کے 147 شامل ہیں۔ کشمیر میں 11 افرادبیرون ریاستوں کا سفر کرکے کشمیر پہنچے جبکہ دیگر 136افراد مقامی سطح پر رابطے میں آنے کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔  سرینگر میں 80، بارہمولہ میں 21، بڈگام میں 16، پلوامہ میں 9، کپوارہ میں 6، بانڈی پورہ میں 9، گاندربل میں 5، شوپیان میں 1جبکہ اننت ناگ اور کولگام میں کسی کی رپورٹ مثبت نہیں آئی ۔وادی میں متاثرین کی مجموعی تعداد 2لاکھ 15ہزار 721تک پہنچ گئی ہے۔ وادی میں 5دنوں کے بعد جمعرات کو کورونا وائرس سے مزید ایک اور شخص فوت ہوگیا ۔ مرنے والے شخص کا تعلق سرینگرضلع سے ہے، اور یہاں متوفین کی مجموعی تعداد 2332ہوگئی ہے۔ جموں صوبے میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد میں اچھال دوسرے دن بھی جاری رہا ۔  گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران مزید 202افراد متاثر ہوئے ، جن میں 26بیرون ریاستوں کا سفر کرکے واپس لوٹے ہیں۔ جموں میں 119، ادھمپور میں 14، راجوری میں 8، ڈوڈہ میں 1، کٹھوعہ میں 7، سانبہ میں 2، کشتواڑ میں 4، پونچھ میں 13، رام بن میں 1جبکہ ریاسی میں 33مثبت آئے۔  صوبے میں متاثرین کی مجموعی تعداد 1لاکھ 47ہزار 47تک پہنچ گئی ہے۔ جمعرات کو 6دنوں کے بعد کورونا وائرس سے 2افراد فوت ہوئے ۔ فوت ہونے والے 2افراد میں ایک ضلع جموں اور دوسراراجوری سے تعلق رکھتا ہے۔ متوفین کی مجموعی تعداد  2201ہوگئی ہے۔ 
 
 

وادی کے5کووڈ اسپتالوں میں 800بستر دستیاب،706خالی، 94 پر متاثرین زیر علاج، 4کی حالت نازک

سرینگر /پرویز احمد /وادی میں روزانہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کے علاج و معالجہ کیلئے مختلف کووڈ اسپتالوں میں 800بستردستیاب ہیں جن میں706 خالی پڑے ہیں جبکہ 94 پر مریض موجود ہیں ۔مختلف اسپتالوں میں زیر علاج 94متاثرین میں 4کی حالت نازک ہے۔ وادی کے سب سے بڑے طبی ادارے شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ میں 74بیڈ مخصوص رکھے گئے ہیں جن میں 19بستروں پر مریض ہیں۔ سی ڈی اسپتال ڈلگیٹ میں 100بستردستیاب ہیں جہاں 15مریض زیر علاج ہیں جبکہ 40بستروں پر غیر کورونا مریضوں کا علاج و معالجہ چل رہا ہے۔ میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر سلیم ٹاک نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ اسپتال کسی بھی امکانی صورتحال سے نپٹنے کیلئے تیار ہے‘‘۔انہوں نے کہا ’’گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر سے منسلک اسپتالوں میں مثبت قرار دئے گئے جن متاثرین کی حالت نازک ہوتی ہے، ان کوسی ڈی اور کشمیر ویلی نرسنگ ہوم میں داخل کیا جاتا ہے‘‘۔ 50بستروں پر مشتمل کشمیر ویلی نرسنگ ہوم ابھی بھی کویڈ مریضوں کیلئے ہی مخصوص رکھا گیا ہے اور یہاں50بستروں میں سے 24 پر مریض موجود ہیں ۔ خصوصی طور پر قائم کئے گئے ڈی آر ڈی او اسپتال کھنمو ہ 550بستروں پر مشتمل ہے جن میں 50بستروں کو بچوں کیلئے مخصوص رکھا گیا ہے۔ میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈی آر ڈی او اسپتال ڈاکٹر عبدالرشید پرہ نے بتایا ’’500بستروں والے ڈی آر ڈی او اسپتال میں اسوقت صرف 34متاثرین زیر علاج ہیں جن میں 4کی حالت نازک ہے‘‘۔انہوں نے کہا ’’ اس ماہ میں سب سے زیادہ 10متاثرین کو 4جنوری 2022کو  اسپتال میںداخل کیا گیا جبکہ 5جنوری کو 2اور 6 جنوری کو صرف ایک مریض کا داخلہ ہوا ۔ ڈاکٹر پرہ نے کہا ’’دوسری لہر سے ہم بہت بہترین صورتحال میں ہیں کیونکہ اسوقت ہمارے پاس افرادی قوت، بنیادی ڈھانچہ اور آکسیجن وافر مقدار میں دستیاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اومیکرون کی صرف یہ خاصیت ہے کہ یہ لوگوں کو تیزی سے متاثر کرتا ہے لیکن یہ اتنا جانلیوہ وائرس نہیں ہے۔ انہوں نے کہ دوسری لہر میں ڈیلٹا وائرس کافی جانیلوہ ثابت ہوا لیکن اب صورتحال مختلف ہے کیونکہ ہم زیادہ بہتر طریقے سے تیار ہے۔    
 

ہندوارہ میں7فورسز اہلکار مثبت

اشرف چراغ 
 
کپوارہ// ہندوارہ میں سرحدی حفاظتی فورس کے 7 اہلکار کو رونا وائرس کے شکار ہوئے ہیں جس کے بعد انہیں کورنٹین کیا گیا ۔ ڈگری کالج ہندوارہ کے قریب قائم 57بٹالین سرحدی حفاظتی فورس  کیمپ میں تعینات 7اہلکارو ں کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ۔فورسز حکام کا کہنا ہے کہ ان اہلکاروں کے رابطے میں آنے والے دیگر جوانوں کو بھی الگ تھلگ کردیا گیا ہے۔