مفسر قرآن مفتی فیض الوحید کاانتقال | کئی دینی سیاسی اور سماجی شخصیات نے دکھ کا اظہارکیا

 تھنہ منڈی // گوجری زبان میں قرآن پاک کا ترجمہ کرنے والے مشہور عالم دین مفسر قرآن مفتی فیض الوحید قاسمی کے انتقال پر کئی سیاسی ،سماجی اور مذہبی شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کیلئے دعائے مغفرت کی ہے ۔غور طلب ہے کہ مرحوم کئی چھوٹی بڑی کتابوں کے مصنف اور شریعت اسلامی پر عبور تھا اور وہ جموں میں قائم مرکز معارف القر آن نامی ادارے کے سرپرست بھی تھے معروف عالم دین مفتی فیض الوحید سنہ 1966 میں صوبہ جموں کے ضلع راجوری کے گاؤں دوداسن بالا میں پیدا ہوئے ۔مفتی فیض الوحید کے انتقال پر تھنہ منڈی کے مختلف طبقہ ہائے فکر سے وابستہ افراد اور علمائے کرام نے گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔ تمام مکاتب فکر کے علماء ِ کرام اور عوام نے غمزدہ کنبہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم مفتی کی جنت نشینی کیلئے دعا کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مفتی موصوف کی وفات نے سماج میں وسیع خلاء پیدا کیا ہے ، وہ عظیم عالم دین اور مفکر تھے جنہوں نے ہزاروں لوگوں کو متاثر کیا اور اسلام کے امن وسلامتی کے پیغام کو عام کرنے میں اپنی ناقابل ِ فراموش خدمات انجام دیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ مفتی ایک ممتاز اسلامی اسکالر اور معروف مقرر تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی قرآن وحدیث کے مطابق سادگی، عاجزی اور انکساری کے ساتھ زندگی جینے کا درس دیا اور اخلاقی اقدار کی بالادستی پر زور دیتے رہے۔ انہوں نے اس سانحہِ عظیم اور ملی نقصان پر گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے جملہ سوگواران خصوصاً اہل خانہ کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے بلند درجات اور جنت نشینی کی دعا کی ہے۔