مسکن سے مکہ تک۔۔۔قسط3

اسلامی تاریخ میں جبل احد اور میدان احد کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے ۔ کچھ زائرین یہاں آتے ہیں لیکن تاریخ سے عد م واقفیت کی بنا پر بس ادھر ادھر نظر دوڑاکر اپنا راستہ لیتے ہیں۔جبل احد جس کے بارے میں حضور صلعم نے فرمایا کہ’’یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ ‘‘ اسی میدان احد اور جیل رماہ میں ہوئے حق و باطل کے درمیان ہونے والے  معرکہ نے عجب غلغلہ پیدا کیا ۔ فتح بالکل قریب تھی لیکن چند جانثار اپنی مقرر کردہ جگہوں سے تھوڑی دیر کے لئے کیا ہٹ گئے کہ زبردست پریشانیوں اور جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ خود حضور صلعم صرف اپنے چندساتھیوں سمیت میدان احد میں ڈٹے رہے اور کئی زخم مبارک چہرے کو لگے۔فداہُ اَبی وَاُمی ۔ انہیں کہا گیا تھا   ؎
فلک ٹوٹے زمین پھٹ جائے موت آئے کہ دم نکلے
مگر ہرگز نہ ہادی کی اطاعت سے قدم نکلے
بس تھوڑی دیر دائر ہ اطاعت سے باہر آئے تو ہوش ربا مناظر دکھائے گئے، پھر سنبھلے ،  دامن اطاعت میں آگئے تو ہاری ہوئی جنگ جیت کر ظفر یاب ہوئے ۔یہاں پہنچ کر اسلامی تا ریخ کا طالب علم تاریخ کی بھول بھلیوں میں گم ہوجاتا ہے۔ جبل رماۃ کے تیراندازوں کی یا د سید الشہداء حمزہؓ کی شہادت اور حضور ؐ کا کوہ استقامت بن کے کھڑا رہنا ،یہ سب یاد آکر ذہن و دل میں عجب طرح کا انقلاب بپا کردیتا ہے۔شہدائے احد کو حضور صلعم کے ارشاد کے مطابق میدانِ قتال میں ہی دفن کیاگیا۔احد پہاڑ کے دامن میں غار کے نیچے جس جگہ حضور صلعم نے احد کے دن ظہر کی نماز ادا کی وہاں ایک مسجد بنی تھی جس کے اب آثار باقی ہیں۔ارد گرد حفاظتی جنگلہ لگایاگیا ہے۔
مدینہ منورہ کے عین وسط میں جبل سلع ہے، مغربی دامن میں بنو حرام کی آبادی تھی۔ جنگ خندق کے دوران اسی پہاڑ کے قریب غار میں حضورصلعم نے قیام فرمایا، دعائیں کیں، فتح نصیب ہوئی۔ سعودی حکومت نے اس پہاڑ کے گرد لوہے کے مضبوط جنگلے نصب کئے ہیں ۔اسی پہاڑکے دامن میں جنگ خندق کے دوران صحابہؓ  خیمہ زن تھے ، اور اس کی خوبصورتی کے لئے مصنوعی آبشار لگائے گئے ہیں ۔ ایک باغیچہ بھی باغیچہ فتح کے نام سے یہاں موسوم ہے ۔مدینہ منورہ کی تاریخ میں مساجد سبعہ کو جو سلع پہاڑ کے دامن میں واقع ہیں، بڑی اہمیت حاصل ہیںاور جن عظیم ترین شخصیات کے مبارک ناموں سے یہ مساجد موسوم و منسوب ہیں، ان کی حیات مبارک کا ورق ورق انسان کے اندر انقلاب انگیز تبدیلیاں بپا کردیتا ہے۔ مسجد نبی حرام ، مسجد منارتین، مقام بیداء وادی عقیق، وادیٔ بطحان، وادیٔ مہزور، وادیٔ قناہ عاقول ڈیم، بس دیکھنے اور ان کی تاریخ جاننے سے تعلق رکھتے ہیں۔ مدینہ منورہ میں بعض تاریخی کنویں بزبان حال اپنا اپنا ماضی بیان کرتے ہیں۔ بئر رومہ، بئر حا، بئر غرس، بئرعروۃ، بس ان کی تاریخ جاننے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بئر اریسں تو وہ کنواں ہے جس میں حضور صلعم کے وصال پرملال کے بعد خلفاء کے ہاتھ میں آنے والی وہ مقد س انگوٹھی جس پر محمد رسول اللہ ؐ کے مبا رک الفا ظ کندہ تھے، حضرت عثمان ؓ کے مقدس دست مبا رک سے گر گئی ہے۔ یہ کنواں مسجد قبا کے قریب مغربی جانب واقع تھا۔او رچودھویں صدی کے آخر میں سڑک کی توسیع کے دوران زیر زمین آگیاہے۔ بئرغرس کو میں دیر تک دیکھتا رہا کہ میرا محبوب فدا ابی و امی اس کا پانی نوش فرمانے یہاں تشریف لے آتے اور اسی کے پانی سے غسل دینے کی وصیت بھی فرمائی تھی۔ یہاں زائرین اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ مسلمانوں کے تہذیبی اور تعلیمی ورثہ کو محفوظ رکھنے اور نئی نسل کو قرآن و سنت کے لازوال پیغام سے آگاہ کرنے کے لئے یہاں کیا ہورہا ہے ۔ مسجد نبویؐ شریف کے شمالی سمت ۱۳۵۲ھ میں قائم کی گئی لائبریری ۱۳۹۹ھ میں باب عمر سے متصل ہال میں منتقل کی گئی جس میں علوم حدیث، کتب علوم تفسیر ، فقہ، کتب اصول فقہ، تایخی کتب،مخطوطات، نادررسائل و رجرائد شامل ہیں۔ ملک عبدالعزیز لائبریری بھی اپناخاص نام کما چکی ہے۔ عام مخطوطا ت و کتب کی تعداد ۱۳۰۰۰ ہے جب کہ نادر و نایاب کتابیں ۲۵۰۰۰اور دیگر مطوعہ کتب ۴۰۰۰۰ سے زیادہ ہیں۔ اس لائبرری میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کے مقالہ جات کو جمع کرنے کا اہتما م بھی کیاگیا ہے۔ اس کے علاوہ کنگ فہد پرنٹنگ پریس بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ قرآن حکیم کے نسخوں کی بہترین وطباعت کاکام یہاں ہوتا ہے۔ اس پریس سے اب تک دنیا کی ۳۹ زبانوں میں قرآن حکیم کے تراجم و تفاسیر شائع ہوئے ہیں جن میں کشمیری زبان بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ مرکز تحقیقات بھی قابل دید ہے ، جہاں ریسرچ کاکام ہوتا ہے۔ 
بہر حال بات شہر تا جدار مدینہ صلعم سے شروع ہوگئی تھی اور محبوبؐ کے شہر کے ذرّے ذرّے سے محبت ایمان کی دلیل ہے۔ ممکن نہیں کہ مدینہ منورہ کی ساری تاریخ کا احا طہ کر پاؤں۔ یہاں کا ہر حجروشجر اپنے اندر ایک تاریخ لئے ہوئے ہے اور یہ سب اس لئے کہ یہ شہرِ جانان ہے اور سب عظمتیں اور رفعتیں انہی محبوب ؐکی نسبت سے اسے حاصل ہیں۔ ہاں عازم مدینہ ہوئے تو ان مقامات میں سے اکثر کو دیکھ کر جہاں روح و دل عجب طرح کا سکون محسوس کرتا ہے، وہاں دل مسجد نبویؐ میں اٹکا رہتا تھا۔ ہر نماز یہاں ادا کرنے کی کوشش کی اور پھر وہ گھڑی آہی گئی جب جذبات کے تلاطم خیز سمندر پر قابو رکھ کر کوئے دلبر سے سوئے وطن جانے کی ہدایت ملی۔ بس اس دن کا شوق و اضطراب مت پوچھئے ۔ محبوب ؐ کی مسجد سے چمٹے رہے ، روتے رہے، بلکتے رہے اور پھر روضۂ اطہر پر جانے کی بے جا جسارت تک کی ۔ اپنے اعمال نامہ کی سیا ہی دور رہنے کا تقاضا کررہا تھی لیکن محبوبؐ سے تعلق اور امت کے تئیں راتوں ان ؐکے رونے جاگنے کا عمل نزدیک سے گذرنے کا دلاسادے رہا تھا۔یہ امید بھی بر آئی اور یہ نصف شب سے کچھ پہلے کا سماں تھا۔ بھیڑ بہت کم تھی، ہزاروں عمریں ان ساعتوں پر قربان جو یہاں آرام اور کسی بھیڑ بھاڑ کے بغیر گذریں۔ میں محبوب ؐکے روضے کے سامنے صلوٰہ و سلام کا بار بار ورد کرتا رہا ، آنکھیں تھی کہ اشکوں کا سیل رواں زمین حرم نبویؐ پر گرارہی تھیں۔ا حساس یہ تھا کہ آنسوؤں کے ان قطروں کی آواز بھی نہ سنائی دے کہ یہ بھی بے ادبی ہے، اندرہی اند ر امت کی حالتِ زاروزبوں پر ماتم کناں تھا اور سوچ رہا تھا کہ یہ عرب وعجم میں ہم پر قہر و ستم کی یورشیں کیوں؟اسی لئے ناکہ ہم آپ ؐ سے کٹ گئے ہیں، جس امت کو آپ ؐ نے جسد واحدبنایا تھا وہ قومیتوں اور مختلف تقسیمو ںمیں منتشراور بٹی ہو ئی ہے۔ فکری افلاس، ذہنی انتشار اور بے یقینی کا عالم ہے، چراغ مصطفوی ؐاور شرار بولہبی کی پنجہ آزمائی آج بھی جاری ہے ۔عرب، ہاں عرب آج ان کے دست نگربن گئے ہیںجن کو ہم نے ، عربوں نے، عجمیوں  نے غرض تمام مسلمانوں نے حرف تکلم سے آشناکیا تھا، جن بتوں کو آپؐ نے پاش پاش کرکے کعبہ کو پاک کیاتھا، آج نت نئے ناموں اور نئے لباسوں میں وہیں صنم خانے ہمارے اعصاب پر سوار ہیں اور ہم غیر شعوری طور ہی نہیں شعوری طور بھی ان کے سامنے باادب غلا موں کی ما نند کھڑے ہیں۔ آج ہمارے بعض حکمران خود اپنی ملت کو اسلام بیزاراورحق دشمن یورپ کے قدموں میں بالجبر ڈالنا چاہتے ہیں۔ ملت کا نوجوان بے راہ رو ہے، والدین ، استاد، معاشرہ ،مدرسہ معلم ، علماء،فقہاء سب اپنی ذمہ داریوں سے ناآشنا مادہ پرستی کی دوڑ میں دنیا ومافیہا سے بے خبر سر پٹ دوڑ رہے ہیںاور حقیقت حال یہ ہے کہ اپنے کرمو ں کے دنیو ی پھل کی صورت میں ہم پٹ رہے ہیں، کٹ رہے ہیں،مٹ رہے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ہم نے حضور اکرم  ؐ سے اپنا رشتہ و تعلق میں بہت بڑی خلیج  پیداکی ہے اور حرمین کی ضیا پا شیو ں اور اپنی زندگیو ں کے درمیان فاصلے اور مسافتیں وجود میں لا ئی ہیں، دل کی دنیا میں یہ صدائیں جاری تھی کہ میں یہ کہتے ہوئے روبہ کعبہ قبلہ ہاتھ پھیلائے کھڑا تھا    ؎ 
نہ نالم از کسے مے نالم از خویش 
کہ ما شایانِ شان تونہ بود یم
گریہ وزاری کے اسی عالم میں بے محا بہ ہچکیاں بندھ گئیں، رقت طاری ہوئی، آنسو پونچھے اور رخصت ہوا۔ اگلے روز فجر و ظہر کی نماز پھر مسجد محبوبؐ میں ادا کی ،پھر قلب مفطر پھوٹ پھوٹ کر رویا ۔آنسوؤں نے مسجد محبوبؐ کے صحن مقدس کو تر بتر کردیا ۔بہ صد یاس و غم یہ کہہ کر سوئے وطن روانہ ہوا کہ اے مولا !محبوب ؐاور شہر محبوب ؐکے ساتھ محبت وارفتگی میں اضافہ در اضافہ کرکہ یہی دلیل ایمان ہے۔پھر حر مین شریفین بلالے اور با ر بار بلانے کا یہ عمل تا زیست جاری رکھ۔آمین ( ختم شد)
9419080306