ملک میں ماحول سازگار رکھنا سب کی ذمہ داری!

ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اور جمہوری ملک میں آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اظہار رائے کی آزادی ہوتی ہے اور ساتھ ہی مذہبی ترویج و اشاعت کے ساتھ ساتھ تقریر و تحریر کی بھی آزادی اور اجازت ہوتی ہے اور یہ آزادی آئین کے تحت حاصل ہوتی ہے اور اسی بنیاد پر حکومت کے فیصلوں پر ملک کی عوام اپنا رد عمل ظاہر کرتی ہے یعنی حکومت کے فیصلوں پر عملدرآمد بھی کیا جائے، بشرطیکہ وہ فیصلہ ملک اور قوم کے مفاد میں ہوں۔ اگر ملک کی عوام کو یہ احساس ہورہا ہے کہ حکومت نے جو فیصلہ لیا ہے ،اس سے ہمارا نقصان ہے تو اس فیصلے کے خلاف آواز بلند کی جاسکتی ہے، احتجاج کیا جاسکتا ہے، تنقید کی جاسکتی ہے، یہاں تک کہ دھرنا و مظاہرہ کے ساتھ احتجاجی جلسہ بھی کیا جاسکتا ہے اور یہی جمہوریت ہے ۔ ہر وہ احتجاج جس سے آئین و قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوتی ہے، اُس احتجاج کو طاقت کے استعمال کے ذریعے دبانا جمہوریت کے خلاف ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ جمہوریت میں حکمراں عوام کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے، چاہے کوئی ممبر اسمبلی ہو، ممبر پارلیمنٹ ہو، وزیر ہو یا وزیر اعظم ہی ہو، اس سے سوال و جواب کرنے کا حق عوام کو حاصل ہے۔ ہمارا ملک صوفی سنتوں کی آماجگاہ ہے، کل مذاہب و کل برادری کا سنگم ہے۔ اس سنگم کو خوبصورت بنانے میں سب سے زیادہ ضروری ہے کہ ملک میں امن و امان قائم رہے، بھائی چارگی کا ماحول قائم رہے اور ملک میں امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری جہاں حکومت کی ہےوہاں عوام کی بھی ذمہ داری ہے، یعنی حکومت کوئی ایسا فیصلہ نہ لے کہ جس کی وجہ سے ملک کی عوام صدائے احتجاج بلند کرنے کے لئے سڑک پر اُترنے کے لئے مجبور ہوجائے اور عوام کی ذمہ داری ہے کہ کسی کے مذہبی رہنما کی توہین نہ کرے، کسی کی مذہبی کتاب کی بے حرمتی نہ کرے، برادری کے نام پر لڑائی جھگڑا نہ کرے، مذہبی منافرت پر مبنی تقاریر و بیان بازی سے پرہیز کرے۔ دھرم سنسد کے نام پر مسلمانوں کے خلاف جو زہر افشانی کی گئی وہ جمہوریت کے خلاف ہے۔ شہریت ترمیمی قوانین کے مسلے پر ملک کی عوام نے احتجاج و مظاہرہ کیا تو ان کے ساتھ جو ظلم و ناانصافی کی گئی، وہ بھی جمہوریت کے خلاف ہے۔ یقیناً 26 جنوری کا دن تاریخ ساز دن ہے، اس دن جمہوریت کا جشن منانا چاہیے کیونکہ اسی تاریخ میں دطن عزیز کے آئین کا نفاذ عمل میں آیا  ہے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جمہوریت کا جشن منانا جتنا ضروری ہے اتنا ہی جمہوریت کے فروغ و تحفظ کا عہد کرنا اور عہد لینا بھی لازمی ہے ۔یوم جمہوریہ یعنی 26 جنوری دستور سازی کا دن ہے، آئین ہند کے مرتب و مکمل ہونے کے اعلان کا دن ہے اور آئین ہند کے نفاذ کا دن ہے۔ اس لئے یہ پیغام عام کرنا ضروری ہے کہ جمہوریت کو بچانا سب کی ذمہ داری ہے اور یہ بھی صد فیصد حقیقت ہے کہ ملک کی آزادی اور جمہوریت کے فروغ میں علماء کرام اور مدارس اسلامیہ کا بہت ہی اہم کرداررہا ہے۔ ملک کو آزاد کرانے کے لئے علماء کرام نے اپنا سر تن سے جدا کرائے،تن کے گورے من کے کالے انگریزوں کے خلاف سروں پر کفن باندھ کر جوق در جوق علماء و طلباء مدارس اسلامیہ سے ہی میدان میں نکلا کرتے تھے اور انگریزوں کے خلاف بھارت چھوڑدینے کا نعرہ لگایا کرتے تھے ۔ آج بھی اس وطن کی مٹی میں ہمارے بزرگوں کی ہڈیاں دفن ہیں ،مگرپھر بھی آج مٹھی بھر فرقہ پرست، مسلمانوں سے حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ مانگتے ہیں، مدارس اسلامیہ پر انگشت نمائی کرتے ہیں،جبکہ آج بھی ہمارے مدارس میں یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ وطن سے محبت کرنا ایمان کا ایک حصہ ہے ۔اسی لئے تو وطن سے محبت ہماری رگوں کے خون میں شامل ہے، ہمیں تو مرنے کے بعد بھی غسل دیا جاتا ہے، نئے لباس میں ملبوس کیا جاتا ہے کافور و عطر لگایا جاتا ہے ، اسی مٹی پر کھڑے ہوکر جنازے کی نماز پڑھا جاتا ہے پھر اس کے بعد اسی زمین میں کھودی گئی قبر میں دفن کیا جاتا ہے۔
آج بھی ہم ملک کے آئین میں یقین رکھتے ہیں، ملک کی عدلیہ پر یقین رکھتے ہیں اور جمہوریت کی قدر کرتے ہیں اور ہر ہندوستانی کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ یہ جمہوریت کی ہی دین ہے کہ ملک میں عام انتخابات ہوتے ہیں۔ ہر عاقل و بالغ ہندوستانی کو ووٹ دینے کا بھی حق ہے اور ووٹ مانگنے کا بھی حق حاصل ہے ۔ جمہوریت کو مزید خوبصورت بنانے کےلئے اور اس کی شان بڑھانے کے لئے ضروری ہے کہ آزادانہ اور منصفانہ طور پر عام انتخابات کو پایہ تکمیل تک پہنچا یا جائے اور عوام کھل کر حق رائے دہی کا استعمال کرے اور اپنے ذہن میں یہ بات ضرور رکھے کہ کثرت رائے جس کے حق میں ہوگی، وہی حکمراں ہوگا، اُسی کے ہاتھ میں حکومت کی باگ ڈور ہوگی،اس لئے ہمیں سوچنا ہوگا کہ کن ہاتھوں میں ملک محفوظ رہے گا، تو اُن ہی ہاتھوں کو مضبوط کریں تاکہ ملک سے فرقہ پرستی کا خاتمہ ہوسکے، ہجومی تشدد کا خاتمہ ہوسکے، سب کے ساتھ انصاف ہوسکے ، سب کو برابری کا درجہ حاصل ہوسکے، اونچ نیچ، بھید بھاؤ کا خاتمہ ہوسکے اور صاف شفاف حکومت تشکیل پاسکے، جمہوریت میں چار چاند لگ سکے، آئین کی بالادستی قائم رہ سکے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم جذباتی نعروں اور جذباتی باتو کی رو میں نہ بہیں بلکہ جوش کے ساتھ ہوش میں بھی رہیں تاکہ بہتر اور کارآمد فیصلہ لے سکیں ۔اسی میں بھلائی ہے اور اسی میں اچھائی ہے۔ یوں تو ہر سال یوم جمہوریہ آتا ہے اور گذرجاتا ہے مگر امسال یوم جمہوریہ اپنے ساتھ ایک مخصوص تحفہ اور آفر لے کر آیا کہ ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں جس کا سلسلہ دس فروری سےشروع ہوچکا ہے ۔چنانچہ یوم جمہوریہ یہ پیغام دے کر گذر گیا کہ ائے ہندوستانیوں تمہارے بیچ وہ لوگ بھی ہوں گے جو میرا خوب تذکرہ کریں گے تو تم بھی ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا اور اندازہ لگانا کہ انہوں نے جمہوریت کے فروغ و تحفظ کے لئے کون سا کام کیا ہے اور یہ بھی اندازہ لگانا کہ وہ مستقبل میں بھی جمہوریت کا تحفظ کرپائیں گے کہ نہیں ۔اس لئے کہ گاندھی جی نے ضعیفی میں بھی جوانوں جیسا حوصلہ دکھا یا اور جرأت دکھائی ،تمام مشکلات کا سامنا کیا، جواہر لال نہرو نے بھی گاندھی جی کے قدم سے قدم ملایا، مولانا ابوالکلام آزاد نے بیوی کے علاج کے لئے تحریک آزادی سے الگ ہونے کی شرط پر جیل سے ہونے والی رہائی کو ٹھکرایا اور علامہ فضل حق خیرآبادی نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا اور اس فتوے کو نہ بدلنے کی پاداش میں انہیں کالا پانی کی سزا دی گئی اور جب رہائی کا پروانہ پہنچا تو علامہ فضل حق خیرآبادی کا جنازہ جارہا تھا ۔یہ تو ایک جھلک ہے مگر اسی سے اندازہ لگا جاسکتاہے کہ ملک کی آزادی کیسے حاصل ہوئی ہے اور جمہوریت کا قیام کیسے عمل میں آیا ہے۔ لہٰذا ہندوستان کے ہر فرد کے لئے لازمی ہے کہ وہ آئین کا احترام کرے اور جمہوریت کی قدر کرے۔