مشرقی آذربائیجان صوبہ میں ہیلی کاپٹر حادثہ ایرانی صدر ساتھیوں سمیت جاں بحق

وزیر خارجہ ، صوبے کے گورنر اور سیکورٹی یونٹ کمانڈر 9مہلوکین میں شامل

ایجنسیز+یو این آئی

سرینگر //اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ابراہیم رئیسی اور وزیرخارجہ حسین امیر عبداللہیان ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہوگئے ہیں۔ پیر کی صبح حادثے کا شکار ہیلی کاپٹر کا ملبہ ملا تھ جس کے بعد ایرانی صدر اور ہیلی کاپٹر میں سوار افراد کے بچ جانے کی امیدیں دم توڑ گئیں۔تہران کے سرکاری ٹیلی وژن نے پیر کی صبح اس بات کی تصدیق کی کہ ابراہیم رئیسی اور ایرانی وزیرخارجہ ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہوگئے ہیں۔سینئر ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ صدر ابراہیم رئیسی، وزیر خارجہ اور ہیلی کاپٹر میں سوار تمام مسافر وں کے بچ جانے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔بعدازاں ایرانی حکام نے بھی ابراہیم رئیسی اور ساتھیوں کی موت کی تصدیق کردی ہے۔
اب تک کی صورتحال
ہیلی کاپٹر میں نو افراد سوار تھے، جن میں صدر ابراہیم رئیسی، وزیر خارجہ امیر عبداللہیان، مشرقی آذربائیجان کے گورنر مالک رحمتی، تبریز کے امام سید محمد الہاشم،صدر کے سکیورٹی یونٹ کے کمانڈر سردار سید مہدی موسوی، باڈی گارڈ اور ہیلی کاپٹر کا عملہ تھا۔حادثے کی وجوہات پر کوئی باضابطہ معلومات نہیں۔قافلے میں شامل دو دیگر ہیلی کاپٹر بحفاظت اپنے مقام پر پہنچ گئے۔ہیلی کاپٹر کی تلاش کے لیے دشوار گزار اور برفانی علاقوں میں امدادی کارروائیاں رات بھر جاری رہیں، دیگر ممالک کی ٹیمیں بھی شامل تھیں۔قبل ازیں ایران کے ہلال احمر کے سربراہ نے کہا تھا کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا لاپتہ ہیلی کاپٹر مل گیا ہے لیکن صورت حال اچھی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ صدر ابراہیم رئیسی کا ہیلی کاپٹر حادثے میں مکمل طور پر تباہ ہوگیا ، بدقسمتی سے، تمام مسافروں کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔ایران کے صوبہ مشرقی آذربائیجان کے پہاڑی علاقے ورزقان میں صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کا ملبہ ملا ہے۔ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا تھا کہ صدر ابراہیم رئیسی اور ایرانی وزیرخارجہ حسین امیر عبداللہیان کے ہیلی کاپٹر کو پیش آنے والے حادثے کے بعد بڑے پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو کا کام جاری ہے۔پاسداران انقلاب سمیت مختلف ممالک کی ٹیمیں حادثے کے مقام پر موجود ہیں، ترکیہ اور روس کے ریسکیو ماہرین بھی آپریشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔عرب میڈیا کے مطابق ترکیہ کے ڈرون نے ہیلی کاپٹر کا مقام ڈھونڈا جبکہ شدید دھند اور انتہائی خراب موسمی صورتحال کے باعث ریسکیو اہلکاروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
حادثہ کب پیش آیا؟
19 مئی کی شام ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کو آذربائیجان کے پہاڑی علاقے میں حادثہ پیش آیا تھا۔ایرانی صدر مشرقی آذربائیجان میں ڈیم کے افتتاح کے بعد واپس تبریز شہر کی طرف جارہے تھے۔مقامی میڈیا کے مطابق وہ ایران اور آذربائیجان کے سرحدی علاقے سے واپس لوٹ رہے تھے۔ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر کے ساتھ مزید دو ہیلی کاپٹر بھی شامل تھے، ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کو ملک کے شمال میں دھند کے باعث ہارڈ لینڈنگ کرنا پڑی تھی۔
ابراہیم رئیسی کا تعارف
63 سالہ ابراہیم رئیسی 2021 سے ایرانی صدر کے منصب پر فائز تھے۔ابراہیم رئیسی 1960 میں شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد میں پیدا ہوئے اور صرف 20 سال کی عمر میں انہیں تہران بالمقابل واقع شہر کرج کا پراسیکیوٹر جنرل نامزد کیا گیا تھا۔انہوں نے 1989 سے 1994 تک تہران کے پراسیکیوٹر جنرل کی خدمات انجام دیں جس کے بعد 2004 سے 2014 تک عدالتی اتھارٹی کے ڈپٹی چیف اور پھر 2014 میں نیشنل پراسیکیوٹر جنرل رہے۔انہوں نے 2021 میں ایک ایسے وقت میں بطور صدر ملک کی باگ ڈور سنبھالی تھی جب ایران شدید سماجی بحران کے ساتھ ساتھ اپنے متنازع جوہری پروگرام کے سبب امریکا کی وجہ سے عائد کی گئی پابندیوں کی وجہ سے معاشی دبا کا شکار تھا۔انہیں اپنے دور میں اس وقت شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا جب ستمبر 2022 میں مہسا امینی کی دوران حراست موت کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے گئے تھے۔تاہم مارچ 2023 میں علاقائی حریف تصور کیے جانے والے ایران اور سعودی عرب نے حیران کن طور پر ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہو گئے تھے۔غزہ میں 7 اکتوبر کو شروع ہونے والی جنگ نے خطے میں تنا ئومیں ایک مرتبہ پھر اضافہ کردیا تھا اور اپریل 2024 میں ایران نے اسرائیل پر براہ راست سینکڑوں میزائل اور راکٹ فائر کیے۔اتوار کو آذربائیجان کے صدر کے ہمراہ ڈیم کے افتتاح کے بعد تقریر میں ابراہیم رئیسی نے ایک مرتبہ پھر فلسطینیوں کے لیے ایران کی غیرمشروط حمایت کا اعادہ کیا تھا۔ایرانی صدر نے کہا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ فلسطین مسلم دنیا کا سرفہرست مسئلہ ہے اور ہمیں یقین ہے کہ ایران اور آذربائیجان کے عوام فلسطین اور غزہ کے عوام کی حمایت اور صہیونی حکومت سے نفرت کرتے ہیں۔
محمد مخبر نئے سربراہ
ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہونے کے بعد ملک کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے محمد مخبرکو حکومت کا نیا سربراہ مقرر کردیا۔محمد مخبر 50 روز کے اندر نئے انتخابات کروانے کے پابند ہیں۔ایرانی آئین کے مطابق اب نائب صدر محمد مخبر صدارتی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔68 سالہ محمد مخبر ابراہیم رئیسی کی طرح سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔1955 میں پیدا ہونے والے محمد مخبر ایرانی مصالحت کونسل کے رکن بھی ہیں۔ابراہیم رئیسی نے اقتدار سنبھالنے کے فورا بعد اگست 2021 میں محمد مخبر کو اپنا پہلا نائب صدر مقرر کیا تھا۔ادھرعلی باقری ایران کے نئے قائم مقام وزیر خارجہ ہوں گے۔ہیلی کاپٹر حادثے میں حسین امیر عبداللہیان کی ہلاکت کے بعد ایرانی حکومت نے قائم مقام وزیر خارجہ کا اعلان کر دیا۔

