مغل شاہراہ…تیراقصورکیاہے؟

مغل شاہراہ ایک خواب تھاجوشرمندۂ تعبیرہونے کے بعدایک ڈرائوناخواب ثابت ہورہی ہے،ایساماناجارہاہے اورایسامحسوس کیاجارہاہے کہ خطہ پیرپنجال کی تقدیربدلنے کی صلاحیت رکھنے والی یہ شاہراہ خطے کی تصویربگاڑرہی ہے ،نئی اُمیدوں کوجگانے ،نئی راہیں ہموارکرنے کی سی صلاحیتیں رکھنے والی اس شاہراہ کے تئیں حکومتی عدم توجہی اورکشمکش نے خطے کے عوام کیلئے مصائب پیداکررکھے ہیں،بارہ ماہ ٹریفک کی نقل وحمل کیلئے اِسے بحال کرنے میں مرکزی حکومت کی سردمہری نے عوام میں طرح طرح کے خدشات پیداکررکھے ہیںاوریہ مسلسل سردمہری اب مسائل بڑھاتی ہی جارہی ہے،یقینااس شاہراہ کی تعمیرنے خطے کے عوام کو بڑی راحتیں دی ہیں، کشمیرکیساتھ روابطے بڑھے ہیں،علاج ومعالجہ کیلئے کشمیرپہنچناجموں کے برعکس بہتراورآسان بنایاہے ،راجوری۔پونچھ کے عوام جموں پرسرینگرکوترجیح دیتے ہیں کیونکہ جموں کے مقابلے میں بہت کم مسافت طے کرکے وہ سرینگر پہنچ جاتے ہیںجہاں اُنہیں بہترعلاج ومعالجہ دستیاب ہے، خطے کے عوام کومغل شاہراہ کی بدولت کشمیرکاپھل میوہ بھی مناسب داموں میں اورکم لاگت میں دستیاب ہوتاہے،لوگ اپنے رشتہ داروں سے ملنے بھی آجاسکتے ہیں لیکن یہ تمام ترسہولتیں انتہائی قلیل مدت کیلئے دستیاب رہتی ہیں کیونکہ جونہی موسم سرمادستک دیتاہے تومغل شاہراہ پرٹریفک نظام ٹھپ ہوجاتاہے،برفباری ہوتے ہی مغل شاہراہ ایک بھولابسراگیت بن جاتی ہے اور آرپارزندگی پھرسے تھم سی جاتی ہے، عوام کو پھرسے گوناں گوں مصائب کاسامناکرناپرتاہے۔موسم برسات میں بھی شاہراہ پرٹریفک نظام درہم برہم رہتاہے،ایسے میں برسوں کی جستجوکے بعد تعمیرہوئی اس شاہراہ کے ثمرات خطے کے عوام کیلئے ہنوزکھٹاس بھرے ثابت ہوئے ہیں،مغل شاہراہ کاخواب شرمندہ ٔ تعبیرہونے کے دہانے پرپہنچتے پہنچتے ایک ڈرائونے خواب کی جانب گامزن ہے جس کی ایک بڑی وجہ اورخدشہ اس شاہراہ سے پونچھ راجوری میں بڑھتی منشیات کی لعنت بتائی جارہی ہے،خطے کی نوجوان نسل منشیات کی لت میں لت پت ہے،لیکن یہاں یہ ذہن نشین کرناہوگاکہ اس وباء کیلئے یہاں صرف مغل شاہراہ کو موردِ الزام ٹھہرانابھی مناسب نہیں کیونکہ جرائم ومنشیات جیسی لعنت سے پاک معاشرے کی تعمیرکیلئے نہ صرف قانون نافذکرنے والے اِدارے ذمہ دارہیں بلکہ سماج کی بھی اپنے تئیں کچھ ذمہ داریاں ہیں جنہیں سمجھنے اورنبھانے کے بجائے ہماری اولین ترجیح حکومتی مشینری پرالزام تراشیاں بن چکی ہیں،والدین اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت اوراُنہیں ایک مہذب شہری بنانے کیلئے اپنی ذمہ داریوں سے راہِ فرار ااختیارکررہے ہیں،سماج کاباشعور طبقہ معاشرے میں سراُتھاتی برائیوں سے اپنی نظریں چرائے ہوئے ہے اور وہ بھی حکومت،پولیس،شاہراہ پرہی تمام ترٹھیکراپھوڑنے میں مشغول ہے،خطہ پیرپنجال کو’اُڑتاپیرپنجال ‘بنانے کے پیچھے کون لوگ کارفرماہیں، کون لوگ مغل شاہراہ کوحقیقی معنوں میں بارہ ماہ ٹریفک کیلئے بحال رہنے والی ایک قومی شاہراہ بنانے میں رُکاوٹیں پیداکررہے ہیں،ایسے کون سے عناصرہیں جوخطہ پیرپنجال کے عوام کو کئی دہائیوں بعد مغل شاہراہ کی صورت میں ملی اس نعمت کو لعنت بنانے کیلئے جی توڑ کوششیں کررہے ہیں، ایسی سازشوں کوبے نقاب کرنے کی ضرورت ہے،خطے کی معروف سماجی،سیاسی ،دینی ودیگرمذاہب کی عظیم وسرگرم ہستیوں کوایسی مذموم سازشوںکوبے نقاب کرنے کیلئے اپناکردار نبھاناہوگا،آخرکیاوجہ ہے کہ راجوری پونچھ کی تعمیروترقی اورخوشحالی میں نئے باب کااضافہ کرنے والی مغل شاہراہ کوبدنام کیاجارہاہے،اوراس شاہراہ کوخطے کیلئے آبادی کے بجائے بربادی والی شاہراہ کی جانب موڑنے کی کوششیں کی جارہی ہیں،برسوں تک جوسیاسی رہنمااس شاہراہ کی تعمیرکاسہرہ اپنے سرباندھنے کیلئے سرپھٹول کرتے رہے ہیں وہ بھی آج اس شاہراہ سے پیداہونے والے مسائل اورشاہراہ کی تعمیرپرحکومتی سردمہری پرلب کشائی سے گریزکررہے ہیں، آخرمغل شاہراہ کاقصورکیاہے؟اورکیاقصورہے خطہ پیرپنجال کے عوام کاجن کے روشن وتابناک مستقبل کی راہیں ہموارکرنے والی مغل شاہراہ کے تئیں اس قدربے رُخی اپنائی جارہی ہے؟۔