ملکیتی اراضی پر سکول تعمیر کرنے والے زمیندار وں کی کون سنے ؟ | محکمہ تعلیم رقومات کی ادائیگی میں ناکام ،متعدد عمارات برسوں سے تشنہ تکمیل

بانہال // ایس ایس اے سکیم کے تحت اپنے ہی پیسے سے اپنی ملکیتی آرضی پر سکول تعمیر کرنے والے لوگوں کو محکمہ تعلیم کی جانب سے ایک بھی پیسہ ادا نہیں کیا گیا ہے ،جس کی وجہ سے ان لوگوں کی جان پر بن آئی ہے۔ایسے  زمیندار نما ٹھیکداروںکا کہنا ہے کہ ایس ایس اے کی جانب سے انہیں بقایا رقومات ادا ہی نہیں کی گئی ہیں۔ضلع رام بن کے درجنوں ایسے افراد محکمہ تعلیم جموں اور رام بن دفاتر کے چکر کاٹ کاٹ کرتھک ہار چکے ہیں اور محکمہ کے عہدیداران ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں ۔ سکولوں کیلئے اپنی زمینیں عطیہ کرنے والے کئی زمینداروں نے کشمیر عظمیٰ ٰسے بات کرتے ہوئے کہا کہ 2014 سے 2018 تک ضلع رام بن کے کئی علاقوں کیلئے سکولی عمارتوں کو تعمیر کرنے کی منظوری دی گئی اور سکول کی اِن عمارتوں کو تیار کرنے کا کام یا ٹھیکہ اپنی ملکیتی آراضی دینے والے زمینداروں کو ہی دیا گیا اور انہوں نے قرض لیکربیشتر سکولی عمارتوں کو مکمل کیا لیکن لاکھوں روپئے کی بقایا رقومات کے معاملے میں محکمہ تعلیم سروا شکھشا ابھیان اب ٹال مٹول کررہا ہے۔مڈل سکول ہرواڑی نیل کی عمارت 2013 میں منظور ہوئی اور اسے 2018-19 میں مکمل کیا گیا ہے اور اس پر 9 لاکھ 89 ہزار روپئے کی رقم کا تخمینہ تھا اور آڑھائی لاکھ روپئے کی رقم ابھی محکمہ تعلیم سے واجب الوصول ہے۔ اٹھ لاکھ روپئے کی لاگت سے مڈل سکول وگن رامسو کی عمارت 2018 میں شروع کی گئی لیکن ابھی بھی آڑھائی لاکھ روپئے کی رقم بقایا ہے۔ مڈل سکول اپر چدوس نیل کی عمارت مکمل ہے مگر چار لاکھ روپئے سے زائد کی رقم محکمہ سے واجب الوصول ہے۔ انہوں نے کہا کہ مڈل سکول نرتھیال رقومات کی ادائیگی میں کی جارہی تاخیر کی وجہ سے سالوں سے مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے اور اس سکول کا کام انجام دینے والے آراضی مالکان کی بھاری رقم سروا شکھشا ابھیان والوں سے واجب الوصول ہے۔اسی طرح پرائمری سکول انرولہ رام بن ، پرائمری سکول گل باس رام بن ، پرائمری سکول بھگوت رام بن زیر تعمیر ہیں اور ان کی رقومات بھی ابھی بقایا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا اگست 2018 سے 2021 تک بقایا رقومات ادا ہی نہیں کی گئی ہیں جس کی وجہ سے قرض داروں نے ہمارے جینا حرام کر رکھا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ رقومات زونل دفتروں میں پڑی ہوئی ہیںلیکن اس رقم کو کمشنر سیکریٹری ایجوکیشن کے دفتر سے اپرول نہیں مل رہا ہے ۔ انہوں نے الزم لگایا کہ سیاسی بنیادوں اور اپروچ پر کئی لوگوں کی رقم واگذار کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رقم نہ دینے کی صورت میں وہ ان سکولوں میں اپنا ڈیرہ جمائینگے اور زمہ داری محکمہ تعلیم پر عائد ہوگی۔ آراضی دیکر سکول بنانے والے لوگوں نے بتایا کہ مزدوروں اور سیمنٹ ریت فراہم کرنے والوں نے ان کا جینا دوبھر کر دیا ہے اور محکمہ ایجوکیشن کے حکام چپی سادھے ہوئے ہیں۔اس سلسلے میں کوشش کے باوجود سروا شکھشا کے ایگزیکٹو انجینئر رام بن سے بات نہیں ہو سکی۔    
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