معصوم سی آرزو افسانچہ

سید اسرارنازکی

’’آپ کیا دیکھ لہے ہو ؟‘‘ معصوم سی فاطمہ نے توتلی آواز میں اپنے بابا سے پوچھاجو اپنے موبائل پر کچھ دیکھ رہے تھے۔ ’’ بیٹا میں ایک ضروری انٹرویو دیکھ رہا ہوں۔‘‘۔۔۔’’انٹل یوُ کیا ہوتا ہے ؟‘‘ بہت معصوم سے انداز میں فاطمہ نے پھر سے پوچھا۔ ’’بیٹا دیکھنے دو ، بعد میں بتائوں گا‘‘بازو سے ہلکا دھکا دیکر اپنے سے دوُر ہٹاتے ہوئے فاطمہ کے بابا نے اُسے اپنے سے الگ کر دیا۔معصوم سی فاطمہ کی دو بڑی بڑی آنکھیں آنسوئوں سے بھر گئیں۔وہ دوڑ کے دوسرے کمرے میں چلی گئی اور آنکھوں کی دہلیز پہ رکے دو موٹے موٹے آنسوں اُسکے معصوم سے رخسار چھو کے نکل پڑے۔اُس نے اپنی گڑیا کو اُٹھا کے پہلے گلے لگایا اور پھر بیٹھ کے اس سے باتیں کرنے لگی۔’’ گڑیا لانی ! ۔۔۔تم نہیں ہوتی تو میں کیا کلتی۔۔۔ میں کس سے باتیں کلتی ۔۔۔جانتی ہو ؟ میں جب بڑی ہو جائوں گی نا تو میں ایک کتاب لکھوں گی۔ پتہ ہے ،میں اس کتاب میں کیا لکھوں گی ؟‘‘

فاطمہ نے گڑیا رانی سے کہا ’’ میں لکھوں گی کہ میںان بڑوں کی نظروں میں ایک مجرم تھی جسے اپنے بچپن سے الگ رکھا گیاتھا۔ کتابوں کا بوجھ میرے کندھوں پر رکھ کر مجھے سارا سارا دن ایک جیل میں بند رکھا جاتا تھا جسے یہ بڑے لوگ اسکول کہتے ہیں۔میری نیند اور آرام کو بھی چھینا گیا۔مجھے صبح سویرے پونے چھ بجے اُٹھا کے تیار کیا جاتا اور پُورا دن تقریباً 17سے 18 گھنٹے آرام نہیں کرنے دیا جاتا ۔یہاں تک کہ اس جیل میںمیں اپنی پسند کے کپڑے بھی نہیں پہن سکتی تھی ۔وہاں میرے جیسے بہت سارے معصوم قیدی تھے۔جیل سے چھوٹتے ہی ہم سب کو گاڑیوں میں بٹھا کر واپس گھر لایا جاتا ۔گھر پہنچتے ہی مجھے درسگاہ بھیج دیا جاتا ۔وہاں سے واپس آتے ہی مجھے پڑوس والی دیدی کے پاس ٹیوشن کے لئے بھیج دیا جاتا تھا۔پھروہاں سے آکے مجھے ہوم ورک کرنا پڑتاتھاجب تک کہ رات ہو جاتی ۔ہوش سنبھالنے سے لیکرمجھے یہی سب دیکھنا پڑاہے۔بڑی ہونے تک سال بھر مجھے میرے بچپن کی تلاش رہتی تھی۔ مجھے بہت شوق تھا کہ میں اپنے مما اور بابا کے پاس فرصت کے لمحات میں بیٹھ پاتی اور وہ میرے ساتھ ڈھیر ساری باتیں کرتے اور میری باتیں بھی سنتے۔ایسا کبھی نہیں ہو سکا۔میں اتنا تھک جاتی کہ مجھے نیند میں سپنے بھی نہیں آتے تھے۔ میں حیران ہوں کہ یہ بڑے لوگ کیوں ہمیں ہی اتنا سویرے گھر سے نکالتے تھے اور خود آرام سے۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’ فاطمہ ۔۔۔فاطمہ بیٹی۔۔۔۔۔چلو کھانا کھا لو ۔۔۔۔ صبح جلدی اُٹھنا ہے۔‘‘ ماں کی آواز سنتے ہی فاطمہ نے اپنی گڑیا کو چوم کر ایک طرف رکھ دیا اورجلدی سے اٹھ کر کچن میں چلی گئی۔
���
لولاب کپواڑہ
حال نٹی پورہ سرینگر
موبائل نمبر؛7889714415