.مشرق وسطیٰ کا سال2017

 مشرق وسطیٰ کے لیے سال 2017ء ڈرامائی تبدیلیوں کے ساتھ خون آلود ثابت ہوا۔ ایک طرف تو سعودی عرب میں ایسی تبدیلیاں رونما ہوئیں جن کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ جیسے سعودی شاہی خاندان کے اندر اقتدار کی کُھلی جنگ، ایک ولی عہد کا ہٹایا جانا، تو دوسری جانب امریکی صدر کا دورہ سعودی عرب اور اُس کے نتیجے میں شہزادہ محمد بِن سلمان کی خطے میں چھیڑ چھاڑ اور قطر کا مقاطعہ، یہ سال کے بڑے واقعات ہیں جو مشرق وسطیٰ کے مستقبل پر گہرے نقوش مرتب کریں گے۔
شاہ سلمان کا اپنے بیٹے کو تخت کا وارث بنانے کے لیے غیر معمولی فرمان اور کرپشن کے نام پر شہزادوں سمیت اہم حکام کی گرفتاریوں کے لیے اینٹی کرپشن کمیشن کا قیام، شہزادوں پر دورانِ حراست تشدد اور تیل کی گرتی قیمتوں سے ڈگمگاتی سعودی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے سعودی ولی عہد کا وِژن 2030ء مملکت کو نئی راہ پر ڈال چکا ہے۔سعودی ولی عہد کی آیت اللہ خامنہ ای کو مشرقِ وسطیٰ کا ہِٹلر قرار دے کر ایران کو برانگیختہ کرنے کی کوشش، لبنان کے وزیرِاعظم سعد حریری کا سعودی عرب میں استعفیٰ کا اعلان اور مُبینہ نظر بندی، امریکی صدر کا بیت المقدس (یروشلم) کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنا بھی مشرق وسطیٰ میں مستقبل کی نئی لڑائیوں اور کشمکش کا پتہ دیتا ہے۔شام اور عراق میں دولت اسلامیہ کے دبدبےکا خاتمہ، شام سے داعش کے جنگجوؤں کی اپنے ملکوں کو واپسی، مصر میں دولت اسلامیہ کے بم حملے، مصر میں محمد مرسُی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے امریکا اور مصر کے درمیان سرد تعلقات میں ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے پیدا ہوتی نئی گرم جوشی، سعودی اِمداد کی خاطر مصر کا بحیرہ احمر کے دو جزائر سعودی عرب کے حوالے کرنا، لیبیا میں خانہ جنگی جیسے معاملات بھی مشرق وسطیٰ میں اِس گزرتے سال کے نمایاں واقعات ہیں۔سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی اسرائیل سے پروان چڑھتی نئی محبت، امریکا سے اربوں ڈالرز کے اسلحے کی ڈیل اور جی سی سی کو نظر انداز کرتے ہوئے سعودی امارات دفاعی معاہدہ بھی 2018ء میں اُٹھنے والے طوفانوں کا اشارہ دیتے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ میں روس اور تُرکی کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ سرد جنگ کے بعد ایک اور بڑی کشمکش کی کہانی ہے، جس کے ساتھ اسلامی ملکوں کے فوجی اتحاد کا ڈالا گیا ڈول خطے کے ملکوں کی باہمی آویزش میں گُم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ اتحاد اِس سال سوائے ایک رسمی اجلاس کے زیادہ دکھائی نہیں دیا۔عشروں تک اندرونی اور سفارتی معاملات میں امریکا کی طرف دیکھنے والے عرب ملکوں کا باہمی جھگڑا اور خطے میں قائدانہ کردار کی کشمکش بھی 2017ء کے انوکھے واقعات ہیں جنہیں امریکی محکمہءِ خارجہ سے وابستہ رہنے والے سابق عہدیدار حیرت سے دیکھ رہے ہیں۔خلیجی جنگ کے دوران امریکی وزیرِ خارجہ جیمز بیکر نے عراق کے خلاف کویت اور سعودی عرب کی مدد کے بدلے اسرائیل-عرب امن عمل کے لیے سعودی قیادت سے چند وعدے لیے تھے۔ جیمز بیکر چاہتے تھے کہ سعودی عرب اُن وعدوں پر کُھل کر بیان دے لیکن امریکی وزیرِ خارجہ سر پیٹ کر رہ گئے جب سعودی حکام اُن سے کیے گئے وعدوں پر عمل کو تو تیار تھے لیکن زبان کھولنے پر رضامند نہ ہوئے اور چاہتے تھے کہ تمام امور امریکا خود ہی طے کرنے کے ساتھ ساتھ انجام بھی دے، مگر اب سعودی ولی عہد کا حزب اللہ کے خلاف کھل کر سامنے آنا، سعد حریری سے استعفیٰ لینا اور اسرائیل کو لبنان میں حزب اللہ پر حملے کے لیے اُکسانا حیرت انگیز سفارتی دلیری ہے، جو سعودیوں کے مزاج کا حصہ نہیں رہی۔ اسرائیل؍سعودی عرب رومانس بھی اب ڈھکا چُھپا نہیں، جس کے لیے امریکی، کویت اور عراق جنگ کے وقت سے کوششیں کر رہے تھے، یہ رومانس اگر کسی کے لیے راز بھی تھا تو ترکی میں دسمبر میں ہونے والا اسلامی تعاون تنظیم کا سربراہ اجلاس یہ راز کھل گیا۔ بیت المقدس کے معاملے پر ہونے والے اِس اجلاس میں شاہ سلمان پہنچے نہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، بلکہ سعودی وزیرِ خارجہ کو بھی نہ بھجوایا گیا، اور نائب وزیرِ خارجہ کی قیادت میں وفد نے سعودی عرب کی نمائندگی کی۔اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں سعودی عرب کے علاوہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے امیر بھی شریک نہ ہوئے۔ 52 ملکوں کے سربراہوں میں سے صرف 16 نے شرکت کی، یہ اطلاعات بھی ملیں کہ سعودی عرب نے فلسطین کے صدر محمود عباس اور مصر نے اردن کے شاہ عبداللہ کو اِسلامی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شرکت سے روکنے کی کوشش بھی کی، جس میں اُنہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ایک جعلی خبر کو بنیاد بنا کر اہم عرب ملکوں کی طرف سے قطر کا مقاطعہ بھی دنیا کے لیے ایک سرپرائز تھا لیکن قطر کا کہنا ہے کہ سعودی بائیکاٹ کے پیچھے متحدہ عرب امارات ہے، جس نے مبینہ طور پر قطر میں حکومت کا تختہ اُلٹنے کی بھی کوشش کی۔ شیخ تمیم بن حماد الثانی نے الزام لگایا کہ سعودی عرب قطر میں حکومت کی تبدیلی چاہتا ہے، اِس الزام کے بعد یورپی میڈیا میں بھی یہ خبریں آئیں کہ عرب امارات نے قطر کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے بلیک واٹر کی مدد لینے کا منصوبہ بنایا تھا۔واشنگٹن میں امارات کے سفیر یوسف القتیبہ اور اسرائیل نواز تِھنک ٹینک فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز (ایف ڈی ڈی) کے درمیان ہونے والی خط و کتابت نامعلوم ہیکرز سامنے لائے، جس میں اسرائیل کے ساتھ امارات کے رابطوں کا انکشاف ہوا۔ اِس کے علاوہ یوسف القتیبہ کے امریکی صدر کے داماد جارڈ کوشنر سے ای میل پر مستقل رابطوں نے مشرق وسطیٰ کی سیاسی کہانی عیاں کی۔امریکی صدر کے دورہِ ریاض کے بعد سعودی عرب کے ایک بلاگر نے شہزادہ محمد بن سلمان کی طرف سے ٹرمپ کو ایک ارب ڈالر نقد رشوت دینے کا بھی دعویٰ کیا، جو محمد بن سلمان نے خطے میں اپنی پالیسیوں کی امریکی حمایت کے لیے دی تھی۔ محمد بن سلمان کی طرف سے کرپشن کے خلاف مہم اور حکومتی اخراجات میں سادگی کی قلعی بھی کھلی جب پکاسو کی پینٹنگ 45 کروڑ ڈالر میں نیلام ہوئی اور نامعلوم خریدار نے رقم ادا کی، مغربی ذرائع ابلاغ نے اِس خریدار کا کھوج نکالا تو ڈور کا سِرا محمد بن سلمان تک جا پہنچا۔ فرانس میں 30 کروڑ ڈالر کا عالیشان گھر بھی کرپشن کے خلاف مہم اور سادگی کا پول کھولتا ہے۔
