ملّی اتحاد

قوم  اگر ایک جسم مانی جائے تو اس کی لطیف روح اجتماعیت، اخوت، باہمی مودت، جذبۂ ایثار اور اخلاص او ر جہدوعمل میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ یہ بارُوح جسم اپنی حیات اورحرارت کے لئے ایک مرکز ی شہ َرگ کا متقاضی ہوتاہے ، جس پرایک رئیس ِمرکز کی سلطنت قائم ہو تی ہے اور سارا جسم اس کے روبرو دست بستہ مطیع فرمان ہو تاہے ، جب کہ قومی زندگی کے اعلیٰ و ارفع مقاصد اس کے لئے غذا بنتے ہیں جن سے والہانہ لگاؤ میں قوم کی کا مرانی مضمر ہوتی ہے۔ اگر یہ سارے عناصر ترکیبی عنقا ہوں یا غیر متوازن ہوں یا کمزور ہوںیا باہم دگر موافقت کی بجائے مخاصمت پر تُلے ہوں تو بدن ہونے کو تو موجود ہوگا مگردولت ِروح اور امامت ِ رئیس سے یکسر محروم۔ اس جسم ناتواںسے کسی انقلاب یا تبدیلی کی توقع کرنا خیال ِعبث ہے۔ ملت اسلامیہ کو حدیث کی زبان میں ایک جسد واحد ہی بیان فرمایا گیا ہے اور جب تک اہل اسلام میں پوری مضبوطی اور قوت کے ساتھ وحدت ِملی قائم رہی اور قرآن و سنت دستور ان کا آئین ِ حیات بنارہا، ان کا جسم وجان دنیا پر غالب وحاکم بنارہا،  دنیا اُن کے سامنے سرنگوں رہی ، مسلمان شرق وغرب میں سربلند ہوئے ، لیکن جونہی یہ جسم اپنی اصل روح سے محروم ہوا تو تاریخ کا کچھ ایسا چکر یہ چکر چلا کہ ملت اسلامیہ کی اپنی حیات وحرارت کی شان اور اس کی منفرد شناخت بھی ختم ہوکے رہ گئی۔ یہ اللہ کا فضل وکرم ہے کہ مایوسیوں اور اندھیاروں کے باوجود اُمت کی تن ِمردہ میں نئی روح پھونکنے کے لئے ہر زمین و زَمن میں شب و روز دعوتی اور اصلاحی  کا وشیں ہوئیں۔ لیکن امت کی بیمار زندگی کے لئے ہر دوا محض اس لئے بے اثر ثابت ہو ئی ا ور ہو بھی رہی ہے کیوں کہ قرن اول سے بہ حیثیت مجموعی ہمارا فاصلہ بہت بڑھ گیا ۔ امام مالک ؒ کے اس قولِ زریں کا مفہوم ہی یہ ہے کہ قرن ِاول سے جڑے رہنا، اصحابِ رسول ﷺ سے روشنی حاصل کرنا ،قرآن وسنت سے مربوط و مضبوط رشتہ بنا لینا ہی، فلاح یابی کی نوید بھی ہے اور ضمانت بھی۔ سوال یہ ہے کہ ا گر ہم کلمہ خوان گلوب کے ہر سُو پھیلے ہوئے ہیں لیکن تسبیح کے دانوں کی طرح ہم یک جااور ایک ہی دھاگے میں پروئے ہوئے نہیں ۔ اسی لئے ڈیڑھ اَرب سے بڑھ کر ہماری تعداد آج اپنی اہمیت وافادیت منوانے میں قطعی نامراد کیوں؟ شاید دشمن کی ریشہ دوانیوں کے علاوہ اس کی ایک وجہ یہ بھی کہ ہم مسالک و مشارب اور رنگ و نسل ، قبیلہ و ذات برادر ی کے خانوں میں بٹ گئے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ قرآن و سنت سے روح وقلب کا رشتہ نہیں رہا۔ ان منابع ٔ ہدایت سے کٹ گئے ہیں ،اس لئے اب لُٹ رہے ہیں ،پٹ رہے ہیں ،روز کٹ بھی رہے ہیں ، آسمان بھی ہم پر دوآنسو بہانے پر آمادہ نہیں۔ ہماری تعداد و مقدار کس کام کی جب ہمارے دل ہی نہیں ملتے ، جب ہم بانت بانت بولیوں اور محلہ محلہ ٹولیوں  میں منقسم  ہیں ، حقیرمفادات کے اسیر ہیں ۔ قرآن نے تو صاف لفظٖوں میں انتشار وخلفشار کے نتائج سے ہمیں آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا’’اور آپس میں جھگڑا نہ کرو۔ تم بزدِل ہوجاؤ گے او رتمہاری ہوا اُکھڑ جائے گی اور یہ بھی ارشاد فرمایا :’’اور اُن لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور روشن دلائل آنے کے باوجود آپس میں اختلاف کرنے لگے یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے دردناک عذاب ہے‘‘۔
