ملازمین کا سوشل میڈیا استعمال ،حکومتی قدغن پر مزاحمتی خیمہ اور مین سٹریم کی یکساں برہمی

 تانا شاہی حکم جسکا کوئی جواز نہیں:میر واعظ،ملک

نیوز ڈیسک
 
سرینگر//حریت (ع) چیئر مین میر واعظ عمر فاروق اورلبریشن فرنٹ چیئر مین محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ سرکاری ملازمین پر سماجی میڈیا کے استعمال کی پابندی کا تانا شاہی حکم شمالی کوریا کی آمریت کے ساتھ مناسبت رکھتا ہے۔منافق سیاست دان جو کبھی انسانی حقوق کی پامالیوں پر واویلا مچاتے اور جو ہیلنگ ٹچ اور خیالات کی جنگ کا راگ الاپ کر لوگوں کی ہمدردیاں بٹورتے تھے، نے غیر جمہوری احکامات صادر کرکے جموں کشمیر کو ایک فوجی آمریت میں تبدیل کردیا ہے جہاں ہر مخالف آواز کو طاقت کے بل پر دبانا ہی معمول بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے پہلے ہی جموں کشمیر میں ہر قسم کی سیاسی کاوشوں پر پابندی عائد کررکھی ہے، ہر قسم کے پرامن احتجاج کو پابند کررکھا ہے اور چھوٹی سے چھوٹی سیاسی مکانیت کو بھی مسدود کردیا ہے۔اب سرکاری ملازمین پر شکنجہ کسنے اور ان کی آواز دبانے کیلئے انہیں سوشل میڈیا پر انسانی حقوق پر بات کرنے نیز ظلم و جبر پر ماتم سے روکنے کیلئے ایک نیا نادر شاہی حکم جاری کردیا گیا ہے جو دنیا کے انسانوں کو حاصل ’اظہار رائے کی آزادی ‘ کے ہی منافی نہیں بلکہ ہر لحاظ سے ایک آمرانہ حکم ہے ۔انہوں نیکہا ہے کہ سرکاری ملازمین جو سماج کا حساس اور پڑھا لکھا طبقہ ہے کے اظہار رائے پر قدغن سرکار کی بوکھلاہٹ اور عوام کا سامنا کرنے میں اس کی ناکامی کا برملا اظہار ہے۔ جمہوریت کے نام نہاد دعوے کرنے والی سرکار نے پہلے سے ہی کشمیر میں فوجی طاقت کے بل پر عوام کو اپنے حقوق کے حصول کیلئے آواز بلند کرنے اور احتجاج کرنے کے حق سے محروم کر رکھا ہے ۔ جب بھی لوگ اپنے حقوق اور مطالبات کے لئے احتجاج کرتے ہیں تو انہیں قدوبند ، گولیوں اور پلٹ گنوں کے ذریعے خاموش کردیا جاتا ہے۔
 
 

خبردار!

اب ناک کٹے گی:شاہ فیصل

بلال فرقانی
 
    سرینگر //ڈاکٹر شاہ فیصل نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ وعدہ کرتے ہیں کہ آئندہ سے کوڈ زبان میں بات کریں گے۔شاہ فیصل نے کشمیری زبان کا سہار لیتے ہوئے فیس بک پر تحریر کیا’’آج سے میں کوڈیڈ زبان میںاپ ڈیٹ کروں گا،سنا ہے کہ فیس چلانے پر سرکاری ملازمین کا’’تلہ پت شلکھ‘‘ کیا جائے گا۔شاہ فیصل کے پیغام درج کرنے کے بعد ان کا تعاقب کرنے والوں ،جن میں کچھ حاضر سروس اور سبکدوش ملازمین بھی شامل ہے، نے طنزیہ اور مذاقیہ ردعمل پیش کیا۔ سنیئر سرکاری افسر شہزادہ بلال نے ڈاکٹر شاہ فیصل اور دیگر ملازمین کو خبردار کرتے ہوئے تحریر کیا اگر سماجی میڈیا پر وہ اپنا ضمیر اور ذہن استعمال کریں گے،تو انکی ناک کاٹ دی جائے گی۔انہوں نے لکھا’’خبردار ہوشیار، آج سے جائز رائے نامعتبر ہے،اگر کوئی فیس بل پر اپنے ضمیر اور ذہن کو استعمال میں لاکر پیغام درج کریگا،انکی ناک کاٹ دی جائے گی‘‘۔
 
