مطلب کا یار ہوں میں جنت سے میرا پیار

 
ادھر ہم تیز گرمی کے سبب پہلے ہی پریشان تھے ،اُدھر پار والے کپتان عمران خان اپنے عالمی تھانیدار ٹرمپ نامدار سے ملاقات کرنے امریکہ پہنچے۔ عجوبہ یہ ہوا کہ آنا ً فاناً اخباری شہ سرخیوں کی خشک سالی پر انکشافی رِم جھم سے ہر ایرا غیرا نتھو خیراجل تھل ہوا ۔ عالمی چودھری نے تمام تکلفات برطرف کر کے خان ِ خانان کو اندر کی بات کہی ، فرمایا: خان بھائی! کسی سے کہنا نہیں، یہ جو بھارت ورش کے مہابلی موڈی ہیں نا ، یہ اندر سے نرم ہیں، زبان ذرا سی گرم ہے۔ انہوں نے مابدولت کی بے کاری پر رحم کھاکر بیک وقت ناچیز کو دوپوسٹیں آفر کیں : ثالث برائے کی پوسٹ، صلح کار بابت کشمیر کی پوسٹ۔ مابدولت نے پوچھاکام ہے کیا؟ کہا جمی ہوئی برف کی سلیں سیاچن کے زِمستان سے پاپیادہ کندھے پر لاد کر لانی ہیں اور ملک ِکشمیر کی گرمی پر اسی برفانی پانی کا چھڑکاؤ کر نا ہے، تاکہ ارضِ جنت نظیر میں گرمی کی ایسی کی تیسی ہو۔ مہابلی موڈی کشمیر کی آگ ٹھنڈا کر نے پر مابدولت کو ویسے ہی مالامال کریں گے جیسے امبانی اوراڈانی کو کر رہے ہیں۔ مطلب کے یار ٹرمپ  کی زبانی یہ سن کر خان کی جان میں آگئی، انہیں لگا کہ وہ بنا کھیلے عالمی کپ جیت گئے، بولے : عالم پنا ہ ! دیر کس بات کی ؟ آپ ایک کروڑ نفوس سے دعائیں لیں گے، ہماری شبھ کامنائیں آپ کی نئی بزنس کے ساتھ ہیں   ؎ 
جو تم کو ہو پسند وہی بات کریں گے
 تم دن کو اگر رات کہوں رات کہیں گے
 عالمی تھانیدار کا یہ کہنا کہ میں آگ پہ برف باری کروں گا، یہ سنتے ہی پورب کیا پچھم کیا ، اُتر کیا دکھشن کیا، پورے ارض وسما ء میں یہی گرما گرم چرچے ہوئے کہ کشمیر میں اب گرمی کے دن لد گئے ، موسلاد ھار بارشوں کا موسم چلے گا ، نومن تیل بھی ہوگا رادھا بھی ناچے گی ، جو کام تاشقند ، شملہ ، آگرہ، کرگل، لاہور نہ کر سکا وہ واشنگٹن کا والی وارث چٹکیوں میں کر ڈالے گا، مگر ہم سوچتے رہے سوچتے رہے سوچتے رہے کہ جب برف کا دشمن عالمی تھانیدار ایک ایسی بلائے ناگہانی ہے جوآگ سلگانے ، شعلے بھڑکا نے ، جنگ کا تڑکہ لگانے، عرب عجم میں جنون کاری کی کاشت کاری کر نے میں کوئی ثانی نہیں رکھتا، جو پاجامے اور دستار کو آپس میں لڑواتاہے، کشمیر میں آگ ٹھنڈی کر کے آخر اپنا بازار مندا کیوں کر نے لگا ؟ حیرت کی گہرائیاںاور تعجب کی اونچائیاں ماپ ماپ کر اپنے دماغ کو کچومر نکالا مگرسیاستِ زماں کا یہ سراہاتھ نہ آیا ۔ پھر ہم نے تاریخ کی کتابوں کی جلدی جلدی ورق گردانی کر ڈالی ، گتھیاں سلجھانے لگے کہ اپنا عالمی تھانیدار ہر جگہ ایسی ہی برف ڈالتا ہے جس سے خوف ناک چنگاریاں اُڑتی ہیں، یکایک آگ لگتی بھی ہے پھیلتی بھی ہے ،جس میںانسان کیا چرند و پرند بھی جھلس جاتے ہیں، سمندر جل اُٹھتے ہیں ، کوہ و بیابان دہل جاتے ہیں ۔یقین نہ آئے تو ویت نام یا دکرو ۔وہاں بھی امن قائم کرنے کے نام پر آگ و آہن اسی نے برسایا تھا۔ ایک برف کی سل فلسطین میں بھی ڈال دی تھی کہ اس کے بطن سے صیہونی اسرائیل کا پودا پروان چڑھا ۔