معاشی مسائل کا حل

جب سے ریا ست جمو ں وکشمیروجود میں آئی ہے اس خطہ کو متعدد مسائل کا سامنا رہا ہے جن میں ریاستی معیشت کا مسئلہ سر فہر ست ہے۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے بعد سے سارا ہندوستان بالخصو ص ریا ست جمو ں وکشمیر مختلف قسم کے معاشی بحران کی شکا ر چلی آرہی ہے۔ اس بابت اصولی بات یہ ہے کہ وسائل کی فراوانی کے با وجود وسائل کا غلط استعمال ،دولت کا ارتکاز،ایک طبقے کا معاشی وسیاسی غلبہ،صنعتی سر ما یہ داری نظام کی جگہ مالیاتی سر ما یہ داری کا نظام،معاشی پیداوار اور مادی وسائل کے بجا ئے مالیاتی نظام کو اپنا نا اور ریاست میں امن عامہ کے حوالے سے حالات کی نا ساز گاری کے معاشی اثرات پر سرسری نگاہ ڈالی جائے تو واضح ہوگا کہ سیاسی عدم استحکام اور بے یقینی پیداکر نے والے عناصر ریاست کی معیشت کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں ۔اگر ریا ستی حالات ایسے ہی بے یقینی کے ساتھ جاری رہے تو معاشی صورت حال مزید ابتر ہو سکتی ہے۔مو جو دہ سر ما یہ دارانہ نظام نے نہ صر ف یہ کہ پو ری دنیا کے وسائل کو چند افراد کی ملکیت بنا دیا ہے بلکہ اس نے کساد بازاری ،مہنگائی اور غریبی جیسی چیزوں کا علا ج کر نے کے بجا ئے انہیں مہلک امراض بنا دیا ہے جس سے پو ری دنیا متاثر ہے اس نا زک مو ڑ پر جبکہ لو گ ایک اور معاشی بحران کا خطرہ محسوس کر رہے ہیںیہ نا گزیر ہو جا تا ہے کہ ان با طل نظریات کو بے نقا ب کیا جا ئے جس پر مو جو دہ سرما یہ دارانہ نظام مبنی ہے اور فکر ی طور پر اسے تبا ہ و بر باد کر دیا جا ئے ۔حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ملک میں اقتصادی شعبہ میں نوٹ بندی اور جی ،ایس ،ٹی کے ذریعہ تر قی اور معاشی صورت حال کو بہتر بنا نے کے لئے متعدد اہم اقدامات کئے ہیں لیکن تا زہ معاشی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کئی حوالوں سے منفی رجحانات میں اضافہ ہوا ہے ۔لہٰذا یہ بات ضروری ہے کہ حکومت کی با قی مدت میں قو می معیشت میں پا ئے جا نے والے منفی پہلوئوں کی اصلاح پر بھر پور تو جہ دی جا ئے ۔مستحکم معیشت پو ری قو م کی ضرورت ہے اور ایسی تمام سر گرمیوں سے گریز کر نا چاہئے جن سے ملک میں افراتفری اور انتشار کو فروغ ملتاہواور معاشی  سرگرمیاں ماند پڑتی ہوں۔تجارت ،سر ما یہ کا ری اور کا رو با ر شرو ع کر نے کی ر اہ میں حائل رکا وٹو ں کو ختم کر نے سے ریا ست میں تجا رت کے مواقع مزید بڑھیں گے اور اقتصادی و معا شی تر قی ہو سکے گی ۔دنیا کا کو ئی بھی ملک اس وقت تک تر قی و خو شحالی حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ معا شی و اقتصادی طور پر مضبو ط و مستحکم نہ ہو اور معا شی و اقتصادی طور پر استحکام حاصل کر نے کے لئے ملک میں پیداواری عمل کا مضبوط و مستحکم ہو نا اورملک میں تیا ر شدہ مصنوعات کی برآمدات کی حو صلہ افزائی کر نا بہت ضروری ہے ۔