معلم کا مقام اور تعلیم کی اہمیت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نےرسول اور پیغمبر یعنی ’خبر دینے والا‘بنا کر بیجھا۔ نبوت ملنے کے بعد آپؐ نے مخاطب ِقوم کے لیے اپنے آپ کو بحیثیت معلم پیش کیا اور اُستادانہ اسلوب میں فریضہ انجام دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے پہلی جو آیت نازل ہوئی وہ سورۃ العلق کی آیت ’’اِقرا ٔباسمہِ ربکَ الزی خلق‘‘ ہے ۔  یعنی ’’پڑھو اپنے رب العالمین کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا‘‘ ۔ چوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے ،آپؐ نے کسی معلم سے تعلیم حاصل نہیں کی تھی ،نہ ہی اُس زمانے میں تعليم کا رواج عام تھا۔ علماء کا بیان ہے کہ اُس زمانے میں تعلیم کی صورت حال اتنی ناگفتہ بہ تھی کہ پورے قبیلۂ قریش میں گیارہ یا سترہ افراد سے زیادہ لوگ پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد آپ نے تعلیم و تعلم کو فرضِ منصبی کی حیثیت سے تدریجی ارتقا کے اصول پر رواج عام کیا ۔ اقرا کی آیت کے بعد اللہ تعالی نے بیشمار آیات نازل فرمائیں۔ ایک آیت میں اللہ تعالی سورہ البقرہ 151 میں یوں فرماتے ہیں ۔ کما ارسلنا فیکم رسولا منکم یتلوا علیکم اٰیٰتنا و یزکیکم و یعلمکم الکتاب و الحکمۃ ۔ ’’ہم نے آپ ہی میں ایک رسول بیجھا جو آپ کو میری آیات پڑھکر تعلیم دیتے ہیں اور آپ کو پاک کرتے ہیں اور تعلیم کتاب اور حکمت سکھاتے ہیں ‘‘۔ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مابین تعلم بلا واسطہ تھی، اس کے بعد بالواسطہ صحابہ نے آپ سے دین اسلام کی تعلیم حاصل کی، گویا اسلام میں تعلم حاصل کرنے کا اولین شرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہیں اور اولین معلم کا شرف بھی آپ ہی کو حاصل ہیں۔ اس علم دین کو بحیثیت ایک کامیاب معلم آپ ؐنے ولولہ انگریز جذبات کے ساتھ صحابہ کرام میں خوش اسلوبی کے ساتھ ودیعت کردیا کہ ایک انقلابی ٹیم وجود میں آئی۔ آپؐ اپنے شاگردوں کے لیے دعا فرمایا کرتے تھے، آپؐ ان کی فرمائش پر اور بسا اوقات خود بھی اُن کے لیے دعا فرماتے ۔یہ دعا علم کے متعلق بھی ہوتی اور اس کے علاوہ خیر کی دیگر باتوں کے بارے میں بھی ۔حضرت عبد اللہ ابن عباسؓ کے حق میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا فرمائی تھی ۔ اللھم فقھہ فی الدین و علمہ التاویل۔ ’’اے اللہ اسے قرآن کی سمجھ عطا کر اور قرآن کی معنی سکھلادے ‘‘۔ اس علمی میدان میں عورتیں بھی پیش پیش تھی، ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا مرد آپؐ کی حدیث لے گئے۔ آپ اپنی طرف سے ہمارے لیے ایک دن مخصوص کر دیجیے ۔ آپ ؐنے فرمایا فلاں فلاں دن فلاں جگہ میں اکھٹی ہو جانا ( بخاری کتاب الاعتصام )
پیغمبر انقلاب صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابی کا تجزیہ ایک انگریز مصنف نے ان الفاظ میں کیا ہے ۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے دشواریوں کا مقابلہ اس عزم کے ساتھ کیا کہ وہ ناکامی سے کامیابی کو نچوڑیں۔ یہ اُسی علم ربانی کا کمال ہے جس کی درس گاہ رب کے حضور میں تھی۔ صحابہ کرام کے بعد دوسرے ادوار میں مزید علوم کے ساتھ اس تعلیم و تعلم کا فروغ وسیع ہوا، اصول و قواعد فقہ و فن رجال وجود میں آئيں ۔فن رجال کا سبجکٹ اپنے آپ میں اتنا وسیع ہے کہ عام انسان کے لئے اس کا احاطہ کرنا مشکل ہی نہيں بلکہ ناممکن ہے ،اس فن کی داد رسی بقول ڈاکٹر خالد علوی اپنی کتاب حفاظت حدیث میں ایک انگریزی نقاد حدیث کا اعتراف نقل کرتے ہیں۔’’ نہ کوئی قوم دنیا میں ایسی گزری نہ آج موجود ہے، جس نے مسلمانوں کی طرح اسماء الرجال سا عظيم الشان فن ایجاد کیا ہو، جس کی بدولت آج پانچ لاکھ اشخاص کا حال معلوم کیا جاسکتا ہے‘‘۔ اس کمال کی کڑی معلم اعظم صلی اللہ علیہ وسلم سے شروع ہوئی، جس کا فیض تاہنوز جاری ہے۔ قرون اولیٰ کے قریب تر زمانے سے لے کر ماشاء اللہ عصر ِحاضر تک تعلیم و تعلم کا سلسلہ بدستور جاری و ساری ہے ۔ علماء کا بیان ہے کہ احادیث کی کتابوں میں بشمول امام بخاری و بیشتر محدثین نے کتاب العلم کے باب کو کتاب الایمان کے بعد بیان کیا ہے، جس سے درشتا ہے کہ علم کے باب کی انتہائی فضيلت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام مرد و عورت پر علم حاصل کرنا فرض ہے۔ تعلیم کو عام کرنے کے لئے صرف اجتماعی ذمہ داری پر اکتفاء نہيں ہے بلکہ تعلیم حاصل کرنے کا ہر شخص کی ذاتی ذمہ داری ہے۔ تعلیم انسان کو فکری انسان intellectual بنادیتی ہے ،تعليم انسان کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ چیزوں کی معرفت دریافت کرسکیں ۔لا علمی انسان کو زوال کی طرف لے جاتی ہے اور زوال یافتہ انسان مکمل طور عاجز انسان بن جاتا ہے ۔راقم الحروف کےمطالعہ میں آیا کہ اختر حسین نامی ایک شخص دہلی میں رہتا تھا ۔ اسکے چھ لڑکے تھے۔ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ ان کے بچوں کو بھوکے پیٹ سونا پڑتا تھا۔ ایک بار اُس کی بیوی اس بھوکی پیاسی زندگی سے تنگ آکر اپنے شوہر سے کہنے لگی کہ اس سے بہتر یہ تھا کہ آپ ہمیں زہر دے کر موت کی نیند سلاتے ۔ اس کے بعد کیا ہوا کہ اس کے شوہر نے یہ سوچا کہ میرایہ حال کیوں ہوا، اُس نے دریافت کرلیا کہ یہ علم کی محرومی کی وجہ سےہوا ۔ اس کو اسماعیل میرٹھی کا یہ شعر یاد آگیا۔ جہاں تک دیکھئے تعلیم کی فرماں راہی ہے ۔ سچ پوچھو تو نیچے علم ہے اوپر خدائی ہے ۔ بنی نوع انسان اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی فطرت کے ساتھ اپنا وجود برقرار رکھے ہوئےہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو فطرت پر بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی فطرت ہے کہ اس نے انسان کو بھی فطرت پر بنایا ۔ مذکورہ شعر میں اچھی بات کہی گئی ہے ،فطرت کی ایک جز کی ترجمانی کی گئی ہے کہ نیچے علم ہے اور اوپر خدائی۔ انسان کی یہی فطرت ہے کہ اس کا وجدان پکارتا ہے کہ اقرا پڑھو۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہؐ کو اللہ تعالی نے پہلی دفعہ اسی اسلوب سے پکارا کہ’’ اِقرأ‘‘ پڑھو ۔ انسان کے لئے یہ لازمی ہے کہ وہ پڑھیں چاہے پڑھنے میں کتنی ہی دشواری لاحق ہوں، اس کے بعدمذکورہ شخص نے اپنے بچوں کو پڑھوا نے کا عہدکر لیا ۔ کافی مشقتیں اٹھانے کے بعد اُس کے بچے اس درجے تک پہنچے کہ انہوں نے کامیابی کی تمام حدیں پھلانگ لیں۔
انسان اگر واقعتاً سچائی کا طالب ہو تو اس کی تعليم اس کا یقین بڑھائے گی، سچائی کے نئے نئے گوشے اُس پر واضح ہونگے۔ تعلیم کا مطلب محض یہ نہیں ہے کہ نصاب کو مکمل کیا جائے، تعلیم ایک ایسی علمِ دانی ہے، جس میں آداب ،اخلاص، کردار و اخلاقیات سمندر کے پانی کی مانند جزوات کی صورت میں’کُل علم‘ کا ذخيرہ موجود ہے۔ تعلیم محدودیت سے نکل کر لا محدودیت کی فضاء میں جانے کا نام ہے۔ تعلیم بھٹکے ہوئے لوگوں کو سیدھا راستہ دکھانا ہے ، نکموں کو اچھا بنانا ہے اور دشمن کو دوست بنانا ہے۔ تعلیم منفیت سے نکل کر مثبت فکر کا نام ہے۔ تعلیم تنگ دستی سے نکل کر فراغ دستی کا نام ہے ۔ لا زوال کامیابی کی یہی ضمانت ہے کہ پڑھو، پڑھو،پڑھو ۔۔۔!
 (اومپورہ ہوسنگ کالونی،رابطہ۔9906736886)