مغرب نے یوکرین فوج بھیجی تودنیا بھر میں جنگیں چھِڑ جائیں گی: پوتن

یو این آئی

ماسکو// روس کے صدر ولادی میر پوتن نے کہا ہے کہ” اگر مغرب نے یوکرین میں فوجی بھیجے تو یورپ میں بھی اور دنیا بھر میں بھی شدید جھڑپیں شروع ہو جائیں گی”۔صدر پوتن نے دورہ ازبکستان کے دوران دارالحکومت تاشقند میں روسی ذرائع ابلاغ کے سوالات کے جواب دئے ہیں۔فرانس کی یوکرین میں فوجی بھیجنے کی کوشش پر بات کرتے ہوئے پوتن نے کہا ہے کہ “ہم وائرلیسوں پر ایک تواتر سے انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں گفتگو سُن رہے ہیں اور نام نہاد کرائے کے فوجیوں کی وہاں موجودگی تو پہلے سے ہی ہمارے علم میں ہے۔ مغربی فوجیوں کو یوکرین بھیجنے کا فیصلہ کوئی اچھا فیصلہ نہیں ہو گا۔ اس فیصلے کا مطلب یورپ میں بھی اور دنیا بھر میں بھی شدید جھڑپوں کا آغاز کرنا ہو گا۔ اگر مغرب کی خواہش جھڑپیں ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں “۔انہوں نے نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینز اسٹالٹن برگ کے، یوکرین کو دیٔے گئے اسلحے کو روس کے اہداف پر بھی استعمال کرنے کے، مطالبے پر ردعمل کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ “ہمیں بہت اچھی طرح پتہ ہے کہ خاص طور پر یورپ کے نیٹو ممالک اور دیگر چھوٹے ممالک کے نمائندے کیا کھیل کھیل رہے ہیں۔ انہیں خاص طور پر یہ پہلو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ ان کے پاس زمین کم اور آبادی بہت زیادہ ہے۔ روس کے اندر تک حملوں پر بات کرنے سے پہلے انہیں اس پہلو پر توجہ دینی چاہیے”۔یوکرین کے صدر ولادی میر زلنسکی کے عہدہ صدارت کی مدت پوری ہونے سے متعلق انہوں نے کہا ہے کہ “میرے خیال میں یوکرین میں واحد جائز اقتدار پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کا سربراہ ہے”۔