اللہ بچائے یہ روشن دلیل ہے جسے چنداں بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ آفتاب چمک دمک رہاہو او ر کوئی شخص آمد ِ آفتاب کی دلیل طلب کرے، اُسے مخبوط الحواس ہی کہیں گے۔ حق واضح ہے اور باطل بھی مبرہن ہے، حلال بین ہے اور حرام بھی آشکارا ہے، حق و حلال کے ساتھ جب تک ہم مربوط رہے، ہفت ِاقلیم کی حکمرانی ہمارے دروازے پر دست بستہ ایستادہ رہی ، لیکن باطل و طاغوت سے کم یا زیادہ رشتہ بنایا، حکمت و مصلحت کے نام پر اس سے تھوڑا یا بہت زیادہ ربط و تعلق قائم رہا تو آسمان نے ہمیں اوج ِ ثریا سے ہمیں زمین پر دے مارا کہ اب تک اپنے روحانی او راخلاقی وجود کے بکھرے حصے تلاش رہے ہیں۔ ہم وحدت اُمت کے بجائے اختلافات وتفرقات کے خود بھی شکار ہوئے اور کچھ مہربانوں کی سازشوں کی زد میں بھی آگئے ، کہیںمادی منفعت کے حصول میں کسی دامِ فریب میں پھنس گئے تو پھنس کے ہی رہے اور کہیں اپنے نفسِ امارہ کی غلامی نے نفس کے دوسرے غلاموں کے تلوے چاٹنے پر مجبور کیا۔ تسلیم، کہ ساری دنیا میں ہمیں ایک دوسرے سے لڑایا بھڑایا جارہا ہے۔ کون نہیں کہتا ، کون نہیں مانتا اور کون نہیںاس بدیہی حقیقت کا برملا اعتراف و اعلان بھی کرتا ہے ، تو پھر ہمیں یہ ہوا کیا کہ دشمن سامنے بے نقاب ، سازشوں سے بھی با خبر ، ان چیرہ دستیوں سے نکلنے کا علاج بھی معلوم لیکن پھر بھی ایک دوسرے کو  اپنے اذیت پسند دست و زبان کا شکار بنانے اور ننگے دشمن کی بھڑکائی آگ کو مزید ہوا دینے میں ہم کیوں مصروف عمل ہیں؟ یہ ہمارے اپنے گھناؤنے کردار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کیسی سوچ ہے کہ بیمار جاں بلب ہے مرض کے اسباب و علل سے بھی آگاہ ہیں اور شفایابی کا نسخۂ اکسیر بھی ہاتھ میں ہے لیکن اس بیمار ِ بے نوا کی کور بختی کہ دوا کے بجائے اسے زہر خورد نی پر مجبور کیاجارہا ہے ؟ ملت اسلامیہ کے لئے سرپھٹول ، رسہ کشی ، انتشار و افتراق زہر ناک نہیں تو اور کیا ہیں؟ باہمی حسد و رفاقت ہلاکت خیزی نہیں تو اسے اور کیا نام دیں ؟حق وصداقت سے اعراض سمِ قاتل نہیں تو کیا آبِ حیات کہلا ئے؟ بلند و بالا مساجد ہر قسم کی زینت وآزرائش سے آراستہ مگر صفیں کج، دل پریشان، سجدہ بے ذوق۔ خود ہی فیصلہ کیجئے، جب ہمارے سجدے بے ذوق ہوں ، قلوب ہی نہ ملے ہوں، جب صفوں میں قدم اور کندھے ایک دوسرے سے دور ہوں، تو یہ ملّی وحدت کہاں گئی ؟ ہماری نماز و عبادات کا ایک مقصد ہماری اجتماعیت کا اظہار بھی تو ہے ۔ اسلام اس حد تک اس کی تاکید و تلقین کرتا ہے کہ کندھے اور قدم آپس میں ملاؤ دل مل جائیں گے لیکن ہم اس عمل میں محو ہیں کہ مومنین کو عملی جوڑکے اس نقش ِ اول سے کیسے باز رکھیں ، اپنی ساری توانائیاں اس بات پر صرف کرتے ہیں کہ جس عمل سے توانائی حاصل ہو تی ہے ، اسی کے خلاف من پسند تاویلوں کے دفاتر لائیں تاکہ اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بھی بنی رہے ، مفادات کا چولہا بھی گرم رہے اور اپنے ’’علم و عرفان‘‘ کا طبلہ بجانے اور اپنی 
عا  لمیت کی دھاک بٹھانے کا دھندا بھی  پھلے پھولے ۔ وا حسرتا!
