مشترکہ مزاحمتی قیادت کا اننت ناگ چلو پروگرام،قصبہ فورسز کے حصار میں

 سرینگر+اننت ناگ//مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے آج یعنی جمعہ کو لالچوک اننت ناگ چلو کال کے پیش نظر انتظامیہ نے ضلع کے حساس مقامات پر بندشیں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے،جبکہ جنوبی کشمیر کے 4اضلاع میں ایک روز قبل ہی انٹرنیٹ سروس بھی منقطع کی گئی ہے۔ سرینگر کے  6پولیس تھانوں کے حدود میں آنے والے علاقوں میں بندشیں عائد رکھنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔

پروگرام

مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے آج یعنی15 دسمبر کو لالچوک اننت ناگ چلو کال دے رکھی ہے۔مزاحمتی قیادت نے ریاستی سرکار سے کہا ہے کہ وہ اگر خود کو جمہوری ہونے کا دعویٰ کرتی ہے تو انہیں اننت میں جلسہ کرنے کی اجازت دی جائے۔

کریک ڈائون

جلسہ کو ناکام بنانے کیلئے پولیس نے گزشتہ کئی دنوں سے متحرک مزاحمتی کارکنوں کو تھانہ نظر بند رکھا ہے ۔سید علی گیلانی جہاں پہلے سے خانہ نظر بند ہیں،وہیں محمد یاسین ملک کو تین روز قبل گرفتار کر کے سینٹرل جیل میں بند کردیا ہے۔ حریت(ع) چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کو بھی نگین رہائش گاہ میں نظر بند رکھا گیا ہے۔

جنوبی کشمیر میں قدغنیں

کال کے پیش نظر جمعہ کواننت ناگ قصبہ کے ساتھ ساتھ ضلع کے دیگر حساس مقامات پر لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ضلع انتظامیہ اور پولیس کے اعلیٰ حکام کے درمیان صلاح ومشورے کے بعد اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مزاحتمی قائدین و کارکنوں کو جمع ہونے سے روکنے کیلئے امتناعی احکامات نافذ رہیں گے۔ انٹرنیٹ سروس کو جمعرات کی شام سے پوری جنوبی کشمیرمیںمنقطع کیا گیا ہے۔ایک سنیئر پولیس افسر نے کہا کہ مزاحمتی جماعتوں کی طرف سے ممکنہ احتجاجی مارچ روکنے کیلئے احتیاتی طور پر کچھ حساس علاقوں میںبندشیں رہیں گی۔ضلع کے حساس مقامات پر ایک روز قبل ہی فورسز اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیااور کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نپٹنے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قصبہ کے داخلی اور خارجی راستوں پر فورسز اور پولیس کا پہرہ بٹھا یا دیا گیا ہے،تاکہ ضلع صدر مقام میں دیگر اضلاع سے آنے والے لوگوں کی نقل و حرکت کو مسدود کیا جائے۔جنوبی کشمیر کے 4اضلاع اننت ناگ، کولگام، شوپیان اور پلوامہ کو جوڑنی والی سٹرکوں پر ناکے بٹھا دئے گئے  ہیں۔پلوامہ ، شوپیان اور کولگام سے اننت ناگ کی طرف جانے والی سڑکوں کو سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور کھنہ بل سے آگے کسی بھی شخص کو لالچوک کی طرف جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔اسی طرح لالچوک کے گردونواح کے گلی کوچوں کو بند کر کے عوامی نقل و حرکت بند کردی گئی ہے۔

شہر سرینگر

 مزاحمتی کال کے پیش نظر سرینگر کے پائین شہر میں ممکنہ احتجاجی مظاہروں کو مد نظر رکھتے ہوئے شہر خاص کے4پولیس تھانوں نوہٹہ،خانیار،صفاکدل اور مہاراج گنج میں بندشیں عائد کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے،جبکہ مائسمہ اور کرالہ کھڈپولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں بھی جزوی طور پر بندشیں عائد کی جائیں گی۔ذرائع کے مطابق حکام کو خدشہ ہے کہ مزاحتمی کارکنان پائین شہر میں جمع ہوکر احتجاج یااننت ناگ کی طرف جانے کی کوشش کریں گے ۔