مغل شاہراہ۔۔۔۔ مسافروں کی تکالیف دور کرنے کی ضرورت!

خدا خدا کرکے پانچ ماہ سے بھی زائد عرصہ کے بعد مغل شاہراہ پر ٹریفک تو بحال ہوگیا ہے لیکن چیکنگ کے نام پر مسافروں کو روزانہ 5 گھنٹوں سے بھی زیادہ وقت تک پوشانہ کے مقام پر روکے رکھنے کی کہیں کوئی مثال نہیں ملتی۔ پچھلے چند روز سے مسلسل یہ دیکھا گیا ہے کہ فوج اور پولیس کی طرف سے بفلیاز اور پیر گلی کے درمیان واقع پوشانہ کے مقام پر قائم چیک پوسٹ پر گاڑیوں اور مسافروں کی انتہائی سست روی سے چیکنگ کی وجہ سے اس جگہ بدترین ٹریفک جام لگتے ہیں اور مسافروں کو بعض اوقات 5گھنٹے سے 6 گھنٹے تک رکے رہنا پڑتا ہے اور جو مسافت محض 4 گھنٹوں میں طے کی جاسکتی ہے وہی سفر 12 گھنٹے سے کم مدت میں طے نہیں ہورہا۔ اس اذیت ناک چیکنگ سے روزانہ ہزاروں کی تعداد میں مسافر پریشان ہوتے ہیں اور وہ وقت پر اپنی اپنی منزل بھی نہیں پہنچ پاتے۔ سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ مریض اور معصوم بچوں کو بھی پریشان کیا جاتا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ مغل شاہراہ کا وہ مقام ہے جہاں نہ ہی موبائل نیٹ ورک کام کرتا ہے اور نہ ہی کھانے پینے کیلئےکچھ دستیاب ہے۔ خواہ مخواہ میں پیدا کئے جارہے اس ٹریفک جام کے باعث سفر کررہے بچے جہاںبھوک و پیاس سے بلکنے لگتے ہیں وہیں مریض درد سے جاں بلب ہورہے ہوتے ہیں اور افسوسناک بات یہ ہے کہ ان کو کوئی مدد نہیں ملتی۔ حالانکہ پوشانہ میں تلاشی کا یہ عمل کئی سال سے چل رہاہے اور ہر گزرتے برس مسافروں کے ساتھ سختی ہی برتی جاتی ہے لیکن ٹریفک کے حوالے سے جو بدنظمی اس مرتبہ دیکھی گئی ہے اس کی مثال ٹریفک جام کیلئے مشہور جموں سرینگر شاہراہ پر بھی نہیں ملتی۔ پوشانہ میں ہر ایک گاڑی کی روایتی طریقہ سے چیکنگ کرنے اور مسافروں کی شناختی جانچ و گاڑی کا فوٹو اٹھانے کے عمل میں لگ بھگ 5 منٹ لگ جاتے ہیں اور شاہراہ پر گاڑیوں کی بہتات سے پیچھے کئی کلو میٹر طویل قطار لگ جاتی ہے جو کم ہونے کے بجائے متواتر بڑھتی جاتی ہے جس کے نتیجہ میں مسافروں کو شام وہیں ہوجاتی ہے۔ اس طرح کی پریشان کن صورتحال سے خطہ پیر پنچال میں شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے تاہم حکام ٹس سے مس نہیں ہوتےاور نہ ہی مسافروں کو روز روز پیش آرہی مشکلات کے حل کیلئےانتظامیہ میں کوئی سنجیدہ طرز فکر پایا جاتاہے۔ صرف مسافروں کو ہی نہیں بلکہ بوائلر مرغوں اور دیگر سبزیوں وغیرہ کا کاروبار کرنے والے تاجر بھی بُری طرح سے متاثر ہورہے ہیں اور روزانہ بڑی تعداد میں مرغے مر جاتے ہیں جنہیں وہیں شاہراہ پر پھینک دیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ جموں سرینگر شاہراہ پر عائد کی گئی بندشوں کی وجہ سے بھی مال بردار ٹرکوں سمیت  بڑی تعداد میں گاڑیاں مغل روڈ کے راستے سے سفر کرنے پر مجبور ہیں اور ہزاروں گاڑیوں کی سست روی سے چیکنگ ٹریفک جام کا باعث نہیں بنے گی تو اور کیا ہوگا۔ سیکورٹی چیکنگ بھی لازمی ہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا لیکن اس کیلئے تب روایتی طریقہ کار نہیں اپنا یا جاسکتا جب شاہراہ پر ٹریفک کا  بوجھ بہت زیادہ ہو بلکہ اس کیلئے جدید طریقہ کار استعمال کیا جانا چاہئے تاکہ گاڑیوں کی چیکنگ کا عمل تیزی سے انجام پا سکے اور مسافروں کو اس اذیت ناک سفر سے نجات مل سکے۔