2017ء شہزادہ محمد بن سلمان کی داخلی محاذ کے ساتھ خطے میں جنگی اور سفارتی ناکامیوں کا بھی سال ہے، جس کی مثال یمن جنگ، قطر کا مقاطعہ، لبنانی وزیراعظم کا استعفیٰ اور پھر واپسی ہے۔یمن میں محمد بِن سلمان نے 2015ء سے نا ختم ہونے والی جنگ چھیڑ رکھی ہے، اور اِس کے جواب میں سعودی عرب پر بھی میزائل حملے ہو رہے ہیں، یمن میں سابق صدر علی عبداللہ صالح کے ساتھ سعودی عرب کی صُلح کی بات چلی تو سابق اتحادی حوثی باغیوں نے اُنہیں بے رحمانہ طریقے سے قتل کردیا، جس کے بعد سعودی عرب اور اِس جنگ میں اتحادی متحدہ عرب امارات کو یمن کی اصلاح پارٹی کی طرف ہاتھ بڑھانا پڑا ہے، خطے میں اخوان المُسلمین کی مخالفت اور یمن میں اخوان کی ہی ذیلی جماعت سے مدد مانگنا ایک ناکامی کے سوا کچھ نہیں۔شہزادہ محمد بِن سلمان اقتدار کی کشمکش اور سفارتی و جنگی ناکامیوں سے سعودی عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے سماجی تبدیلیوں میں تیزی لائے ہیں، پہلے خواتین کو ڈرائیونگ، پھر قومی دن پر خواتین کو اسٹیڈیم میں آنے کی اجازت، سرکاری سرپرستی میں میوزک کانسرٹس کا انعقاد دراصل اقدامات آنکھوں میں دھول جھونکنے کے برابر ہے۔ مالیاتی خسارے کی وجہ سے سعودی عوام سے مراعات اور سہولتوں کی واپسی کی وجہ سے کسی نئی ’عرب اسپرنگ‘ کا ڈر بھی سعودی شاہی خاندان کو عوامی مقبولیت کے اقدامات پر مجبور کررہا ہے۔ ماڈرن اسلامی چہرہ دکھانے کی یہ کوشش سخت گیر مذہبی حلقوں میں بے چینی بھی پیدا کرسکتی ہے۔سعودی عرب مقدس مقامات کے نگران ہونے اور دولت کے انبار کی وجہ سے خود کو خطے کا لیڈر سمجھتا ہے، اگرچہ یہ دو پوائنٹس اِس کے حق میں ہیں لیکن ایران کا اثر و رسوخ اِس کے قائدانہ کردار میں رکاوٹ ہے، ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد سعودی عرب کے ولی عہد نے ٹرمپ اور جارڈ کوشنر کے ساتھ ذاتی تعلقات استوار کرکے ٹرمپ کے ایران مخالف رجحان کو استعمال کرنے کی کوشش کی۔ٹرمپ ہر اُس پالیسی کو بدلنا چاہتے ہیں جو اوباما انتظامیہ نے اپنا رکھی تھی، اُسی میں فلسطین کا دو ریاستی حل اور بیت امُقدس کے معاملے کو التواء میں رکھنا بھی شامل تھا۔ ٹرمپ نے امریکی سفارتخانہ بیت المُقدس منتقل کرنے کا اعلان کیا، ٹرمپ ایران کے خلاف سعودی عرب کو مدد کے بدلے بیت المُقدس پر سعودی تعاون چاہتے ہیں، لیکن یہ اِس قدر حساس معاملہ ہے کہ سعودی عرب کُھل کر سامنے آنے سے گریزاں ہے، اگرچہ بیک ڈور رابطے اور ڈپلومیسی کام دکھا رہی ہے۔سعودی ویب سائٹ ایلاف کا اسرائیلی فوج کے سربراہ اور پھر اسرائیلی انٹیلیجنس چیف کا انٹرویو حُکام کی اجازت کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ یہ دو انٹرویوز بھی بیک ڈور رابطوں کا پتہ دیتے ہیں، ساتھ ہی اسرائیلی انٹیلیجنس چیف کی طرف سے شہزادہ محمد بن سلمان کو اسرائیل کے دورے کی دعوت اور اُن کی خواہش، کہ شاہ سلمان بھی اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو ریاض آنے کی دعوت دیناکھلے اشارے ہیں۔مصر اور سعودی عرب، اسرائیل کی طرف جھکاؤ دکھا کر لبنان اور اردن کو بھی شعلوں کی نذر کر رہے ہیں۔ لبنان کی حزب اللہ اِس صورت حال کا فائدہ اُٹھانے کی کوشش میں لبنان کو خانہ جنگی کی جانب دھکیل سکتی ہے جبکہ اردن، جو قبلہ اول کا عالمی سطح پر تسلیم شدہ نگران ہے، قبلہ اول کے حوالے سے کسی بھی اقدام سے براہِ راست متاثر ہوگا۔ اردن کے شاہی خاندان کو سعودی شاہی خاندان سے ذاتی گلے شکوے بھی ہیں، ہاشمی کہلانے والے اردنی شاہی خاندان کو گلہ ہے کہ محمد بن سلمان اُن سے اپنے خادموں جیسا برتاؤ کرتے ہیں۔اِن سارے عوامل کو مدِنظر رکھتے ہوئے مستقبل کی بات کی جائے تو یہ کہنا مشکل نہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں 2018ء امن کا سال دکھائی نہیں دیتا، ٹرمپ کی طرف سے بیت المقدس (یروشلم) کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنا خطے میں ایک ایسی آگ بھڑکا سکتا ہے جو بہت کچھ برباد کرنے کے ساتھ بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ 