مضر صحت ملاوٹی غذاوؤں کی فروخت

 لاک ڈاون میں ڈھیل کے دوران بھی کشمیرکی بیشتر سڑکوں پرتلے آلو ، مٹھائیاں اور دیگر پکے ہوئے غذائی اجناس فروخت کرنے والے خوانچہ فروشوں کی قطاریں لگی رہتی ہیں اور دور دراز علاقوں سے آنے والے لوگ اور جلدی میں سفر کرنے والے مسافروں کی ایک بڑی تعداد اپنی بھوک مٹانے کیلئے انہی خوانچہ فروشوں کے سامنے بیٹھ کر غذائی اجناس کھاتے ہیں۔جہاں سڑکوں اور بازاروں میں ایسی ہی چھاپڑیوں پر غذائی اجناس خرید کرکھانے والے عام لوگوں کی شکایت ہے کہ سڑکوںپر ملنے والے غذائی اجناس غیر معیاری اور ملاوٹی ہوتے ہیں وہیں بڑے نام رکھنے والے ریستورانوں اور بیکری دکانوں کا بھی حال اس سے کچھ مختلف نہیں ہے اور اب ڈبہ بند خوراک نے یہ تمیز ہی ختم کردی ہے ۔چھاپڑی فروشوں، دکانوں اور ریستورانوں میں لوگوں کو فروخت کئے جانے والے غذا کی وجہ سے صارفین دست ، بخار اور دیگر بیماریوں کے شکار ہوتے ہیںجبکہ Processed Foodبنانے والے اور چھاپڑیوں اور دکانوں پر غذائی اجناس فروخت کرنے والے افراد اپنے کھانے کو مزہ دار بنانے کیلئے مختلف کیمیائی ادویات اور رنگوں کا استعمال کرتے ہیں جس سے کھاناغیر معیاری بلکہ جان لیوا بیماریوں کا سبب بھی بنتا ہے۔ جموں و کشمیر میں غذائی اجناس کے معیار اور بازاروں میں فروخت ہونے والے غذائی اجناس کی کوالٹی کو برقرار رکھنے اور فوڈ سیفٹی اینڈ سٹینڈارڈ ایکٹ 2006کی عمل آوری کیلئے جموں و کشمیر میں ڈرگ اینڈ فوڈکنٹرول آرگنائزیشن کا قیام عمل میں لایاگیا ہے مگر فوڈ اینڈ ڈرگ کنٹرول آرگنائزیشن جموں و کشمیر میں لوگوں کو بہترین اور معیاری خوراک فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے اور یوںیہ آرگنائزیشن ہاتھی کے دانت ثابت ہورہی ہے جو کھانے کیلئے اور ہیں او ردکھانے کیلئے اور۔ ڈلگیٹ میں موجود فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری غیر معیاری ہے اور یہ اُمید کے مطابق نتائج نہیں دے رہی ہے۔ ایف ایس ایس اے آئی کے ڈاکٹر للت اورڈائریکٹر ریفرلز میسور ڈاکٹر شیلندر کمار نے گزشتہ سال عدالت عالیہ کے دونفری بنچ کو بتایا تھاکہ پبلک ہیلتھ لیبارٹری پٹولی جموں اور پلک ہیلتھ لیبارٹری ڈلگیٹ معدنیات یا غلاظت کاکوئی تشخیصی ٹیسٹ نہیں کراتی۔ رپوٹ میں لکھا گیا تھا کہ لیبارٹری میں معمولی نوعیت کے سامان موجود ہیں جن میں الیکٹرونک بیلنس،  furnace muffle، butyro-refractometer اور ٹنٹومیٹر شامل ہیں۔ کمیٹی نے اپنی رپوٹ میں لکھا تھا کہ موجود ہ لیبارٹری فوڈ سیفٹی سٹینڈارڈ کے قوائد و ضوابط کے منافی ہے۔ فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی ترقی کیلئے سرکار کی جانب سے6کروڑ  50لاکھ روپے کی لاگت سے لیبارٹری میں کئی جدید آلات نصب کئے گئے تھے مگر اس کے باوجود بھی لیبارٹری میں کئی نمونوں کے نتائج حاصل کرنے میں ہفتوں درکار ہوتے ہیںجبکہ نجی سطح پر سرینگر کے بابہ ڈیمب علاقے میں قائم کی گئی فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری ابھی شروعاتی مرحلے میں ہے ۔