 

 

بھارت میں ایک روزہ سوگ ،وزیر اعظم کا اظہارِ رنج
نئی دہلی /یو این آئی/حکومت ہند نے ایران کے صدر ابراہیم رئیسی اور وزیر خارجہ امیر عبداللہیان کی ایک ہیلی کاپٹر حادثہ میں ہوئی موت پر ایک دن کے سرکاری سوگ کا اعلان کیاہے۔ مرکزی وزارت داخلہ نے پیر کے روز جاری بیان میں کہاہے کہ حکومت ہندنے انکے احترام میں 21مئی بروز منگل کو ملک بھر میں ایک دن کے سرکاری سوگ کا فیصلہ کیاہے ۔حکومت کے مطابق کل ملک بھر کی تمام سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا اور سرکاری طورپر کوئی تفریحی پروگرام منعقد نہیں ہوگا۔وزیر اعظم نریندر مودی نے صدر ابراہیم رئیسی کی موت پر آج گہرے رنج و غم اور ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ مودی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا ’’اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی کے افسوسناک انتقال پر گہرا دکھ اور صدمہ پہنچا۔ ہندوستان ایران دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں ان کے تعاون کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کے اہل خانہ اور ایرانی عوام کے ساتھ میری دلی تعزیت۔ ہندوستان دکھ کی اس گھڑی میں ایران کے ساتھ کھڑا ہے۔‘‘