مغرب کا صلیبی تعصب | مسلم اُمہ کیخلاف کثیر الجہت منصوبہ بندی

عالم اسلام پچھلی ایک صدی سے ارتعاش اور سیاسی اضطراب کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔پہلے پہل سامراجی قوتوں نے شکنجہ کسا تو اکثر مسلم ممالک پھنس گئے ،پھر کیا تھا کہ ایک طویل المدتی جدو جہد جس میں ناقابلِ تلافی جانی و مالی نقصان ہوا۔اسی سامراجیت کی یلغار نے نت نئے وحشت ناک کھیل مسلم دنیا میں کھیلے۔خلافت کو شق کیا، ممالک کو توڑا، مسلکی منافرتوں اور قومیت کی بنیاد پر پلنے والی تحریکوں کو فروغ دیا.المختصر عالمِ اسلام میں جدید المناک حادثات واقع ہونے کی کامیاب بناء ڈالی۔مغرب میں ایسی مسلم مخالف تنظیمیں اور تھنک ٹینکس معرض وجود آئے جن کا کام صرف مسلم ممالک کو پسماندگی کے دلدل میں پھانس کے رکھنا تھا تاکہ آزادی حاصل کرنے کے باوجود وہ نو سامراجیت کی چکی میں پستے رہیں۔مغربی سامراجیت کی متنوع شکلوں میں صلیبی غصے کا اظہار کئی صدیوں کا مسلمانوں کے خلاف پکا ہوالاوا تھا جس کا پھیلاو عالم ِ اسلام پر اس طرح ہوا کہ امت مسلمہ مغلوب و محکوم ہو کے احساسِ آزادی سے محروم رہ گئی۔جس احساس کی کمی کا آج بھی امت کو سامنا ہے۔
مغرب کا صلیبی تعصب ہمیشہ سے مسلم دنیا کے خلاف کام کرتا آیا ہے۔یہی صلیبی تعصب و نفرت مغرب آج بھی مسلمانوں کے خلاف مختلف شکلوں میں نمودار ہوتا رہاہے۔امریکہ کا نیو ورلڈ آرڈر،اسلامی بنیادپرستی، وار آن ٹئرر وغیرہ سب اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔اس صلیبی تعصب کا تاریک پن اتنا گہرا ہے کہ اس میں سے گوہر خلوص تلاش کرنا ایل ڈوراڈو (Eldorado)کو دریافت کرنے کے مترادف ہے۔مغرب سرے سے یہ نہیں چاہتا ہے کہ مسلمان کسی بھی اعتبار سے ترقی کر سکیں۔مغرب نے بظاہر جو سیکولرازم، لادینیت اور جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کے دنیا کو فریب دے رکھا ہے یہ دراصل اسلام کا بہر صورت مقابلہ کرنے کے لئے مختلف ہتھیار ہیں۔ان ہتھیاروں سے لیس ہو کر مغرب نے نشانہ مسلم دنیا پہ سادھا اور پوری طاقت کے ساتھ حملہ آور ہوا۔گیارہ ستمبر، افغان جنگ، عراق جنگ، یمن جنگ، شامی المیہ اور مسلم دنیا میں موجودہ انتشار تمام تر سانحات صلیبی محرکات کے نتائج ہیں۔نیو ورلڈ آڈر کا خفیہ خوفناک منصوبہ صلیبی و صہیونی اتحاد کا مشترک عالمی ہتھکنڈا ہے جس سے عمومی طور پوری دنیا کو اور خصوصی طور عالم اسلام کو غیر فعال بنائے جانے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔بعض اوقات میں یہ سوچتا ہوں کہ موجودہ کرونا کی وبا بھی کہیں شاید اسی لابی کا کوئی کام تو نہیں جس نے پوری دنیا کو معاشی طور معذور کردیا ہے۔اس متحدہ انسانیت مخالف محاذ سے یہ کام بھی کسی ناممکنات میں سے نہیں کہ جس کو کرنے سے یہ گریز کریں۔
