مشرق و مغرب میں سائنسی تحقیق کا معیار | مسلمانوں کی عظمت رفتہ کے تناظر میں

اسلام نے انسان کو دنیا میں اعلی و ارفع اور بہتر زندگی گذارنے کے لئے تمام جائز کاوشوں کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے اور آخرت کے ساتھ ساتھ دنیا کی زندگی کے حْسن کی طلب کا بہترین طریقہ بصورت دعا بھی سکھایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوتا ہے "اور کوئی کہتا ہے کہ اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی ،  اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔" اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بار بار انسان کو اس کی عطاکردہ نعمتوں سے مستفید ہونے کی تلقین کی ہے۔مثلاً:"اے محمد ،  ان سے کہو کس نے اللہ کی اس زینت کو حرام کر دیا ہے جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا تھا اور کس نے خدا کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کر دیں؟ کہو ، یہ ساری چیزیں دنیا کی زندگی میں بھی ایمان لانے والوں کے لیے ہیں ،  اور قیامت کے روز تو خالصتاً انہی کے لیے ہوں گی۔ اس طرح ہم اپنی باتیں صاف صاف بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو علم رکھنے والے ہیں ۔"قرآن مجید کے ان واضح ارشادات کے بعد ہی روشن خیالی کا آغاز ہوتا ہے،ایک متوازن انسانی مجموعہ وجود میں آتا ہے،انسانی فطرت پر لگا ہوا قفل کھل جاتا ہے اور اس کے تمام عجائبات ،قوتیں اور کمالات سنور کے دنیا کے سامنے آجاتے ہیں۔اکثر غیر مسلم مفکرین تاریخ کا غیر جانبدار مطالعہ کرکے اس حقیقت تک رسائی حاصل کر پاتے ہیں کہ جدید سائنسی انقلاب عربوں کی دین ہے۔لیکن یہ بات یاد رہے کہ عرب خود قرآن کی وجہ سے ترقی کے افق پر نمودار ہوئے۔اس لئے یہ اسلام ہے جس نے تاریخ کے دھارے کو بدل ڈالا، علم کا حقیقی تصور پیش کیا، مختلف علوم کا حقیقی فلسفہ پیش کیا، دنیا کو مادی ترقی کے حیرت انگیز مظاہر سے روشناس کیا اور تحقیق و تفتیش کی روح یورپ میں منتقل کی۔اسلام سے پہلے یورپ کی طرح عرب واقعی دورِ ظلمت میں سانسیں لے رہے تھے لیکن اسلام کے بعد جو کام عرب مسلمانوں نے علم کے میدان میں کیا وہ قابل رشک ہے۔بریفالٹ نے لکھا ہے کہ عربوں کے بغیر جدید صنعتی تہذیب سرے سے پیدا ہی نہ ہوتی اور مزید لکھتا ہے جدید سائنس کا آغاز ہی نہیں ہوتا۔اسی حوالے سے ایم این رائے (M.N .Roy)نے کہا تھا’’جب کہ مسلمانوں کی فتوحات نے ایک تہذیب اور تمدن کو جنم دیا ،تمام پرانے علوم کو دوبارہ زندہ کردیا۔‘‘حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی فتوحات کے پیچھے تو قرآن مجید ہی آلہ انقلاب تھا۔قرآن ہی نے انسان کو توہماتی دور سے نکال کر سائنسی دور میں داخل کیا۔