متفق علیہ حدیث نبوی ﷺ ہمارے سامنے ہے:’’مومنوں کے مثال ایک دوسرے سے محبت کرنے اور دوسرے کی خیر خواہی کرنے میں ایک جسم کی مانند ہے۔ ان میں سے جب کوئی عضو بیمار ہوتا ہے تو پورا جسم اس کے لئے درد کے ساتھ رت جگائی کرتا ہے۔‘‘
ایک اور موقع پر امام کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ایک مومن دوسرے مومن کے لئے عمارت کی مانندہے جس کا بعض، بعض سے تقویت حاصل کرتا ہے۔‘‘ 
اس آئینے میں اپنے کو دیکھ لیں صورت صاف نظر آئے گی ۔ آئینہ جھوٹ نہیں بولتا،تعلق داریوں کی بات کریںتو یہاں دوسرے رشتہ داروں ، دوستوں اور قرابت داروں سے اب مطلب کا رشتہ ہی باقی ہے ۔ اپنے سگے بہن بھائیوں کے ساتھ بھی رشتہ بس’’ نظریۂ ضرورت‘‘ کا تابع بن کے رہ گیا ہے ۔ ہم محلوں گلیوں کی سطح پر بھی بکھرے ہوئے ہوں تو عالمی سطح پر کیا خاک یکجا ہوں گے؟ کسی مسلمان پر بجلی گرے تو گرے، اپنے گھر کو محفوظ پاکر گھر میں گھی کے چراغ روشن کرتے ہیں۔ چلو ہم بچ گئے جناب! نہیں بچ گئے، یہ خام خیالی ہے، یاد رکھئے ہمارا کوئی بھی بھائی بند کہیں بھی عالم کفر کی زد میں ہو اور طاغوت و استبداد کے شکنجہ میں کراہ رہا ہو تو ہم وقتی طور اپنے کو صحیح سلامت پاکر خوشیاں منائیں ، یہ کہاں کی مسلمانی ہے ؟ کدھر کی دانائی ہے ؟ آج آگ کسی ایک کے گھر یابستی میں لگی ہے، اگر ہم نے اسے بروقت نہ بجھایا تو کل کلاں یہ ہمیں بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے ۔ چراغ سب کے بجھ جاتے ہیں ، ہوا کسی کی سگی سمبندھی نہیں ہوتی ۔ اس لئے بھی ہمیں ایک ہونا ہے تا کہ غلط اعمال وافکار کی آگ اور انتشار کا دھواں ہمیں بھی نہ لے ڈوبے !
قومیں اور اُن کی قیادت لمحہ بہ لمحہ اپنا احتساب کرکے اپنا لائحہ عمل طے کرتی ہیں۔ اقبال نے ایسی ہی اقوام کے بارے میں کہا تھا کہ اُن کی مثال دست ِقضا میں صورتِ شمشیر ہوتی ہے ۔ آج کی تاریخ میں کیا عالمی سطح پر ہماری کوئی متفقہ قیادت ہے ؟ اس سوال کاجواب حساس ذہن انسان کوخون کے آنسو رُلاتا ہے ۔ بے شک اب ہم میںعمر بن عبدالعزیز ؒ جیسی عبقری شخصیات پیدا نہیں ہوتیں اور نہ ہی کوئی ماں شاہ اسماعیل شہید ؒ جیسا بیٹا جنم دیتی ہے۔مومنوں کی اس بھیڑ میں کوئی شاہ فیصلؒ بھی نظر نہیں آتا جس کی بالغ نظری ،عالی ہمتی اور ارفع کردار اور اُمت کو ایک ہی پلیٹ فارم پر متحد ومنظم دیکھنے کی نیک آرزو نے اُمت کو واقعی جسد واحد بنادیا تھا۔ صیہونیت نے شاہ فیصل شہیدسے خطرہ بھانپ لیا اور خود ان کے گھر میں سے ایک نزدیکی عزیز کے ہاتھوں شاہ کو منصب ِشہاد ت پر پہنچوادیا ۔ ملت سلامیہ کو’’ نجات دہندوں‘‘ کے نام پر کتنی ہستیاں نمودار ہوئیں مگر پھر اُ  ن کی کارستانیاں اور دوکانداریاں ایسی گھناؤنی رہیں کہ ستم رسیدہ اُمت خود اُن کے شرور وفتن سے نجات کی دعائیں مانگنے لگی ۔ کتنے ہی بڑ ے بڑے دعوے کر نے والے لوگ کرسیوں پر براجماں ہو ئے اور مسندِ اقتدار پر کیا بیٹھ گئے کہ خود اس نحیف و نژاد اُمت پر قیامتیں ڈھا دیں، کرپشن ، کنبہ پروری ، بد عنوانی، اقربا نوازی اور جور و ظلم کے پچھلے ریکارڈ مات کئے ۔ اُن میں سے بہت سارے بہت کچھ خرابیاں ، بیماریاں ، مسائل کے خارزار، ایذاء رسانیوں کی روایات یہیں چھوڑ چھاڑ کر اپنا سیاہ کارانہ دفتر عمل ساتھ لئے سفرآخرت پر گامزن ہوئے ۔ ان کی سیاہ کاریوںکے بھدے اثرات سے کوئی سبق حاصل کئے بغیر اُمت کے ناتوان بدن سے خون کا قطرہ قطرہ چوسنے والے دوسرے مگر مچھ انہی روایات پر عمل پیرا ہیں۔ کس کس کا نام گنا جائے، عرب و عجم کے لاکھوں قلم اور کروڑوں زبانیں  روزاُن کو بے نقاب تو کردیتی ہیں لیکن ایک اُمت کے ہر صالح ضمیر فردکا یہ سوال ہوتا ہے کہ کیا اُن کی بے حیا ئی، بے شرمی اور بے ضمیر پر کوئی نقاب ہے بھی جو اُنہیں بے نقابی سے عار دلانے کی کاوشیں ہورہی ہیں؟ تاریخ کے درخشندہ ابواب کھول دیکھئے کہ کہاں سیدنا ابوبکر ؓ کا یہ فرمان کہ مجھے انہی زیب تن کئے بوسیدہ چادروں میں لپیٹ کر آخری آرام گاہ میں ابدی نیند سلا دینا کہ نئے کپڑے تو زندوں کے کام آتے ہیں، کہاں یہ زریں واقعہ کہ ۲۴؍لاکھ مربع میل پر حکمرانی کرنے والے عمر ابن الخطاب ؓ کے لباس پر پیو ندوں کی بہار اور بعد از وصال مقروض ثابت ہونے پر کچھ جائیداد کی فروختگی کے بعد قرضے کی ادا ئیگی اور کہاں آج یہ ملکوں کی حکمرانی سے لے کر صوبہ، حلقہ اور محلہ کی منصب داری تک سے کشیدہ خفیہ و اعلانیہ جائیدادیں ، بے شمار دولتیں اور مال و منال کے انبار ۔ یہ سب آیا کہاں سے؟ صرف عوام کا خون نچوڑ کر، لوگوں کا استحصال کر کے ، فرعونی طرز پر زیر دستوں کو تقسیم کرکر کے ہی ہوانا ۔ سہانے سپنے دکھاکر اور خوبصورت نعرے لگا کر مسند ِقیادت اور تخت ِحکمرانی پر بیٹھنے والے یہ خود غرض لوگ اصلاً ہماری ہی نا اتفاقیوں اور انتشار و افتراق کا ناجائز فائدہ اُٹھا کر ہماری گردنوں پر سوار ہوتے ہیں، اور ہم ہیںکہ اِنہی سوراخوں سے بار بار ڈسے جارہے ہیں۔ یہ اس لئے ہورہاہے کہ ہم میں وحدتِ فکر و عمل نہیں، اس لئے کہ جذبۂ اخوت و ایثار  ہم میں مفقود ہو چکا ہے، اُنسیت و مروت بس کتابوں کی اصطلاحیں رہ چکی ہیں، تعلق داریاں اور ہمددردیاں جیسے الفاظ اپنی معنویت کھوچکے ہیں، ہمیں اب کسی کا درد محسوس بھی نہیں ہورہا جیسے ہمیں حلال و حرام کی کسی تمیز کے بغیر حصولِ دولت کا کلوروفارم سونگھایا گیا ہے، محافلِ عیش  ونشاط اور بزم ہائے طرب کا انعقاد ہمارے جینے کا مقصد وحید ٹھہراہے، اتنا ہی نہیں بلکہ ان مایوس کن حالات میں بھی اگر کوئی دل انسانیت کے درد سے تڑپتا ترستا ہے، چیختا چلاتا ہے، ہمیں اپنے مراجعٔ ہدایت کی جانب بلاتا ہے تو حق دشمن عناصر بیک بینی ودوگوش اپنے مکر و فریب کا جال پھیلاکر ایسے مصلح، حق نواعالم ِدین اور مرد حق بین سے عوام کو بدظن کر نے کے لئے اُسے خود غرضی ، مطلبی ، عیار و بوالہوس، تند خو اور جھگڑالو  بتلانے میں کوئی باک محسوس نہیں کرتے۔ معاشرے میںعملاً یہ سوچ قائم کی گئی ہے کہ دین ایک فرد کا ذاتی معاملہ ہے جس سے سماج اورسوسائٹی کا کوئی لینا دینا نہیں ۔ ا س لئے قرآن وحدیث کی بنیاد پر اتحاد ِ ملت کی کوششیں یہاں بارآور ہونے ہی نہیںدی جاتیں کیونکہ دشمن عناصر سمجھتے ہیں کہ ملّی اتحادکا مطلب ہے سیا سی مگرمچھوں کی موت اور قومی مفادات کی دوکانداریوں کا جنازہ ۔یہی وہ صورت حال ہے جس گھر کر آج ہمارے روشن چراغ بجھ ر ہے ہیں اور ہمارے مستقبل کے ضامن پیوند خاک ہورہے ہیں ۔ قصہ کو تاہ یہ ایک داستانِ الم ہے جس کے کردار ہم سب بنے ہوئے ہیں۔ بایں ہمہ ہم دین اللہ کے دامن گرفتہ ہیں، ہم نے مکہ کے سنگلاخوں، طائف کی ظلمتوں اور بدر وحنین کی کلفتوں کے درمیان بھی مایوسی کو اپنے اندر راہ نہ دی کہ نومیدی کفر ہے۔ ہمار ایمان وایقان ہے کہ اسلام کا بول بالا ہوگا ، شریعت کا دوردورہ ہوگا ، سنگلاخ زمینوں سے حق کے گل بوٹے کھلیں گے بشرطیکہ ایمانی دعوت کا مردم سازکام جاری رکھا جائے، اصلاح کا نشتر متواتر ہمارے انفرادی واجتماعی وجود سے غلط افکار، بے اصل عقائدا ور انتشار کا فاسد مادہ نکالتا رہے، انسانیت کی مہک چاروں اطراف پھیلائی جائے ، ایک ودسرے کے ساتھ اسلامی اخوت کا مظاہرہ کیاجائے ۔ یہ سب ہو اتو وہ دن دور نہیں جب انسانوں کی اسی زمین ِشور سے وہ پھول کھلیں گے جن کی مہک انتشار و افتراق کی عفونت کو ختم کرکے رکھ دے گی ، محبت ومودت سے چمنستانِ انسانیت  لہلا اٹھے گی۔ اس کے لئے پہلی  ضرورت یہ ہے کہ ہم اتحاد والفت کی لڑی میں اپنے کو پروئیں ،ایک دوسرے کے خلاف الزامات واتہامات کا سلسلہ بند کریں، غلط فہمیوں کا فوری ازالہ کرنے کی تیر بہدف کوششیں کریں، عفو و درگزر کو شیوہ اور شعار بنائیں ، حسن اخلاق کی روشیں اپنائیں ، رویوں میں لچک پیدا کریں۔ یہ ممکن الحصول اہداف ہیں مگر جب ہم قرآن و سنت کو مرجع و مصدر مانیں ، انہی کی روشنی میںعقائد و اعمال درست کریں ، ایک دوسرے کو سمجھنے اور برداشت کرنے کی خوا پنے اندر ڈالیں، شخصی ، گروہی اور طبقاتی عصبیتوں سے بچیں، ہر شخص کے بارے میں حسن ظن سے کام لیں ،اختلافی امور میں سختی اور شدت کے بجائے نرمی و فیاضی کارویہ اختیار کریں اور ہر معاملے میں بس قرآن و سنت کا فیصلہ کے سامنے سرتسلیم خم کریں۔ یہی ہر مرض کا علاج اور ہر مسئلے کا دائمی اور پائیدار حل ہے     ؎
وہی دیر ینہ بیماری،  وہی  نامحکمی  دِل کی 
علاج اِس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے ساقی
فون نمبر9419080306