ملازمین ، صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کو دھمکیاں

سرینگر// پولیس نے ہفتہ کے روز کہا  ہے کہ سرکاری ملازمین،صحافیوں،سماجی کارکنوں،وکلاء اور سیاسی کارکنوں کو دھمکیاں دینے والی مشینری  (کشمیر فائٹ۔ورڈ پریس ڈاٹ کام)
kashmirfight.wordpress.com
کے پیچھے خفیہ طور پر کام کرنے والے5افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس نے ان گرفتاریوں کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان افراد کے گھروں سے تلاشی کے دوران ڈیجیٹل سازوسامان ضبط کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ان میں ایک سرکاری افسر اور اسکے بیٹی و بیٹا بھی شامل ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ سرینگر میں صنعت نگر اور راج باغ ، حضرت بل میں بٹہ پورہ ،،ہال پلوامہ اور پونچھ جموں سمیت پانچ افراد کے متعدد مکانات اور جائیدادوں کی تلاشی لی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ مجاز عدالتی احکامات کے ذریعہ دیئے گئے تلاشی وارنٹ لیکر پولیس پارٹیوں نے مشتبہ احاطوں کی تلاشیاں لیں اور سیل فون ، ڈیجیٹل اسٹوریج آلات اور کمپیوٹنگ پلیٹ فارم کی ایک بڑی مقدار برآمد کی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صرف ایک گھر میں 32 موبائل فونز ، ایک ٹیبلٹ ، دو لیپ ٹاپ ، چار ہارڈ ڈسک اسٹوریج ساز و سامان ، 7 میموری کارڈز اور ایک ڈونگلبرآمد کئے گئے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ گرفتار کیے گئے پانچ افراد میں صنعت نگر سے تعلق رکھنے والے نازش یصرب رحمانی اور تابش اکبر رحمانی ، راج باغ سے صوفی محمد اکبر ، بٹہ پورہ حضرت بل سے پیرزادہ رقیف مخدومی اور پونچھ سے جاوید خالد شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا تھا کہ کشمیرفائٹ وارڈ پریس ڈاٹ کام جنگجوچلا رہے تھے جس کا کام سرکاری افسران ، صحافیوں ، سماجی کارکنوں ، وکلاء ، سیاسی کارکنوں کی ایک اسٹریٹجک ہٹ لسٹ تیار کرنا تھا جن کا جائزہ سنڈیکیٹ نے لیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس گروہ کا مقصدجموں و کشمیر پر ہندوستانی یونین سے علیحدگی اور اس کے حتمی طور پر پاکستان کے ساتھ وابستگی اور پاکستانی حمایت یافتہ جنگجویانہ پروگرام کو آگے بڑھانے اور برقرار رکھنا تھا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ سرغنوں کی گرفتاری اور ڈیجیٹل آلات کی  بڑی تعداد کی دریافت اور اس میں موجود اعداد و شمار کے تجزیہ کے ساتھ ، یہ توقع کی جارہی ہے کہ صحافی شجاعت بخاری ، ایڈووکیٹ بابر قادری اور بزنس مین ستپال نشچل کے قتل کے پیچھے حتمی منصوبے سامنے آئیں گے۔