چنا نچہ ہم اپنے پیداواری عمل کو پو ری قوت اور تو جہ کے ساتھ بڑھانے کی طرف پیش قد می کر یں اور اس کے لئے ایسے معا شی ما ہرین کی کمیٹی بنا ئی جا ئے جن کو ملک کے زمینی حقائق کا ادراک بھی ہو اور اس مٹی سے تعلق بھی مضبوط ہو جو خالق کا ئنا ت کے نازل کر دہ ما ڈل کے مطابق اسلام کے ذریعہ معاشی بحران کے علا ج کا طریقہ کا ر وضع کریں ۔
ہم اسلام کے معا شی و اقتصادی نظام اور ا س کے اصول و مبا دی سے نا آشنا ہیں ،اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ چونکہ اسلام نے بینکنگ سسٹم نہیں دیا تو وہ اچھے معاشی نظام سے بھی محروم ہے۔ دراصل ہما رے ذہنوں میں یہودی سودی نظام اوربینک کا ری سسٹم ہی اچھا معاشی نظام ہے ۔ ہر صاحب فہم جا نتا ہے کہ بنک کاری نظام یہودی سو دی نظام کا تسلسل ہے چونکہ اسلام یہو دی نظام اور سو دی سسٹم کامخالف ہے اور اسلام اس سو دی سسٹم کے خاتمہ کے لئے آیا ہے، اس لئے یہو د و نصاریٰ اوران کے ہم نوا اسلام اور اس کے معاشی نظام میں جان بوجھ کر کیڑے نکالتے ہیں کہ بعض کم فہم اور سادہ لوح مسلمان بھی اس سے متا ثر ہو گئے ۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے جہاں مسلمانوں کو سو دی نظام سے روکا ہے ،وہاں اس کا متبادل بھی پیش کیا ہے ۔
اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ وہ کو ن سا متبادل نظام ہے اور اس کے کیا اصو ل و فرو ع ہیں ؟اس سلسلہ میں عر ض یہ ہے کہ چونکہ ہم نے یہودی نظام کو پڑھا اور دیکھا ہے ،اس لئے وہ ہما رے سامنے ٹھیک اسی طرح اگر ہم اسلامی معاشی واقتصادی نظام کا مطالعہ کر تے اور اس کے جزئیات کی تلاش و جستجو میں اپنی صلاحیتوں کو صرف کر تے تو وہ بھی ہمیں معلو م ہو جا تا مگر افسوس اس طر ف کسی کی تو جہ نہیں ہے۔ اب بتائیے اس میں قصور ہمارا ہے یا اسلام کا ؟یقینا ہمارا قصور ہے ۔اس سے بھی قطع نظر صرف اس بات کو مد نظر رکھیں کہ یہودی بنک کا ری نظام سے قبل بھی اسلامی دنیا قائم تھی ،اس کے امو ر مملکت بحسن و خوبی انجام پا تے تھے تو کیسے اور کیونکر ؟آخر ان کے پا س کو ئی تو نظام معیشت تھا جس کی بدولت ان کا نظام حکومت مسلسل چھ صدیوں تک کامیا بی سے چلتا رہا ۔اللہ تعالی نے جہا ں سو دی نظام کو ممنوع و نا جا ئز قرار دیا ہے وہاں اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے اس کے متبادل جائز نظام کی طرف رہنما ئی بھی فر مائی ہے ۔ملاحظہ ہو ’’جو لو گ سو د کھا تے ہیں وہ قیامت کے دن ایسے اٹھیں گے جیسے وہ شخص اٹھتا ہے جس کے حواس جن نے لپٹ کر کھو دئے ہوں، یہ حالت ان کی اس وجہ سے ہو گی کہ انہوں نے کہا کہ سو داگری اور خرید و فروخت بھی ایسے ہی ہے جیسے سو د لینا۔حالانکہ اللہ نے حلا ل کیا ہے خریدوفروخت کو اور حرام کیا ہے سو د کو‘‘اس آیت کریمہ کے اندر اللہ تعالی نے سو د کے متبادل نظام کی بھی نشاہدہی فر ما دی ہے اور وہ ہے حلال طریقہ پر بیع و شراء اور خریدوفروخت کانظام۔رہی یہ بات کہ سو د کو کیو ں حرام قرار دیا گیا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں دولت چند افراد اور خاندانو ں میں مر تکز ہو جا تی ہے جس سے امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہو تا چلا جا تا ہے اور یہ بات کسی دلیل و بر ہا ن کی محتاج نہیں بلکہ دو اور دو چار کی طرح بالکل واضح ہے ۔ نیز اس سے خود اپنی پیدواری صلاحیت بڑھانے کی بجائے دوسروں کے خون پسینہ کی کمائی پر قانونی طور ڈاکہ ڈالنے سے معاشرے میں انصاف ناپید اور بیٹھے بٹھائے جنگ زرگری کا رجحان بڑھتا ہے ۔ سو دی نظام کی ایک خرابی یہ بھی ہے کہ اس سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے کیو نکہ جو شخص بھی سو دی رقم لے کر کا روبار کرے گا تو وہ اضافی رقم اسی کاروبار سے وصول کر ے گا جس سے مہنگائی بڑھتی ہی چلی جا ئے گی ۔اسلام نے مسلمانوں کی ہر مر حلہ پر رہنمائی فر ما ئی ہے اور جا ئز و نا جا ئز کی نشا ندہی گو یا اسلام نے اپنے ما ننے والوں کو ایک مکمل معاشی و اقتصادی نظام دیا ہے، جو لو گ اس دائر ہ میں رہ کر کام کریں گے وہ حلال و پا ک اور بابر کت رزق حاصل کریں گے اور جو اس کے خلاف عمل کریں گے ان کا عمل نا جا ئز و حرام ہو گا اور ان کی دنیا و آخرت بر با د ہو گی ۔
رہی یہ بات کہ اسلام نے مسلمانوں کو بنک کاری کا متبادل کیا دیا ہے؟ اس سلسلہ میں عر ض ہے کہ بیع مضاربہ و مشارکہ دراصل اسلامی بنک کاری ہی ہے جس میں ایک ایسا مسلمان جو مالدار تو ہے مگر محنت و مشقت یا تجارتی کا م کا تجر بہ و صلاحیت نہیں رکھتا، بلا شبہ وہ اپنا سر ما یہ کسی ایسے مسلمان کو جو محنت و مشقت یا تجا رتی کا م کر نے کی صلاحیت و تجربہ رکھتا ہو لیکن اس کے پا س سر ما یہ نہ ہو، کو اپنا مال حلال دے کر سر ما یہ کا ری کر سکتا ہے ۔اس کو شریعت کی اصطلاح میں مضاربت کہا جا تا ہے ۔چنا نچہ یہ دونوں مل کر باہمی یہ تجارتی معا ہد ہ کر سکتے ہیں کہ ایک کی محنت ہو گی اور دوسرے کا سر ما یہ ۔اس سے جو نفع ہو گا اسے مثلاً بیس فیصد ،تیس فیصد یا پچاس فیصد کے تناسب سے تقسیم کیا جا ئے گا اور جو نقصان ہو گا اسے نفع سے پو را کیا جا ئے گا اور اگر نقصان نفع سے زیا دہ ہو تا تو اس کو راس المال یعنی کیپٹل سے پو را کیا جا ئے گا ۔اسی طرح اس کی دوسری صورت مشارکہ یعنی کا رو بار میں شراکت داری کی بھی ہے، اس میں بھی نفع و نقصان کی شراکت کی بنیا د پر وہی کا م جا ئز بنیا دو ں پر کیا جا سکتا ہے جو یہو دی بنک کار غیر اسلامی اور سو دی انداز میں سرمایہ کاری کر کے پو رے معا شرے کا سر ما یہ سمیٹ رہے ہیں۔ اس کے علا وہ اجا رہ یعنی کرایہ داری کا نظام بھی اسلام نے دیا ہے ۔اسلام کی مو جو دگی میں عقل کے لنگڑے گھو ڑے پر سوار ہو کر فلسفہ حیات پیش کر نے والے کئی فلسفے اور نظام آئے اور اپنی مو ت آپ مر گئے ۔اسلام کا اقتصادی نظام ہر طرح کے معاشی بحران سے صرف شفاف ہی نہیں بلکہ دیگر نظامو ں کے باعث بگڑ جا نے والی صورت حال سے نکلنے کا واضح راستہ بھی بتاتا ہے ۔اسلامی نظامِ معیشت میں افراط ہے نہ تفریط ،انسان کو کما نے کی آزادی دی گئی ہے تو کچھ حدود وقیود بھی لگائی ہیں ۔ ایک معروف تجارتی تجزیہ نگار ایماونڈرنے کہا تھا’’ اگر عالمی بنک کاری اسلامی اصولوں پر ہو تی تو ہم بھیانک معاشی بحران نہ دیکھتے ‘‘۔
 
رابطہ نمبر :9797574282-01962-264282
 
 
 

 ایک عام آدمی کی مودی جی سے پرارتھنا 

یہ بات ہر کس و ناکس جانتا ہے کہ ہندوستان کی معیشت میں روزبروز گراوٹ آرہی ہے ،پیداوار کی شرح میں کمی آرہی ہے اور نوجوانوں کو نیا روزگار تو درکنار جو لوگ بر سر روزگار تھے ،ان کا بھی روزگار چھن رہا ہے اور اب تک لاکھوں لوگ بے روزگار ہوگئے لیکن اس کے باوجود مودی جی ہر جگہ خم ٹھونک کریہ کہتے پھر رہے ہیں کہ ہندوستان ایک اقتصادی طاقت بن رہا ہے اورہندوستان کی معیشت مضبوط ہورہی ہے ۔مودی جی کی ان لچھے دار تقریروں اور جملے بازیوں کو سن کر میرے سمجھ میںیہی آتاہے کہ مودی جی ہندوستان کو زمینی سطح سے نہیں بلکہ اسے ایک خواب نما دنیا کی حیثیت سے دیکھ رہے ہیں ،ورنہ مجھے ایک سیاسی مدبر اور ذہین و فطین انسان سے قطعی یہ امید نہیں کہ وہ ہندوستان کے اس قسم کے ابتر حالات کو دیکھ کر بھی یہ کہے کہ ہندوستان ایک اقتصادی طاقت بن رہاہے ۔اگر مودی جی کی تقریریں مبنی بر حقیقت ہیں تو میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا ہندوستان کی معاشی مضبوطی یہی ہے کہ نوٹ بندی کے من مانی فیصلے سے ملک کے کروڑوں روپے کا نقصان ہوگیا اور بغیر کسی تیاری کے جی ایس ٹی کے نفاذکی وجہ سے سارے چھوٹے کاروباریوں کے سامنے اقتصادی بحران پیدا ہوگیا ۔کہاں گیا مودی جی کا وہ وعدہ جو انہوں نے دو کروڑلوگوں کو روزگار دینے کا کیا تھا ؟کیا یہ صرف سنہرے سپنے سے ملکی معیشت بڑھے گی؟ مودی جی نے مہنگائی بڑھانے کے ساتھ ساتھ پہلے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت آسمان تک پہنچادی اور اب عوام کی تنقید سے بچنے کے لیے صرف دو روپے کم کرنے کا اعلان کر رہے ہیں،کیا اسی سے ملک کے اقتصادی حالات بہتر ہوجا ئیں گے ؟مختصریہ کہ ملک کے حالات ابتر سے ابترہوتے جارہے ہیں اور جی ڈی پی میںمسلسل گراوٹ درج کی جارہی ہے ۔ اس لئے مودی جی سے گزارش ہے کہ براہ ِکرم ملک کی اچھائی بھلائی کے بارے میں سوچیں نہ کہ اپنے اقتدار اور کرسی کے بن کے ر میں ۔
 
محمد اشرف ۔۔۔۔علی گڑھ
،۸۴۰۰۱۲۳۶۸۷