ملک میں اقلیتوں کااستحصال بند

سرینگر//بھارت میں اب مسلمانوں کااستحصال نہیں ہوتا ہے اور ان کی زندگیوں میں وہ بدلائوآیا ہے جو ان کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا۔ان باتوں کااظہار بھارتیہ جنتا پارٹی جموں کشمیرکی ترجمان اور وزارت اقلیتی امورکی وقف ترقیاتی کونسل کی چیئرپرسن ڈاکٹر درخشان اندرابی نے  وجے واڑہ آندھرا پردیش میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا ،’’ ہم بھارت میں رہ رہے ہیں جوفرقہ وارانہ فسادات ،مذہبی تقسیم اور مسلکی امتیازسے پاک ہے‘‘۔ انہوں نے وزیراعظم نریندرمودی کی  سربراہی میں مرکزی حکومت کی طرف سے اقلیتوں کوتمام شعبوں میںبااختیار بنانے کیلئے کئے جارہے  اقدامات کاخلاصہ کیا۔انہوں نے کہا کہ بھاجپا کی حکومت نے  ملک بھر میںاقلیتوں کا ستربرس سے جاری جذباتی استحصال ختم کیا اور انہیں تمام ترقیاتی اور بہبودی کاموں میں ’سب کاساتھ ،سب کاوکاس ،سب کاوشواس‘ کے تحت شامل کیا۔اندرابی نے کہا کہ سیاسی فائدوں کیلئے اقلیتوں خاص طور سے مسلمانوں کی زبانی ہمدردی نے انہیں ستر سال زندگی کے تمام شعبوں میں پیچھے رکھالیکن وزیراعظم نریندرمودی کی سیاست نے اقلیتوں کو تمام مین اسٹریم ترقیاتی پروگراموں میں شامل کیا اور ہمیں فخر ہے کہ ہم سات برسوں میں ہی اب اس کے نتائج دیکھ رہے ہیں ۔ڈاکٹر درخشان اندرابی نے کہا کہ سہ طلاق کو ختم کیا گیاجو کافی ضروری تھااور جس سے بھارت کے سماج میں مسلمان خواتین کے وقار میں اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ اب ہم مسلمان ترقی کررہے ہیں جو کبھی نہیں ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہند کی بہبودی اسکیموں سے تمام بھارتی بشمول پسماندہ اقلیتی طبقے  مستفید ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزارت اقلیتی امور کی خصوصی اقلیتوں کی تعلیمی اور اقتصادی بااختیاری کی اسکیموں سے مسلمان اب بھارت میں سماجی اور اقتصادی طور ترقی کررہے ہیں۔درخشان اندرابی نے کہا کہ اقلیتوں کااستحصال کرنے والے آہستہ آہستہ اب ووٹ بینک پر اپنی گرفت کھورہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ بی جے پی سے متعلق مسلمانوں میں کن گھڑت بیانیہ پھیلا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شکر ہے اکثریتی فرقہ اس  بے بنیاد بیانیہ کی طرف دھیان نہیں دے رہا ہے ۔  ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جموں کشمیرکی مسلم اکثریت اب علیحدگی کے اندھیرے سے باہر آرہی ہے اور سرحدپار سے تشدد کی شہ دینے کے باوجود لوگ ترنگا لہرا رہے ہیں۔