 

 ناکامی اور نااہلی چھپانے کی مذموم کوشش

نیشنل کانفرنس، تاریگامی، انجینئر

 نیوز ڈیسک
 
  سرینگر//نیشنل کانفرنس ، محمد یوسف تاریگامی  اور انجینئر رشیدنے کہا ہے کہ سرکاری ملازمین پر سوشل میڈیاکے استعمال پر قدغن عائد کرنے کے حکومتی اقدام کو پی ڈی پی بھاجپا مخلوط اتحاد کی طرف سے حکومت کی ناکامیاں چُھپانے کا ایک ناکام حربہ ہے ۔این سی ترجمان جنید متو نے کہا ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی کے دور میں سوشل میڈیا کے استعمال پر قدغنیں عائد کرنا جمہوری قدروں کے منافی ہیں۔ جموں و کشمیر کا پشتینی باشندہ ہونے کے ناطے ایک سرکاری ملازمین کو اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے اور ایک شہری سرکاری ملازم ہونے کے باوجود ریاست اور سماج کے مختلف معاملات کے بارے میں اظہارِ رائے ظاہر کرنے کا حق رکھتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پی ڈی پی حکومت کو سرکاری ملازمین پر سوشل میڈیا کے استعمال پر قدغن لگانے کا کوئی بھی اخلاقی حق نہیں ۔جنید متو نے کہا کہ حکومت کا یہ تازہ فیصلہ پی ڈی پی بھاجپا اتحاد کیخلاف زمینی سطح پر پائے جارہے غم و غصے پر پردہ پوشی کرنے کے مترادف ہے۔سی پی آئی ایم کے محمد یوسف تاریگامی نے اسے پی ڈی پی بی جے پی اتحاد کی جارحیت پسندی اور آمرانہ ذہنیت قرار دیا  ہے۔تاریگامی نے کہاکہ ایسے وقت میں جب حکومت ریاست میں امن بحال کرنے کے بڑے بڑے دعوے کررہی ہے ،سوشل میڈیا پر بندشیں نہ صرف اس کے دعوئوں کی نفی کرتا ہے بلکہ لوگوں میں غم وغصہ کا موجب بھی بنے گا ۔ انجینئر رشید نے سرکاری ملازمین کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی مسترد کرتے ہوئے اسے اظہار رائے کے بنیادی حق پر حملہ قرار دیا ہے۔ انجینئر رشید نے کہا کہ سرکاری ملازمین کو جوابدہ بنائے جانے کا کوئی بھی اقدام خوش آئندہ ہے لیکن اس بات سے انکار ممکن نہیں ہو سکتا کہ سرکاری ملازمین کچھ اور ہونے سے قبل سماج کا حصہ اور اس دھرتی کے سپوت ہیں جو اپنے آس پاس کے حالات سے متاثر ہوئے بغیررہ سکتے ہیں اور نہ ہی ان حالات پر چپ رہ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب سرکاری طور لوگوں پر زیادتیاں اور ظلم ہورہا ہو تو سرکاری ملازمین ،جو سماج کا لاینفک حصہ ہیں،سے کس طرح خاموشی کی توقع کی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دنیا میں سوشل میڈیا کی اہمیت مسلمہ ہے اور اسکا استعمال انسانوں کے بنیادہ حقوق میں شامل ہوچکا ہے لیکن کشمیریوں کو اس حق سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