معاشرتی ڈھانچہ تباہ،میل جول قصۂ پارینہ

 انسان کے پیدا ہوتے ہی اس سے کئی رشتے وابستہ ہوجاتے ہیں۔ کوئی ماں کہلاتی ہے کوئی باپ، کوئی بہن تو کوئی بھائی، کوئی دادی تو کوئی دادا۔ اس طرح ڈھیروں رشتے اس سے منسلک ہوجاتے ہیں۔ رشتے ہماری زندگی میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ ان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔رشتے اور مضبوط تعلقات خدا کی بہت بڑی نعمت ہے اور زندگی کا وہ سرمایہ ہے جس سے بڑھ کر اور کسی چیز کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ یہ رشتے ہماری زندگی میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں اور ان رشتوں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ ان رشتوں کے بغیر زندگی ویران اور بے رونق ہو جاتی ہے۔
ٍمخلص رشتوں کی بنیاد اس پہلی اینٹ کی مانند ہوتی ہے جو اگر ٹیڑھی رکھی جائے تو دیوار بھی ٹیڑھی ہی تعمیر ہوتی ہے۔ اسلئے ضروری ہے کہ رشتے نبھاتے وقت صبر و تحمل سے کام لیا جائے۔ کبھی کبھی انسانوں کے درمیان اتنی غلط فہمیاں پیدا ہوجاتی ہیں کہ اسے سمجھ ہی نہیں آتا کہ کس طرح رشتوں کو سنبھالا جائے۔ بعض غلط فہمیاں رشتوں کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دیتی ہیں اور انسان اپنی اَنا کی وجہ سے جھکنا گوارا نہیں کرتا۔ رشتوں کو مضبوط بنانے کیلئے انسان کو اپنے اندر ایثار و قربانی، عفو و در گزر کا جذبہ پیدا کرنا پڑتا ہے۔ انہیں توڑنے کے بجائے جوڑنے کا کام کریں۔
آج کے اس پر آشوب دور میں ہم سب کو ایک دوسرے کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے لیکن افراتفری کے اس دور میں رشتوں کا تقدس ختم ہوتا جا رہا ہے، ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی دوڑ میں مصروف ہے۔ مادیت پرستی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ اس کے آگے رشتوں کی اہمیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ رشتے کمزور ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم انہیں نبھاتے کم اور آزماتے زیادہ ہیں۔ ہر کوئی ایک دوسرے سے شکوہ کناں رہتا ہے، ہم پرانی باتوں اور رنجشوں کو دل و دماغ سے نکالنے کی کوشش ہی نہیں کرتے اور ان کا زہر ہمارے حال اور مستقبل کے رشتوں کو کھوکھلا کر کے رکھ دیتا ہے۔
رشتے جسم میں روح کی طرح ہوتے ہیں جو احساس کی ڈور سے بندھے ہوتے ہیں۔ یہ ڈور اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ ہر آنے والے رشتے کو اپنے اندر پرو لیتی ہے۔ ساتھ ہی اتنی کمزور ہوتی ہے کہ جب ٹوٹتی ہے تو سارے رشتوں سمیت بکھر جاتی ہے۔ ہماری زندگی میں رشتے دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو قدرت کی طرف سے ہمیں بنے بنائے ملتے ہیں جو مستقل اور قدرت کی طرف سے عطاکردہ نعمت کی طرح ہوتے ہیں جبکہ دوسرے وہ رشتے ہیں جو انسان قائم کرتا ہے۔ یہ رشتے ٹوٹ بھی سکتے ہیں۔ ان میںسے کچھ مستقل ساتھ چلتے ہیں اور کچھ وقت کے ساتھ بچھڑ جاتے ہیں۔رشتوں کا توازن برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم اپنے اندر نرمی ،جھکاؤ اور برداشت کا رویہ پیدا کریں۔