امریکہ کے سابق صدر جارج بش نے جس سفاکی کے ساتھ افغان  اور عراق جنگ کو صلیبی جنگ قرار دے کر لاکھوں معصوموں کا قتل کیا تھا، اس سے کہیں زیادہ خوفناکی کے ساتھ بارک اوبامہ اور ٹرنپ نے مسلم دنیا کو مٹانے کی کوشیشیں کی۔مذکورہ تمام سابق صدور صلیبی صہیونی ایجمڈوں کی تکمیل کے لئے اپنے حصے کو کام کر چکے ہیں اور اب نئے منتخب ہونے والے صدر جو بائڈن کی صلیبی صہیونی عزائم کی تکمیل کی باری ہے۔یاد رہے کہ امریکہ کا ہر صدر صرف شکل و صورت میں مختلف ہوتا ہے لیکن ان کے صلیبی مقاصد،عزائم،پالیسیز اور لائحہ عمل میں سر مو اختلاف نہیں ہے۔
صلیبی طاقتیں مسلمانوں کے ایمان ،جان اور مال کے پیچھے ہاتھ دھو کے پڑے ہیں۔عیسائی مشنریز اور ہالی وڈمسلمانوں کے ایمان کو تباہ کرنے کی دوڑ میں ہیں۔جان اور مال کی تباہی کے لئے امریکہ کی نگرانی میں دیگر یورپی ممالک مشرقی وسطی اور جنوبی ایشیاء میں اپنی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔مغرب بہر صورت مسلمانوں کو مغلوب کرنے پر تلا ہوا ہے۔مغرب کا حکمران طبقہ صہیونی اور صلیبی خفیہ تنظیموں کا نمائندہ ہونے کے ناطے تاہنوز کوئی ایسا امید افزا قدام نہ کر سکا جس سے عالم اسلام میں جاری ناقابل فہم ہلچل میں کوئی کمی واقع ہوتی۔آمریکہ کے ہر صدر کی نکیل ضرور کسی نہ کسی صہیونی صلیبی تنظیم کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔
مغرب جتنا سائنس اور ٹیکنالوجی پر ایمان رکھتا ہے اس سے کہیں زیادہ اعتماد اپنے تحریف شدہ مذہب پر رکھتا ہے۔ان کی مذہبی کتب میں کہ گئی پیشن گوئیوں کے ظہورکے لئے انہوں نے اپنی طرف سے ہر ممکن انتظام کر رکھا ہے۔
مغرب نہیں چاہتا کہ مسلمان سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں کوئی خاطر خواہ فعل انجام دے پائیں جس سے مسلم دنیا آنکھ سے آنکھ ملا کے بات کرنیکی پوزیشن حاصل کر سکے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مغرب اسلام کو ایک خطرناک مذہب متصور کرتا ہے جس کا بروقت مقابلہ کرنا از حد ضروری ہے۔ سموئیل۔ہنٹنگٹن نے اپنی کتاب 'تہذیبوں کے ٹکراؤ' (Clash of Civilizations) میں لکھا ہے کہ:" مغرب کے لیے اصل مسئلہ اسلامی بنیاد پرستی نہیں بلکہ اسلام ہے، جو اپنی ایک الگ تہذیب رکھتا ہے اور وہ تہذیب مغربی سے بالکل مختلف بلکہ متصادم ہے۔ اس تہذیب کے پیرو یہ پختہ یقین رکھتے ہیں کہ اسلامی تہذیب دوسری تمام تہذیبوں سے برتر ہے، ان پر فوقیت رکھتی ہے۔  اس نے یہ بھی لکھا ہے کہ مستقبل میں اسلام مغرب کا اسی طرح حریف ہو گا جس طرح کبھی کمیو نزم تھا بلکہ اس سے زیادہ خطرناک حریف ثابت ہو گا۔"مغرب نے جس طرح سے متحد ہوکر دوسری صلیبی جنگ لڑی تھی آج بھی اسی طرح مغرب مسلمانوں کے خلاف علمی و تہذیبی جنگ لڑ رہا ہے۔مغرب میں مسلمانوں کو پسماندہ رکھنے کے لئے بے شمار تنظیمیں کام کررہی ہیں۔ان تنظیموں کا کام صرف اسلام اور مسلم دشمنی پر مبنی ہے۔
مغرب نے مسلم دنیا میں ہنگامی صورتحال پیدا کرکے وہاں کے اعلی علمی اداروں کے کام کو روک کے رکھنے کا زبردست گھناونہ فعل انجام دیاہے۔مغرب پچھلے دو تین صدیوں سے جس اخلاقی زوال کی لہروں میں ٹھوکریں کہا رہا ہے وہ اب اس کے لئے ہر نوع کے زوال کی وجہ بن چکا ہے۔مذہب و اخلاق کا جو مذاق مغرب نے اڑایا اس سے تو شرف انسانیت پامال ہوچکی ہے۔اس اخلاقی زوال کی انتہا کے بارے میں اور کیا کہا جا سکتا ہے جہاں پر آبادی کی کثیر تعداد حرام زادوں پر مشتمل ہو،شرم وحیا کا بیڑا غرق ہو چکا ہو اور معاشرے کا روحانی اخلاقی ڈھانچہ بوسیدہ ہو چکا ہو۔معروف تجزیہ نگار اور اسکالر ڈاکٹر سمیع اللہ ملک صاحب کے مطابق انگلستان کی 58فی صد آبادی اور فرانس کی 60فی صد آبادی حرام زادوں پر مشتمل ہے۔انہوں نے مزید یہ کہا کہ "مغرب میں میں پچھلے 30-35سال سے رہ رہا ہوں لیکن یہاں کوئی جنت نہیں ہے جیسا کہ مشرق میں بیٹھے ہوئے لوگ خیال کرتے ہیں ."
اخلاقی پستی کے اس مقام پر مقیم مغرب اسلام اور مسلمانوں کے لئے نفرت اور تعصب کا گوشہ رکھتا ہے۔مغرب میں بے شمار ایسی اسلام مخالف تنظیمیں ہیں جن کا شب وروز کا مشغلہ اسلام اور مسلمانوں کے متعلق غلط فہمیاں پیدا کرنا ہے۔صرف امریکہ میں 42 اسلام دشمن تنظیمیں ہیں۔جن میں اے۔سی۔ٹی فار امریکہ ،سینٹر فار سیکورٹی پالیسی،بمب اسلام وغیرہ معروف ہیں۔دی گارجین اخبار نے 2019میں "ہوپ ناٹ ہیٹن"(Hope not Hate) نامی تنظیم کی ایک رپورٹ شائع کی تھی جس کے مطابق 35فی صد برطانوی عوام اسلام کو اپنی طرز زندگی کے لئے خطرہ سمجھتی ہے۔فرانس میں ایک غیر منافع تنظیم "کلیکٹیو اگینسٹ اسلاموفوبیا ان فرانس"(I.C.C.F)کی رپورٹ کے مطابق فرانس میں سال 2019میں 1043اسلاموفوبک واقعات واقعہ ہوئے جو 2017سے گذشتہ سال کے درمیان 77فی صد کا اضافہ ہے.اگر جرمنی کی بات کی جائے وہاں اس سال کے دوسرے سہہ ماہی حصے میں 188مسلم مخالف واقعات ریکارڈ کئے گئے۔جن میں 40واقعات صرف برلن میں واقع ہوئے۔اپریل اور جون کے درمیان 15مساجد پر حملہ کیا گیا اور درجنوں مسلمانوں پر جان لیوا حملہ کیا گیا۔