پھر اس پودے کی ایسی آبیاری کہ اس کی شاخوں پر زہر آلود پھل اگے جو بے سرو سامان فلسطینیوں کی زندگی اجیرن بنائے ہو ئے ہیں ۔تازہ ترین برف کی سل یرو شلم میں ڈال دی کہ اسے اسرائیل کی نئی راجدھانی تسلیم کر لیا۔ ابھی پرانے کانٹے ہی نکال رہے تھے کہ فلسطینیوں کے لئے عبور و مرور مشکل بنا دیا ۔ افغانستان میں سوؤیت یونین کو کھدیڑنے اور پھر افغانیوں کی اپنی سرکار بنانے کے نام پر بھی برف ڈال دی کہ لاکھوں لوگوں کو مرنے اور پناہ گزین بن جانے پر مجبور کردیا۔ادھر تازہ بہ تازہ عراق میں وسیع الاثر مہلک ہتھیار کھوجنے اور ان پر برف ڈالنے کے نام پر بھی ایسی افرا تفری مچا دی کہ طفل و جوان ، مرد و زن موت کی آغوش میں چلے گئے  اور یہ سلسلہ جاری ہے۔پھر لیبیا کے صدر معمر قدافی سے برس ہا برس کا حساب چکانے طرابلس میں اپنی برف نماآگ بھڑکانے گیا اور ایسی برف ڈالی کہ ابھی تک آگ جل رہی ہے کہ عوام اپنے سابق صدر کو دائیں دے دے کر یاد کر رہے ہیں کیونکہ امن وامان کا کہیں نام و نشان نہیں۔ ابھی یہ آگ جل ہی رہی تھی کہ شام میں برف ڈالنے گیا ،تو وہاں سے بھی تھانیداری کے شغل ِ برف کاری کے خوف سے لوگ بھاگ کھڑے ہوئے ۔کچھ سمندر کی لہروں کا لقمہ بنے ۔لاکھوں آگ و آہن کا شکار ہوئے۔لاکھوں تمبوں میں بے یار و مدد گار مر مر کر جی جی رہے ہیں۔ عالمی تھانیدار کی روح اس وقت تک تڑپتی رہتی ہے جب تک ابھی ایک جگہ کی پیاس نہ بجھے تو دوسری جگہ برف ڈالنے جاتا ہے ۔جبھی تو سیریا میں حال کچھ سنبھلنے لگا تو تھانیدار کی نیند اڑگئی کہ ہم تو بے کار ہوجائیں گے ۔کتنی دیر ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھیں رہیں ؟اس لئے نئی برف ایران کے آس پاس ڈالنے پہنچا کہ وہاں بھی امریکن میڈ امن کا قیام چاہئے ۔کہیں بحری بیڑے پہنچا دئے، کہیں تیل کی بر آمد پر پابندی لگا دی ، کہیں ایرانی کاروبار پر قدغن عائد کردی ۔کئی ممالک تو سستا ایرانی تیل خریدنے سے رہے کہ تھانیدار کا حکم ہے اور کسے نہیں معلوم کہ اگر تھانیدار کی حکم عدولی کی تو نیا ایف آئی آر درج ہوگا ۔ پھر تھانے بلا کر ایسی کان پکڑی کروائیں گے ، یا ہو سکتا ہے کہ مرغا بھی بنا دیں ۔بھلا ان حالات میں حکم عدولی کون کرے    ؎    
مقصد ان مہلک ہتھیاروں کا نہیں رفع جنگ
مدعا  یہ ہے کہ پھیلے اور اس دنیا میںروگ
ہتھیار سازان مغرب کا یہ مقصد ہے فگار
دوسری دنیا  ہی میں جائیں تیسری دنیا کے لوگ 
ہاں اب جو مسلٔہ کشمیر پر برف ڈالنے کی بات کی تو بھارت ورش کے ٹی وی دریندر ابل پڑے جیسے انگ انگ میں برف نہیں آگ لگی ہو ۔عالمی تھانیدار کو نہ جانے کیا کیا خطاب دئے ۔اسکرینوں پر لوگ گرجے بھی برسے بھی بلکہ کچھ اور کہنے کوترسے بھی ۔اور ہم ان کی حالت زار دیکھ کر ہنس بھی دئے کہ بھائی لوگو !تم ہی تو کل تک ترشول ہاتھ میں لئے اسی عالمی تھانیدار کے جنم دن پر جشن مناتے ،ٹرمپ پتلے کی پوجا کرتے ، آرتی اُتارتے ، سیندور کا ٹیکہ لگاتے اور اب ببابگ دہل کہہ رہے ہو کہ ٹرمپ جوپوجا کی تھی وہ سب غلط تھی کیونکہ یہ عالمی تھانیدار پوجا تو دور کی بات آنکھ مارنے کے لائق نہیں، یہ دُو جا ہے ،اسی لئے ہم نے پتنجلی والے بابا رام دیو سے بھی بنتی کی کہ تم بھی اس سے دور رہو۔