آج کے مادہ پرستی یا مشینی دور میں ہمارا معاشرتی ڈھانچہ تباہ ہوچکا ہے۔ روزِ قیامت کی طرح ہر انسان کو اپنی ہی پڑی ہوئی ہے،کسی کے پاس کسی کیلئے وقت نہیں۔ عزیز رشتے داروں کے ساتھ مل بیٹھنا، ان کے ساتھ سیروتفریح سب کا سب ہمارے معاشرتی کلچر کا ماضی بن کر رہ گیا ہے۔ اب کوئی کسی سے ملنے کا روادار بھی نہیں رہا۔ آج کے انسان نے خودکو انتہائی محدود کرلیا ہے اب ’سوشل میڈیا‘ پر ہی وہ اپنے رشتے داروں، دوست احباب سے رابطے میں رہتا ہے، بات نہیں کرتا بلکہ ان سے صرف ’ایس ایم ایس‘ سے کام چلا رہا ہے۔ اس کا موبائل بیلنس اسے اپنے رشتے داروں اور دوستوں سے زیادہ عزیز ہے۔
درحقیقت رشتے احساسات سے جڑے ہوتے ہیں۔ اگر انسان کے اندر احساس ہی مر جائے تو ان ٹوٹتے ، بکھرتے رشتوں کی باریک کرچیاں ایسے زخم دے جاتی ہیں جواپنی سانسوں تک رستے رہتے ہیں اور پھر ان زخموں کا کوئی مداوا کرنے والا نہیں ہوتا۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض گھروں میں چھوٹی چھوٹی باتیں بڑے بڑے رشتوں کا یا تو سرے سے ختم ہی کردیتی ہیں یا پھر معمولی معمولی باتیں بڑے بڑے رشتوں میں بدگمانی کے ایسے سوراخ کردیتی ہیں کہ انسان ساری عمر ان ان سوراخوں میں وضاحتوں کی اینٹیں لگا کر بھی خوبصورت رشتوں کو نہیں بچا سکتا۔
اگر مزاج میں گرمی اور لہجے میں سختی ہو ،دماغ میں بڑائی اور دلوں میں حسد ،بغض اور کینہ ہو تو رشتوں کی نازک ڈور میں تناؤ بڑھتا چلا جاتا ہے اور یہی تناؤ دوریاں پیدا کرتا ہے۔ دنیا میں آنے کے بعد سب سے پہلا رشتہ ماں باپ اور بہن بھائیوں کا ہوتا ہے ،جو کہ سب سے مضبوط رشتہ ہے مگر ان رشتوںکو نبھانے کے لیے بھی عمر بھر حوصلے سے کام لینا پڑتا ہے۔ ماں باپ کی فرمانبرداری ان سے بے لوث محبت ،شفقت ،احساس اور بہن بھائیوں سے پر خلوص محبت ہی اس تعلق کو تاعمر مضبوط اور تواناں بناتا ہے۔
 نفسانفسی اور خود غرضی کی سوچ نے ہمارے خلوص کو دیمک زدہ کر دیا ہے۔ ہمارے تعلقات میں جھجک، مصلحت اور بناوٹ آگئی ہے۔ ہم اپنی زندگی میں کم سے کم لوگوں کو شامل دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم نے اپنی خوشیوں کو بانٹنا چھوڑ دیا ہے۔ خوشی تو خوشی اب غم اور دکھ کے مواقع پر بھی ہم فقط دنیا داری اور دکھاوے کو ہی مقدم رکھتے ہیں۔ تحائف کے تبادلے میں بھی یہ مدنظر رہتا ہے کہ اس نے ہمیں کس قیمت کا تحفہ دیا، لہٰذا ہم بھی اسی درجے کا تحفہ دے کر فقط احسان اتار دیتے ہیں۔ اب تحائف کے ذریعے اپنائیت کے اظہار کی باتیں خواب و خیال لگنے لگی ہیں۔بناوٹی رشتوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا بلکہ اپنے اندر بے لوث اپنائیت، خلوص، محبت اور انس کے جذبات پیدا کریں، ساری دوریاں اور تلخیاں ختم ہو جائیں گی۔ اپنی زندگی کو آسان اور خوشگوار بنانے کے لئے ہمیں آپسی رشتوں میں قربت اور اپنائیت کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا۔ برداشت اور رواداری کا مظاہرہ کرنے کے ساتھ دوسروں کو درگزر اور معاف کرنے کی عادت کو اپنانا ہوگا ۔اس کے علاوہ باہمی تلخیوں اور رنجشوں کو دلوں کا بغض اورکینہ بنانے کے بجائے بات چیت کے ذریعے معاملے کو فوراً ختم کرنے کی عادت کو اپنانا ہوگا۔ اب لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں کو انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں جس کی وجہ سے مضبوط سے مضبوط رشتوں میں دراڑ پڑجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اگر اپنے آس پاس پرنظر دوڑائی جائے تو ہر گھر بے سکونی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار نظر آتا ہے۔ہر گھر میں پریشانیوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔گھروں میں سکون اورتعلقات کی مضبوطی کیلئے ضروری ہے کہ رشتوں کے تقدس کا خیال رکھا جائے۔اگر گھر میں بڑے بزرگ ہیں یا بوڑھے ماں باپ ہیں تو ان کی عزت کی جائے ان کو وقت دیا جائے،میاں اور بیوی ایک دوسرے کا خیال رکھیں چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو درگزر کریں۔
اس بات میں بھی دو رائے نہیں کہ سب سے زیادہ مشکل جنگیں گھروں میں لڑی جاتی ہیں اور یہ جنگیں بہت ہی کٹھن ہوتی ہیں لیکن یہ ہمیشہ بے نتیجہ ثابت ہوتی ہیں اسلئے بھی کہ اپنوں سے لڑنے میں ہمیشہ ہار ہی ہوتی ہے۔ کاش ہر گھر کے مکیں اس صداقت پر یقین کر پاتے کہ زندگی کبھی آسان نہیں ہوتی ،اسے آسان بنانا پڑتا ہے کبھی برداشت کرکے اور کبھی کچھ نظرانداز کرکے کیونکہ رشتوں میں جب دراڑ آجائے تو زندگیاں لگ جاتی ہیں انہیںپْرکرنے میں۔ ویسے بھی انسانی محرومیاں، بچپن کی زیادتیاں، بچپن کی مار اور بچپن کے سمجھوتے ہماری ذات کے خلا بن جاتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑے ہوتے جاتے ہیں لیکن کبھی پْر نہیں ہوتے۔
رشتے احساس کے ہوتے ہیں اور احساس کے رشتے کسی دستک کے محتاج نہیں ہوتے، یہ تو خوشبو کی طرح ہوتے ہیں جو بند دروازوں سے بھی گزر جاتے ہیں۔ احساس کی عدم موجودگی کی وجہ سے رشتوں میں جو خلا پیدا ہوتا ہے وہ کبھی بھی پورا نہیں ہو پاتا۔ رشتوں کو نبھانے میں چند باتیں بہت اہم کردار ادا کرتیں ہیں۔ جیسے قوت برداشت، بردباری، مثبت انداز فکر کا ہونا ضروری ہے۔دوسرے کی غلطیوں کو درگزر کرنا رشتوں کو مضبوط بناتا ہے، کیونکہ ہر کسی میں خوبیاں اور خامیاں موجود ہوتیں ہیں۔حسد بغض اور کینہ رشتوں کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے، اسلئے دوسرے کی خوشی میں خوش رہنا سیکھیں، اس سے آپ کی اپنی زندگی سہل اور خوشگوار رہے گی۔ والدین کو چاہئے کہ بچوں میں رشتوں کی قدر اور اہمیت کا احساس پیدا کریں۔ رشتے درختوں کی مانند ہوتے ہیں، بعض اوقات ہم اپنی انا کی تسکین کیلئے ان کو کاٹ دیتے ہیں اور گھنے سائے سے محروم ہو جاتے ہیں۔
رشتہ خون کا ہو، یا دوستی کا ہو، اپنے خلوص اور محبت سے ان کی آبیاری کرتے رہیں، جس طرح ایک پودے کو پانی ،مٹی اور ہوا کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح رشتوں کو پنپنے کے لئے، مضبوط اور خوشگوار بنانے کے لیے احساس، پیار اور خلوص کی ضرورت ہوتی ہے۔ رشتوں کی گہرائی کا احساس برتائو اور رویوں سے ہوتا ہے۔وقت، دوست اور رشتے انسان کو مفت میں ملتے ہیں اور ان کی قدر ان کو کھونے کے بعد معلوم ہوتی ہے۔ اسلئے رشتوں کی قدر کیجئے، جب تک پیڑ سے لگے رہتے ہیں، سر سبز و شاداب رہتے ہیں اور جب پیڑ سے علاحدہ ہو جاتے ہیں تو اپنا وجود کھو دیتے ہیں۔ اپنے رشتوں سے جڑے رہیں، کیونکہ انہی رشتوں کی محبت، خلوص اور چاشنی میں زندگی کی بقا ہے، زندگی خوشگوار ہے۔