معلم ۔۔۔قوم و ملت کا معمار

دین اسلام میں بھی معلم کی اہمیت و قدر کی تاکید کی گئی ہے۔ چنانچہ ہمارے پیارے آقا جناب محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے۔ جسکا خلاصہ ہے کہ ’’میں ایک معلم بناکر بھیجا گیا ہوں‘‘۔ آپ صل اللہ علیہ وسلم معلمِ کائنات اگر ہم انکی سیرت کو متوجہ ہوکر پڑھے تو معلم کی ذمہ داریاں کیاہے؟ اس بات کی وضاحت دستیاب ہونگی، جو نہ صرف ہمارے لئے بلکہ قیامت تک کے معلموں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ہم نہایت خوش نصیب ہیں کہ ہمیں قوم و ملت کی خدمت کا موقع دیا گیا ہے۔ استاد کے ادب سے ہی علم اور علم سے خدا کی معرفت کا حصول ہوتا ہے۔ چند دہائیاں قبل استاد کا مقام وعظمت کو دیکھے تو پتہ چلتا ہے کہ ہمارے اسلاف کے انداز خدمت اس طرح تھے کہ وہ علم و کمال کے بلند ترین مقام پر اُستاد کے ادب و احترام کی بدولت فائز ہوئے، استاد سے صرف نصابی عقل ہی نہیں حاصل کی جاتی بلکہ اس کی ہر ادا ہمارے لیے ایک سبق رکھتی ہے۔ بطلیموس کا ایک قول ہے کہ ’’استاد سے ایک گھنٹہ گفتگو دس برس کے مطالعے سے مفید ہے‘‘ ۔احترامِ استاد کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جو ابو عبیدہ کی مثال سے سیکھا جاسکتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ میں جب کبھی کسی محدث کے دروازے پر حاضر ہوا تو اطلاع بھجواکر داخلے کی اجازت نہیں مانگی بلکہ بیٹھا انتظار کرتا رہا تا آنکہ وہ خود برآمد ہوئے۔ میں نے قرآن حکیم کی اس آیت سے جو ادب مستفاد ہوتا ہے پر نظر رکھی۔( ترجمہ) ’’کاش وہ لوگ صبر کرتے تا آنکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود نکلتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا‘‘۔ محسنِ کائینات و استاد زمانہ کی شان میں قرآن پاک میں بہت سی آیات وارد ہوئی ہیں۔ اس سے بڑی و عمدہ مثال ہو نہیں سکتی ۔ لیکن موجودہ وقت کی ورق گردانی کرے تو وہ معلم کی اہمیت قدر میں وہ مقام نظر نہیں آتا ہے۔ اسکی بہت سی وجوہات میں سے ایک استاد کی اپنی ذاتی فکر ہے ۔ جو پہلے قوم وملت کی ہوا کرتی تھی۔ زر کی محبت چرس استاد میں پائی جاتی ہیں۔ جسکی بدولت وہ اپنے اصل منصبِ فکر سے کچھ قدم پیچھے ہٹ گیا ہے۔ اس لیے آج ضرورت ہے کہ استاد اپنے منصب کی پروقار رونق کو سمجھے اور اسے برقرار رکھنے کی کاوش کرے۔ تب جاکر اسے کھویا ہوا مقام مل سکے گا۔ ہمیں اورزیادہ محنت کرنا ہے اور قوم کے نو نہالوں کو قندیل ِ حرم دینا ہے۔ انکا سہارا بننا ہے۔ ہماری قوم کی ترقی فکر کرنا ہے اور دل سے اپنی ذمہ داری کو مکمل کرنا ہے۔ میں ہمیشہ یہ بات کہتا ہوں کہ اسکول ،ادارے ہمارے ہیں‌ پڑھنے والے بچے ہمارے ہی ہیں۔ اور پڑھانے والے اساتذہ اکرام بھی ہمارے ہی ہیں۔ ہماری غفلت و بے داری کا اثر براہ راست ہماری قوم پر ہی پڑھیگا۔ ہمیں صاف نیتی سے قوم وملت کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہوئے مزید اورزیادہ مزید ہماری صلاحیتوں ، قابلیتوں اور تجربات کو اُجاگر کرنا ہے۔ اور اس سے ہمارے ہی قوم کے بچوں کو جلا بخشنا ہے۔ ایک ہمارے افسر جو کہ غیر مسلم ہیں، انھوں نے یہی بات کہی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہی حالت ہماری قوم کے ہوتے تو صرف دس سالوں میں ہم آسمان چھو لیتے مگر تم اپنے ہی قوم کے بچوں کو عمدہ و موثر تعلیم دینے سے قاصر ہو۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ استاد ہی تو ملک کے معمار ہوتے ہیں ۔ یہی تو قوم کی جہالت کو روشن مستقبل دیتے ہیں۔ پروان کے حوصلے ، آسمان چھونے کی ہمت ، مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے مسرت بخش زندگی گزارنے کا ہنر ،اچھے اخلاق پیدا کرنے کا سلیقہ ،حقوق اللہ و حقوقِ انسانی کو اداکرنے کی ترغیب کا مرکز یہی استاد ہوتے ہیں۔ جو دین و دنیا کی کامیابیوں کا زینہ درجہ بہ درجہ چڑھاتے ہیں۔ یہ استاد ہی ہوتے ہیں۔ جو انسان کو احسن التقویم سے سرفراز کرتا ہے، اس لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ معاشرے میں استاد کو جائز مقام دلوایا جائے اور استاد بھی خود کو اس کا اہل ثابت کرے، یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے فرائض کو پہچانیں اسی میں ہماری ترقی کا راز ہے ایک مسلمان استاد اور طالبعلم کو دنیا اور عقبیٰ دونوں کو پیش نظر رکھنا چاہیے، میرا یہ یقین محکم ہے کہ اگر ہم میں فرض شناس طالب علم اور اساتذہ کرام نے دوبارہ جنم لے لیا تو یہ امت مسلمہ مرحومہ ایک بار پھر سینہ سپر ہوکر دنیا و عقبیٰ سے سرخرو ہوگی، اے رحمت خداوندی اب جوش میں آ اور ایسے اساتذہ اور تلامذہ پیدا فرما جن کے دلوں میں قومی جذبہ اور لگن تلاش جستجو ہو اور ان کے اذہان و قالب پر دینی و ایمانی اقدار انمٹ نقوش ثبت کرچکے ہوں۔ کیونکہ دنیا کیے ہر شخص کی کامیابی کی داستان اصل میں اس کے استاد کی ہوتی ہیں۔ معلم کا ذکر تو خاص طور سے لیا ہی جاتا ہے۔
(|طالب علم یونیورسٹی آف کشمیر)