معاملہ 35 اےپر عدالت عظمیٰ میں شنوائی کا: مزاحمتی قیادت میدان میں آگئی، کشمیریوں کیلئے موت و حیات کا مسئلہ قرار دیا

سرینگر//ریاست میں پشتینی باشندوں کی اسناد سے متعلق قانون35اےپر عدالت عظمیٰ میں شنوائی اوراس کے ساتھ مبینہ چھیڑ چھاڑ کرنے کے خدشات کے پیش نظرمشترکہ مزاحمتی قیادت نے اپنے تیور سخت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس قانون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تو لوگ سڑکوں پر آئیں گے۔مزاحمتی قیادت نے 5اور6اگست کو دو روزہ ہڑتال اور سیول کرفیو کی کال دیتے ہوئے کہا کہ دفعہ35اے اور دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کی کوشش زہر ناک اسرائیلی پالیسی ہے تاکہ جموں کشمیرکے مسلم اکثریتی کردار کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا راستہ صاف ہوسکے۔اس سلسلے میں اتوار کو سید علی گیلانی کی حید پورہ رہائش گاہ پر میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کے درمیان کئی گھنٹوں تک میٹنگ منعقد ہوئی۔ میٹنگ کے دوران دفعہ35اے پر چھیڑ چھاڑ کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے لوگوں سے کہا گیا’’ اگر سپریم کورٹ نے دفعہ 35-Aکی منسوخی کے حوالے سے کوئی بھی کوشش کی تو اس صورت میں پوری قوم ایک زوردار عوامی تحریک شروع کرنے کے لئے آج سے ہی مکمل تیاری کرلیں‘‘۔ گیلانی،میرواعظ اور ملک نے بھارت کی طرف سے ’’جموں کشمیر پر اپنی تہذیبی، سیاسی اور معاشی جارحیت کو عملانے کے خلاف‘‘ اپنا زور دار  احتجاج بلند کرنے کے لئے 5اور 6اگست کو مکمل ہڑتال  اورسِیول کرفیو کی اپیل کی ۔میٹنگ کے دوران مشترکہ مزاحمتی قیادت نے بار ایسوسیشن، تمام ٹریڈرس فیڈریشنوں، ٹرانسپورٹ انجمنوں، ملازم یونینوں،چیمبر آف کامرس، ہاؤس بوٹ مالکان، ہوٹل صنعت سے وابستہ انجمنوں، طلباء انجمنوںکے علاوہ عام لوگوں سے  اپیل کرتے ہوئے کہا’’ دفعہ 35-Aاور دفعہ 370کو منسوخ کئے جانے سے جموں کشمیرکے مسلم اکثریتی کردار کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا راستہ صاف ہوسکتا ہے اورحقِ خودارادیت کی جدوجہد ناکام بنانے کے لئے یہ ایک زہرناک اسرائیلی پالیسی ہے‘‘۔ ذرائع کے مطابق مزاحمتی قیادت نے اس معاملے کی سنگینی اور حساسیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’ یہ ہم سب باشندگان کشمیر کے لئے سیاسی، تہذیبی اور معاشی طور موت وحیات سے جُڑا ہوا ایک مسئلہ ہے جس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے‘‘۔ذرائع کے مطابق میٹنگ میں مزاحمتی قیادت نے قوم کے ہر طبقے سے وابستہ ذی عزت شہریوں اور انجمنوں کو بھارت کی اس اسرائیلی پالیسی کے ذریعے یہاں کے مسلم اکثریتی کردار کے ساتھ چھیڑ خوانی کے خلاف اپنے اپنے دائروں میں رہتے ہوئے مزاحمتی قیادت کے پُرامن احتجاجی پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کی۔