یاد رہے جرمنی میں45 لاکھ سے زائد مسلمان بھی بستے ہیں۔اسٹریا میں مسلم مخالف واقعات میں 74فیصد اضافہ ہوا ہے۔مغرب کا وار آن ٹیرر دراصل وار آن مسلم ہے جس کی آڑ میں مسلمانوں کا عرصہ حیات پوری دنیا میں تنگ کر دیا گیاہے خصوصاً دین سے لگاو رکھنے والے مسلمانوں کا جن کو مغرب حضرت علامہ اقبال کی زبانی بہت بڑا خطرہ سمجھتا ہے :
ہے اگر مجھکو خطر تو کوئی اس امت سے ہے 
جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرار آرزو 
مغرب کے اس صلیبی رجحان کا سب سے بڑا روح رواں بلا اختلاف امریکہ ہے۔امریکہ میں اس طرح تو سینکڑوں کی تعداد میں تھنک ٹینکس موجود ہیں لیکن ان میں 26ایسے ہیں جن کی پالیسیز بالواسطہ یا بلاواسطہ عالم اسلام پر مو ثر ہیں یا یہ کہ ان کا کام ہی صرف مسلم مخالف ایجنڈے کی تکمیل ہے۔ان میں سے چند کا میں ذکر کئے دیتا ہوں۔جیسے جئویش انسٹیٹیوٹ فار نیشنل سیکورٹی افیئرز (JINSA) کا متعین قصد مشرقی وسطیٰ اور بحیرہ روم میں اسرائیل کی مدد سے امریکی مفاد کا دفاع ہے۔امریکن اسرائیل پبلک افئیرس کمیٹی (AIPAC) ایک لاکھ افراد پر مشتمل یہ تنظیم اسرائیل کی زبردست حامی ہے۔پروجیکٹ فار دی نیو امریکن سنچری (PNAC) کا نصب العین پوری دنیا میں امریکہ کی لیڈرشپ ہے جو اس کے مطابق امریکہ اور پوری دنیا کے لئے  نہایت مفید ہے.رینڈ کارپوریشن (RAND) امریکہ کا سب سے زیادہ ذہین اور بااثر تھنک ٹینک ہے جس کے متعلق سولجرس آف ریزن (Soldiers of Reason) کے مصنف ایلکس البیلا نے لکھا ہے :"اگر آپ سوچتے ہیں کہ انٹرنیٹ سیلیکان ویلی (Valley  Silicon ) سے ابھرا ،ناسا نے پہلا سیٹیلائٹ خلا میں بھیجا یا آئی بی ایم (IBM)نے جدید کمپیوٹر ایجاد کیا توآپکو دوبارہ سوچنا چاہئے۔ان تمام ایجادات کا منصوبہ پہلے رینڈ میں تیار ہوا جو سنتا مونیکا، کیلیفورنیا میں واقع ایک تھنک ٹینک ہے. " رینڈ امریکہ کی ہر نئی حکومت کو لائحہ عمل مرتب کر کے دیتا ہے جس کے مطابق چلنے کی وہ مکلف ہے۔امریکی کانگریس میں ان مختلف تھنک ٹینکس کے نمائندے ہوتے ہیں جو اپنے متعلقہ تھنک ٹینکس کی آراء سامنے رکھتے ہیں۔امریکہ میں اگرچہ صرف دو پارٹیاں انتخاب میں حصہ لیتی ہیں لیکن ان سے منسلک افراد فکری طور کسی نہ کسی تھنک ٹینک سے ضرور وابستہ ہوتے ہیں اور اپنے پیرنٹ تھنک ٹینک سے انتخاب جیتنے کے لئے مالی امداد بھی حاصل کرتے ہیں۔جیسے نیو یارک ٹائمز کے مطابق صدر ٹرمپ کو مختلف امور میں ہیریٹیج فاؤنڈیشن نامی ایک تھنک ٹینک نے مدد فراہم کی تھی۔
رابطہ۔[email protected]