فوڈ سیفٹی اینڈ سٹینڈارڈ ریگولیشن ایکٹ2011کے مطابق بھارت کے تمام ریاستوں میں غذائی اجناس اور کھانا فروخت کرنے والے تمام دکانداروں، چھاپڑی فروشوں ، فوڈ پروسیسنگ یونٹوں اور ریستوران کی رجسٹریشن کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے مگر جموں و کشمیر میں صرف فوڈ پروسیسنگ یونٹوں اور ریستوران مالکان کو ہی رجسٹریشن فراہم کی جاتی ہے جبکہ سڑکوں، چوراہوں پر مٹھائیاں، کھانا،بُنے ہوئے گوشت اور مچھلی فروخت کرنے والوں کو کوئی بھی رجسٹریشن فراہم نہیں کی جاتی ہے ۔ کشمیر میں کینسر جیسی مہلک بیماری کے پھیلائو کی بڑی وجوہات میں سے سگریٹ نوشی اور کھانوںکو رنگ دینے کیلئے مصنوعی رنگوں کا استعمال ہے اور ان مصنوعی رنگوں سے پیدا ہونے والے ذائقے کی وجہ سے ہی نوجوان نسل Processed and Packagedخوراک کھانے کے عادی ہورہی ہے۔ مصنوعی رنگوں کا استعمال نہ صرف Processed اور ڈبہ بند خوراکوں میں ہوتا ہے بلکہ بیکری تیار کرنے والی فیکٹریوں اور ریستوران میں بھی ہوتا ہے۔ جموں و کشمیر میں دو فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریز کے علاوہ 4فوڈ ٹیسٹنگ وینز بھی دستیاب ہیں مگر یہ وینز کہیں کسی کو نظر نہیں آتیں اور نہ ہی مارکیٹ میں ان وینوں کو دیکھا جارہا ہے۔ جموں و کشمیر میں قائم محکمہ فوڈ اینڈ ڈرگ کنٹرول آرگنائزیشن کے پاس 5فوڈ ٹیسٹنگ وینز موجود ہیں جن میں 2جموں اور 2کشمیر میں موجود ہیں مگر یہ ٹیسٹنگ وینز گرمیوں کے موسم میں یاتریوں کو معیاری غذا فراہم کرنے کیلئے استعمال کی جاتی ہے اور مقامی لوگوں کی صحت کو نظر انداز کرتے ہوئے مارکیٹ سے لئے گئے نمونوں کو ٹیسٹنگ لیبارٹری بھیجا جاتا ہے جہاں نتائج آنے میں ہفتوں درکار ہوتے ہیں۔ کشمیر میں فوڈ کنٹرول آرگنائزیشن نہ صرف لوگوں کو معیاری خوراک فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے بلکہ غیر معیاری غذا اور کھانا فروخت کرنے والے بھی سزائوں سے بچ جاتے ہیں اور فوڈ سیفٹی کے قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے ریستوران، بیکری مالکان اور چھاپڑی فروش جرمانہ دیکر صاف نکل جاتے ہیں اور یوں غذائی ملاوٹ بے قابو ہوچکی ہے جو اب صحت کیلئے بھی خطرہ بن چکی ہے ۔اس ضمن میں راست اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاہم ایسا لگ رہا ہے کہ یہ انتہائی اہم ترین شعبہ سرکارکی ترجیحات میں نہیں ہے کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو انسانی صحت پہلی ترجیح اور غذا کا معیار یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جاچکے ہوتے۔