وہ جو کہتے ہیں گھوڑوں کے نال لگتے تھے تو گدھے بھی ٹانگیں آگے کر گئے ۔عالمی تھانیدار کی برف والی کہانی پر جو بھارتی میڈیا اور سیاست میں ہلچل مچی تو کہیں سے ہل والے میدان میں کودے اور عالمی تھانیدار کو چیتائونی دے ڈالی کہ حملہ آور خبر دار ہم نیشنلی ہیں تیار۔اس لئے ملک کشمیر کے بارے میں تیسرے فریق کی گنجائش نہیں ، کسی نے داخلے کی کوشش کی تو ہم ملک کشمیر کی زمین جوت کر دم لیں گے ، اس میں بھارت پاک کا پانی بھر کر کیچڑ اُچھا لیں گے تاکہ کوئی اور اس میں چل پھر نہ سکے۔کسی نے کوشش کی تو گھٹنوں گھٹنوں کیچڑ میں ایسے پھنس جائے گا کہ خدا خدا کرکے کپتان خان کی مہربانی سے افغانستان کے جھمیلے سے آزادی ملے لیکن ملک ِکشمیر کی نیشنلی کیچڑ سے بچ کر نکلنا محال ہوگا۔اس پر سنا ہے عالمی تھانیدار نیشنلی دھمکی سے بہت ڈر گیا ، اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کو حکم شاہی دیا کہ کسی بھی طرح نیشنلی یلغار سے بچائو کا طریقہ ڈھونڈ نکالو ۔
خیر اس بھاگم بھاگ میں اپنے وائسرائے کشمیر نے بھی ملک کشمیر کے طول و عرض میں برف کے بدلے ایسا بھڑکاؤ تیل ڈال دیا کہ سیاسی ہون کنڈ میں آگ کے بھبھوکے اُبھرے۔ ہوتا کیوں نہیں بھائی! بندوق کے دہانوں سے آگ ہی بھڑکتی ہے ۔پھر تو اپنے سیاسی چاپلوس اسے سپاری کہہ بیٹھے ۔ممبئی میں تو اسے سپاری ہی کہتے ہیں کہ بھائی مجھ سے پیسہ لو اور فلاں کو قتل کردو ۔مانا کہ وائسرائے کشمیر نے اسے غصے کی سپاری کہہ دیا پر اپنے سیاسی دریندر اور بیروکریٹک مچھندر بھی تھر تھر کانپ اٹھے کہ ایسا تو نہیں یہ نگاہیں کہیں اور نشانہ کہیں اور معاملہ ہو،یعنی سپاری کے نام پر غیر سرکاری بندوق برداروں کو اشارہ ہو پر ۔۔۔اس پر نیشنل کے ٹویٹر ٹائیگر بپھر گئے کہ راج بھون کے مکین یہ کیا بولی بول رہا ہے   ؎
کیا بتائوں اَہنسا کا پجاری ہوں جناب
ورنہ میں بھی اینٹ کا پتھر سے دے دیتا جواب
  اس پر وائسرائے نے دوسرا تیر پھینکا کہ ٹویٹر سے کام نہیں چلے گا ، ابھی تم طفل مکتب ہو ، دوبارہ کسی اسکول میں ایڈمشن لو ۔ہل والے قائد ثانی اس مخمصے میں ہیں کہ اتنی دیر سے سیاست دانوں کا نان نفقہ بند ہے ، دوبارہ نوکری کی تمام درخواستیں رد ہو ئی ہیں ، بھلا جب روٹی کے لئے پیسہ نہ ہو تو ا سکول ایڈمشن فیس کہاں سے بھریں ؟مگر طفل مکتب تو کہاں چپ بیٹھنے والا فوراً ٹویٹر کی چڑیا کے پر پھڑ پھڑائے اور وائسرائے کشمیر کے صاحبان اقتدار کو چیتائونی دے ڈالی کہ ۳۵؍اے کے نام کی دلی دربار والی میٹنگ کا بھاگڑ بلا (scare  crow) دکھا کر ڈرانے سے باز آجائو ۔ اتنا ہی نہیں ایک اور تنظیم کے اہل کار چلہ کش منسٹر صاحب کا امتحان لینے پہنچے کہ بھائی تم نے کبھی ہزاروں طلبا کا ڈیٹ شیٹ اجرا  کروایا تھا اور تو پچاس فیصد سیلبس پر ہی اکتفا کیا تھا ،مگر ہم تو کچھ اور حساب لینے آئے ہیں تاکہ ڈیٹ شیٹ اور کام الاٹمنٹ کا کھاتہ برابر رہے۔