نزولِ قرآن کے ساتھ ہی اصلی احیاء علم (Renaissance)اور اصلاح ِ حیات (Reformation)کا افتتاح ہوتا ہے۔اس بات سے مجھے انکار نہیں کہ مغرب جس کے لئے قرون وسطی قرون مظلمہ (Dark ages )تھاجہاں  جہالت و تاریکی نے اپنا اصلی مسکن بنایا تھا،بعد میں عربوں کے ذریعہ جو علوم وہاں پہنچے تو وہاں بھی نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہوا لیکن یورپ میں ترقی کے آغاز کا سبب مسلمان ہی تھے۔مولانا ابوالحسن ندوی لکھتے ہیں :"یہ اندلس ( Muslim Spain) جس کے راستہ سے یورپ میں قدیم علمی ترکہ (فلسفہ و حکمت ریاضی وطب) منتقل ہوا، اس نے مغرب کو جو سب سے بڑا علمی تحفہ دیا وہ حقیقت پسندی اور منطق استقرائی ( Inductive logic) کا تحفہ تھا، اور جس نے قیاس و استختراج کی جگہ لی، جس نے مغرب کے طریق فکر ہی کو بدل دیا، اور اس کے نتیجہ میں سائنس اور ٹکنالوجی کو نہ صرف ترقی کرنے کا موقعہ ملا بلکہ حقیقت میں ان کا وجود عمل میں آیا".عربوں نے جب لکھنا شروع کیا تھا یورپ تب حروف تہجی سیکھ رہے تھے، نہ وہاں کوئی صنعت تھی اور نہ تہذیب وتمدن کے مراکز۔بغداد اور قرطبہ کے مہذب اور تعلیم یافتہ مسلمانوں میں اور لندن اور پیرس کے جاہل اور غیر مہذب باشندوں میں وہی فرق تھا جو ایک تعلیم یافتہ انسان اور ایک گڈریا اور چرواہے میں ہوتا ہے۔ یہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے کہ نشاۃ اولی کا آغاز صحرائے عرب میں ہی ہوا تھا۔عربوں کے نشاۃ اولیٰ ہی نے یورپ کے نشاۃِ ثانیہ کو وجود بخشا ہے ۔.Gustave lebon. لکھتا ہے :"لوگ تجربہ اور معائنہ (منطق استقرائی) کو جدید علمی تحقیقات میں بنیاد کا درجہ دیتے Bacon Francis کی طرف منسوب کرتے ہیں، لیکن ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اب اس کا اعتراف کیا جائے کہ یہ پورا طریقہ اور نظامِ فکر عربوں کی دین ہے"۔انسائکلوپیڈیا آف بریٹینکا کے مقالہ نگار نے لکھا ہے:"وہ تمام بنیادی لٹریچر جس نے یورپ کی نشاۃ ثانیہ کو ابھارا، وہ مسلم کتب خانوں (Libraries)کی عربی کتابوں کے ترجمہ سے حاصل کیا گیا تھا"۔فلپ ہٹی نے اپنی کتاب ہسٹری آف دی عربس میں لکھا ہے کہ "قرون وسطیٰ میں کسی بھی قوم نے انسانی ترقی میں اتنا حصہ ادا نہیں کیا جتنا عربوں (مسلمانوں)اور عربی زبان بولنے والوں نے کیا ہے"۔یہ مغرب کی منافقت ہے کہ ہر کامیابی کا سہرا اپنے سر باندھ لیا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی ترقی کا موازنہ اگر آج کی مغربی ترقی سے  بھی کیا جائے تو مغرب آج بھی اس معیار تک نہیں پہنچ سکتا ہے جو ماضی میں مسلمانوں نے سائنس کے حوالے سے قائم کیا تھا۔
قرآن مجید ہی کے اثر سے تحقیق، تلاش اور دریافتوں کادور شروع ہوا۔اعلیٰ و ارفع اور خوشحال زندگی گذارنے کی یہی تلاش ہے جس نے انسان کو کائنات کی ہر شے پر تحقیق کرنے ،اس کا علم حاصل کرنے اور اس کو قابلِ استعمال بنانے کا حامل بنایا۔قرآن مجید نے اعلان کیا :"کیا تم لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ نے زمین اور آسمانوں کی ساری چیزیں تمہارے لیے مسخر کر رکھی ہیں اور اپنی کھلی اور چھپی نعمتیں تم پر تمام کر دی ہیں؟ اس پر حال یہ ہے کہ ہے وغیرہ۔ے کچھ لوگ ہیں جو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی علم ہو ، یا ہدایت ،  یا کوئی روشنی دکھانے والی کتاب. "ہماری ماضی کی عظمتِ رفتہ کا سبب ہی قرآن تھا۔قرآن مجید پر ہی مسلمانوں کے ساری تعلیمی، فکری ،تہذیبی اور سائنسی سرگرمیوں کا دارومدار تھا۔ہمارے تمام علوم و فنون کی جڑ قرآن اور سنت تھی۔قاضی ابو بکر بن العربی نے لکھا تھا کہ "مسلمانوں کے جملہ علوم وفنون کی تعداد سات سو ہے۔ان سات سو علوم و فنون کا تعلق بالواسطہ یا بلاواسطہ سنت سے ہے".سنت رسول قرآن مجید کی تشریح و تفسیر ہے اس لئے قرآن مجید ہی ہماری ترقی کا ضامن تھا اور آج بھی ہے۔
نزول قرآن کے ساتھ ہی جملہ سائنسوں کی ترقی کے ساتھ ساتھ مادی سائنس میں بھی ترقی کی بارش ہوئی جس نے چین سے لیکر اسپین تک کے پورے خطہ ارض کو سیراب کیا۔اس خوبصورت و دلکش زمین کے خدو خال کو بیان کرنے کی دلچسپی نے جغرافیہ میں ایک انقلاب برپا کیا۔مسلمانوں نے جغرافیہ اور نقشہ سازی میں وہ مقام حاصل کیا تھا کہ آج بھی عربی جغرافیہ دانوں کے نقشوں کو دیکھ کر دنیا حیرت و استعجاب میں مبتلا ہوتی ہے۔اس حوالے سے دور جدید کے معروف محقق ڈاکٹر حمید اللہ راقمطراز ہے :"مسلمان ملاحوں اور جہاز رانوںنے بصرہ (عراق) سے چین تک کے بحری سفر میں جس مہارت و ہنر مندی اور جرآت و ہمت کا مظاہرہ کیس وہ باعث استعجاب و حیرت ہے۔یہ امر جدید مغربی کلچر پر مسلم اثرات کا ٹھوس ثبوت فراہم کرتا ہے جب ہم انگریزی کے معروف الفاظ کو دیکھتے ہیں کہ وہ عربی ماخذ رکھتے ہیں  مثلاً آسینل(Arsenal)،ایڈمرل(Admiral) ،کیبل(Cable) ،مون سون(Monsoon) ،ٹیرف (Tariff) وغیرہ۔"جغرافیہ کے میدان  میں مسلمانوں نے دنیا کو المسعودی، المقصیدی، مقدسی، ابن خلدون الادریسی جیسے محقق عطا کیے جن کے تحقیقی کاموں کی بنا پر جدید جغرافیہ اپنی اب تاب قائم کئے ہوئی ہے۔گردشِ زمین کا نظریہ پیش کرنے والا پہلا شخص احمد سجستانی تھا لیکن اس کا سہرا مغرب نے کوہر نکس پر باندھا ہے جو سراسر غلط اور ناانصافی ہے۔علم جغرافیہ کا پہلا محقق ابو البرکات تھا۔علم فلکیات (Astronomy )کے حوالے سے مسلمانوں کا گرانقدر اور ناقابلِ فراموش کارنامہ ہے۔علم فلکیات کا مسلم معاشرے میں ابتدا ہی سے رجحان تھا۔اس حوالے سے الجیریائی ماہر فلکیات پروفیسر نیدہل گیوسوم لکھتا ہے :"روایتی طور اسٹرونومی کو اسلامی شعائر کی پابندی میں دخل ہے۔مسلمانوں کو نماز کے اوقات، عیدین کا تعین (چاند سے کرنا پڑتا ہے) اور قبلے کا تعین کرنے کے لئے فلکیات کا سہارا لینا پڑتا ہے".علم فلکیات میں عربوں کی ترقی کی شہادت آج بھی بے شمار عربی ناموں سے ملتی ہے۔ سینکڑوں ستاروں اور نکشتروں کے نام عربی زبان سے ماخوذ ہیں جیسے التیر (Altair) ،دیناب (Denab) وغیرہ۔فلکیات کے حوالے سے دور جدید میں مسلم دنیا کا جو تحقیقی معیار ہے  وہ ناگفتہ بہہ ہے۔ایک ہزار سائنسی تحقیقی پیپرس میں فلکیات کے حوالے صرف تین پیپرز عربی محققین کے ہوتے ہیں۔اس کے برعکس مغربی دنیا کے 10سے 25کیدرمیان محققین کے پیپرز فلکیات پر مبنی ہوتے ہیں۔قدرتی و طبیعی سائنس کے حوالے سے بھی مسلمانوں کا کارنامہ حیرت انگیز تھا۔احمد بن محمد مسکویہ نباتات میں زندگی دریافت کرنے والا پہلا سائنسدان تھا۔"کتاب النبات "(  plants  of  Encyclopedia ) کے نام سے چھ ضخیم جلدوں پر مشتمل کتاب مسلم محقق و سائنسدان الدنیوری نے لکھی تھی۔جس کے متعلق Strassburg لکھتا ہے:"ایک ہزار سال کے مطالعہ و تحقیق کے بعد یونانی محققین  نباتات Dioscorides اور Theophrastus نے یونانی نباتیات کو اپنی کتب کے ذریعے ازسرنو زندہ کیا لیکن الدنیوری کا  کام اپنے علم و فضل و تبحر علمی اور وسعت و جامعیت کے لحاظ سے یونانی کام سے پھر بھی بہت آگے ہے".طب کے میدان میں بھی مسلمان پیش پیش تھے۔علی بن عیسی امراض چشم کا ماہر خصوصی تھا۔اس کی کتاب "تذکر? الکحلین "علم بصارت کا ایک انسائکلوپیڈیا ہے۔ابن الہیثم نے تو بصریات کے حوالے سے ایک ممتاز مقام حاصل کیا تھا۔ابن سینا، رازی ،ابوالقاسم ،ابن النفیس، الکندی، فارابی، البیرونی  سائنس کی تاریخ میں زندہ و جاوید ہیں ان کے برابرا کا مقام آج تک کوئی حاصل نہ کر سکا۔ابن سینا کی کتاب القانون فی الطب (  Medicine  of  Canon)یورپ کی طبی دنیا پر ایک عرصہ دراز تک چھائی رہی اور آج بھی اس کی اہمیت برقرار ہے۔ہوائی جہاز بنانے والا پہلا مسلمان تھا جس کا نام ابن فرانس تھا۔جس نے ایک آلہ کی مدد سے ایک لمبے فاصلے تک اڑان کی تھی لیکن بدقسمتی سے ایک حادثے میں ہلاک ہوا۔البیرونی علم ریاضی کا ماہر، ریاضی کے مسئلوں کا نیا حل دریافت کرنے والا، تنہا زمین کے محیط کی صحیح تحقیق کرنے والا، ماہر ارضیات اور آثار قدیمہ کا پہلا ماہر تھا۔عمر خیام پہلا شخص تھا جس نے لیپ سال کے بارے میں بتایا۔یہ اتنا عظیم محقق تھا کہ اس نے اصفہا ن میں ایک اعلیٰ پائے کی رصدگاہ (Observatory) تعمیر کروائی تاکہ عجائبات فلک کا مطالعہ کر سکے۔
(مضمون جاری ہے ۔اگلی قسط انشاء اللہ اگلی سوموار کو شائع کی جائے گی)
رابطہ ۔7780910136