مشیر بھٹناگر نے جی ایم سی کٹھوعہ کا دورہ کیا ، آکسیجن جنریشن پلانٹ کے کام کامعائینہ کیا

کٹھوعہ//لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر راجیو رائے بھٹناگرنے کٹھوعہ کے گورنمنٹ میڈیکل کالج کا دورہ کیا اور جاری آکسیجن جنریشن پلانٹ کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔واضح ہے کہ حکومت نے سرکاری ہسپتالوں میں آکسیجن کی دستیابی کو بڑھانے کے لئے آکسیجن جنریشن پلانٹ کی منظوری دی ہے جو گورنمنٹ میڈیکل کالج ، کٹھوعہ میں آرہا ہے جہاں آکسیجن کی طلب کو پورا کرنے اور خود کفیل ہونے کے لئے 750 ایل پی ایم کے 3 یونٹ لگائے جارہے ہیں۔آکسیجن یونٹوں کو تنصیب کرنے کے لئے تفویض کردہ متعلقہ انجینئروں کی حاصل پیش رفت پر اطمینان کا اِظہار کرتے ہوئے مشیر موصوف نے حکام کو ہدایت دی کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اندر یونٹ کی تشکیل کو یقینی بنائیں۔مشیرموصوف نے ضلع ترقیاتی کمشنر کٹھوعہ راہل یادو کو ہدایت دی کہ وہ آکسیجن جنریشن پلانٹ کی تنصیب کے کام کو تیز تر کرنے اور جلد از جلد اس کے کام کاج کو یقینی بنانے کے لئے اِنجینئروں کی ٹیم کو تمام لاجسٹک مدد فراہم کریں۔راجیو رائے بھٹناگر نے کووِڈروکتھام اِقدامات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے جی ایم سی کٹھوعہ میں بیڈ کی دستیابی  اور داخل کووِڈ مریضوں کے موجودہ منظر نامے کے بارے میں دریافت کیا۔ اُنہوں نے پرنسپل جی ایم سی کٹھوعہ کو جی ایم سی کٹھوعہ میں صلاحیت کی انٹیک کو مضبوط بنانے کے دائرہ کار پر کام کرنے کی ہدایت دی۔مشیرموصوف کو صحت کے حکام نے ضلع کے گھریلو آئیسولیشن ،ٹیسٹنگ اور ویکسی نیشن منظرنامے سے بھی جانکاری حاصل کی۔اُنہوں نے لوگوں کو ویکسی نیشن کے فوائد سے آگاہ کرنے اور اُن کے شکوک و شبہات کو دور کرنے کے لئے کہا تاکہ ویکسی نیشن کی شرح کو مزید بڑھایا جاسکے۔اُنہوں نے کہا کہ حکومت نے ان اِداروں میں آکسیجن اور متعلقہ صحت سہولیات کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے اِنتظامات کے علاوہ لیول دوم اور لیول اوّل کووِڈ کیئر صحت سہولیات کی فراہمی کے لئے صحت مراکز میں خاطر خواہ اِنتظامات کیا ہیں۔مشیر موصوف نے متعلقین کوکورونا وائرس پر قابو پانے کے لئے رہنما اصولوں اور ایس او پیز پرجیسے  ماسک پہننے ، سماجی دوری برقرار رکھنے اور ہاتھوں کو صاف رکھنے عمل پیرا ر ہنے کو یقینی بنائیں۔اِس موقعہ پر ایس ایس پی کٹھوعہ آر سی کوتوال ، پرنسپل جی ایم سی کٹھوعہ ڈاکٹر انجلی نادر بھٹ ، سی ایم او ڈاکٹر اشوک چودھری ، ایس ای میکنیکل ، ایگزن میکنیکل ڈویژن کٹھوعہ سنیل گنڈوترا ، سربراہا ن اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