مقتول فوجی اہلکار کے رشتہ داروں کا احتجاج

راجوری //مینڈھر کے چھجلہ علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک مقتول فوجی اہلکار کے رشتہ داروں نے احتجاج کرتے ہوئے پولیس پر سبھی ملزمان کی گرفتاری میں ناکامی کا الزام عائد کیا ۔ انہوںنے دھرنا دیتے ہوئے کہاکہ ملزمان کو فور ی طور پر گرفتار کیاجائے جو کئی ماہ سے مفرور ہیں ۔احتجاجی مظاہرین اور مقتول کی اہلیہ نے بتایاکہ محمد مطلوب ولد محمد عیسیٰ ساکن چھجلہ جوفوج کے ڈی ایس سی یونٹ کے ساتھ وابستہ تھا، کی چھٹی کے دوران رواں برس پانچ مئی کو سترہ افراد پر مشتمل نے ایک گروپ نے مار پیٹ کی اور وہ اٹھارہ مئی کو جموں میں دوران علاج دم تو ڑبیٹھا۔انہوں نے بتایاکہ اس کیس میں سترہ افراد کے خلاف کیس درج ہوا اور پولیس نے انہیں بتایاکہ تمام ملزمان گرفتار کرلئے گئے تاہم بعد میں یہ بات عیاں ہوئی کہ بارہ افراد گرفتار ہوئے ہیں اور پانچ مفرور ہیں جنہیں پولیس گرفتار کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے ۔مظاہرین نے بتایاکہ گزشتہ روز ان تمام پانچ ملزمان کو منڈی کی ایک زیارت میں دیکھاگیا جس بارے میں پولیس کو مطلع کیاگیااور پولیس کی ٹیم موقعہ پر گئی بھی تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ۔انہوں نے کہاکہ مفرور ملزمان کی فوری طور پر گرفتاری عمل میں لائی جائے ۔احتجاج کو دیکھتے ہوئے سب ڈیویژنل پولیس افسر مینڈھر ریاض احمد تانترے موقعہ پرپہنچے اور انہوں نے مظاہرین کو بتایاکہ سترہ افراد کے خلاف کیس درج کیاگیاہے اور پولیس کی طرف سے پہلے سے ہی چالان پیش کردیاگیاہے ۔انہوں نے بتایاکہ پانچ ملزمان گرفتاری سے بچنے کیلئے مفرور ہیں جن کے خلاف سیکشن 512سی آر پی سی کے وارنٹ جاری کئے گئے ہیں ۔انہوںنے یقین دلایاکہ ان پانچ ملزمان کو بھی بہت جلد گرفتار کرلیاجائے گا۔اسی یقین دہانی پر مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوئے اور احتجاج ختم کردیاگیا۔