مصطفی کمال کا رامسو میں تعمیراتی ڈھانچوں کو ہوئے نقصانات کا جائزہ

رام بن //نیشنل کانفرنس کے فاضل جنرل سیکرٹری ڈاکٹر شیخ مُصطفی ٰکمال نے رامسو میں سڑک کشادہ کرنے کی وجہ سے مکانات، مساجد اور قبرستان کو ہوئے نقصان کا جائزہ لیا۔سرینگر سے جموں آتے دوران انہوں نے پیر کے روز رام سو میں تھوڑی دیر قیام کرنے کے بعد وہاں  قومی شاہراہ کشادہ کرنے کی وجہ سے ہوئے نقصانات کا جائزہ لیا ۔اس موقعہ پر انہیں بتایا گیا کہ سڑک کشادہ کرنے کی وجہ سے زمین دھنسنے کی وجہ سے 40سے زائد ڈھانچوں بشمول ایک مسجد اور ایک قبرستان کو نقصان پہنچا ہے اور وہ غیر محفوظ بن گئے ہیں۔مکینوں نے شکایت کی کہ حُکام نے فقط 10گھرانوں کو معاوضہ فراہم کیا ہے اور وہ بھی بہت ہی قلیل یعنی کہ1.72 لاکھ روپے فی مکان اور ایک سال گُذر جانے کے باوجود وہ بھی ا بھی تک تقسیم نہیں کی گئی ہے۔انہوں نے مزید شکایت کی کہ مسجد اور قبرستان کو معاوضہ میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔لوگوں نے معاضہ کی رقم میں اضافہ کرکے اسے8 لاکھ فی مکان کرنے کامطالبہ کرتے ہوئے شکایت کی کہ قصبہ کے پُرانے پٹواری کو حُکام نے تبدیل کرکے لوگوں کے مشکلات میں اضافہ کیا ہے کیونکہ وہ مقامی مسائل سے واقف تھا ۔انہوں نے مبینہ شکایت کی کہ ڈپٹی کمشنر نے ایک مرتبہ بھی علاقہ کا دورہ نہیں کیا ہے۔ ڈاکٹر مُصطفیٰ کمال نے اجتماع کو یقین دلایا کہ وہ حُکام سے لوگوں کے مفادات کا تحفُظ کرنے کیلئے کہیں گے۔اس موقعہ پر عظمت اللہ میر، جگجیت سنگھ، محمد اشرف بٹ، بلال احمد میر، پرویز احمد سوہل، نواز احمدسوہل، محمد رفیق سوہل ،محمد رفیق منہاس و دیگران بھی موجود تھے۔