ان کو شک ہے جیسے امتحان کے وقت سیلبس میں کمی کی گئی، ویسے ہی ٹنڈر میں بھی سیلبس کم کیا گیا تاکہ کم پڑھے لکھے ٹھیکیدار بھی الاٹمنٹ پر ہاتھ صاف کرلیں ۔بھائی ہو کیوں نہیں جب ٹینڈر کا امتحان دینے والے سگے سمبندھی نکلیں تو کچھ تو رعایت بنتی ہے،کیونکہ ایسے ہی لوگ بعد میں الیکشن فنڈ کا چیک نہیں کیش دیتے ہیں ۔وہی کیش غریب ووٹر کوحماقت کی شاہراہ پر لانے کے لئے خرچ ہوتا ہے ۔اس کے کپڑے، روٹی ، نوش ناش کا انتظام بنتا ہے تب کہیں جا کے کرسی ملتی ہے اور آج کل کرسی کا نام ہی ہے عیش و عشرت اور چوری چکاری کا جو اسی کیش کے عوض خریدی جاتی ہے۔ یہ معاملہ وائسرائے نے صرف ڈیٹ شیٹ تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ ہوا میں تیر چلا دیا کہ دو اور وزرائے بے ترتیب کے دروازے پر بھی جانچ ایجنسی کی دستک ہو گی ۔ان کا بھی الاٹمنٹ نکلے گا ۔دروغ بر گردن راوی جس نے یہ اطلاع دی کہ اپنے سابق وزرا ء یہ خبر سننے کے بعد کہ تیر کمان سے نکل چکا ہے ، ہر لمحے اپنے جسم کو ٹٹولتے ہیں کہ کہیں تیر تو لگا نہیں ،کیونکہ تیر لگے گا تو زخم اُبھرے گا ، زخم سے پھر خون نکلتا ہے ۔خون نکلے تو بہتا ہے یا کہیں جم کر پیپ بنتا ہے ۔خون تو پھر بھی خون ہے علاج ہوگا لیکن پیپ تو سڑاند  پیدا کرتا ہے ،تب کہیں جان پہچان والے بھی پاس نہیں پھٹکنے نہیں دیتے۔اور اس بار مسلٔہ یہ ہے کہ دو کی آڑ میں سارے سابق وزراء ایک دوسرے پر ہی نہیں اپنے آپ پر بھی شک کر رہے ہیں کہ کہیں تیر میری طرف تو نہیں داغا گیا ۔ 
پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی ،اس لئے ہم قائد ثانی کا اعلان دہراتے ہیں کہ ریاست کی وحدت، شناخت اور اجتماعیت کا دفاع کرنا نو جوانوں کی ذمہ داری ہے۔کسے نہیں معلوم کہ نوجوان تو تیس سال سے نیچے کی عمر کے ہوتے ہیں اور ہل والی کانفرنس میں سب تیس سے زیادہ ہی ہیں ۔مطلب صاف ہے کہ سیاسی شعبدہ بازوں نے بڑی مشکل سے ریاست کے تین حصے کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی ۔ جبھی تو جموال کشمیری کو نہیں اپناتا ، لداخی اپنا نہیں مانتا، حد تو یہ کہ لیہہ اور کرگل والا ایک دوسرے کو گلے نہیں لگاتا ،اور تو اور شناخت جو ۳۷۰ ؍سے قائم تھی اس خزانے میں چوروں کی مانند گھس کر اسے لوٹتے رہے ۔بھلا وحدت و اجتماعیت کے نام پر رہا ہی کیا ہے ؟؟؟تین خطوں کے بیچ کمزور سے دھاگے پکڑے ہیں جو بس معمولی ہوا کے جھونکوں سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے ۔ چونکہ سیاسی مچھندروں کے سامنے کافی کام پڑا ہے جس میں الیکشن کروانا ، الیکشن جیتنا اور پھر عیش و عشرت کی کرسی سنبھالنا اور سب سے بڑھ کر یہ کہنا کہ ہم سب عوام کے لئے حجامتی کرامتی خدمتی میں مگن ہیں، اس لئے ریاست کے امیروں کی حفاظت کا کام غریب نوجوانوں کے کندھوںپر ڈال دیا ہے یعنی کام کا بٹوارا کردیا ہے، اپنا اپنا کام سنبھالو ۔چلو شاباش مر حبا!!!    ؎
کر چلے ہم فدا مرد و زن ساتھیو 
 رہ توجائے بات اپنی با وزن ساتھیو
عیش کی کرسی سنبھالیں گے اور کیا 
اب تمہارے حوالے وطن ساتھیو 
رابط ([email protected]/9419009169)