مسلم پرسنل لا بورڈ حکومت کو قانون بنانے سے روکنے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرے :شمشیر خان پٹھان

ممبئی//مرکزکی بی جے پی حکومت نے آئندہ پارلیمنٹ اجلاس میں طلاق ثلاثہ پر پابندی عائد کرنے کے لیے نیا قانون بنانے کے مقصد سے ایک بل پیش کرنے کا منصوبہ بناچکی ہے اور اس معاملہ میں مسلم پرسنل لاءبورڈ کو سپریم کورٹ سے رجوع کرکے حلف نامہ داخل کرنا چاہئے ،اس کا مطالبہ عوامی وکاس پارٹی کے صدراور سابق سنیئر پولیس افسر شمشیر خان پٹھان نے کیا ہے ۔شمشیر خان پٹھان نے مزید کہا کہ دنیا کے 12ممالک میں طلاق ثلاثہ پر پابندی ہے کیونکہ یہ غیر اسلامی اور غیر شرعی ہے ۔ طلاق ثلاثہ کی وجہ سے کئی گھر تباہ ہو گئے اور اس پر روک لگانے کی ہندوستان میں کسی نے بھی کوشش نہیں کی بلکہ ہر وقت طلاق ثلاثہ کو جائز قرار دیتے رہے ۔ چندمسلم خواتین جن کی طلاق ثلاثہ کی وجہ سے ان کی شادی شدہ زندگی تباہ ہو چکی تھی انہوں نے تقریبا ایک سال قبل سپریم کورٹ میں عرضی داخل کر کے طلاق ثلاثہ پر پابندی کی گذارش کی اور کورٹ میں سماعت کے دوران مسلم پرسنل لا ءبورڈ نے 65صفحات کا حلف نامہ داخل کیا جو کافی اعتراض سے پُر تھا۔ واضح رہے کہ مسلم پرسنل لا ءبورڈنے طلاق ثلاثہ کو جائز قرار دیا، لیکن مقدمہ کی کارروائی کے دوران چند مسلم دانشوروں کی جانب سے طلاق ثلاثہ کی مخالفت کرنا شروع کیاتب کہیں جا کر مسلم پرسنل لا ءبورڈ نے کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا کہ جو مرد اپنی بیوی کو ایک ہی بارمیں تین طلاق دے دے گا اس کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے گا اور یہ حلف نامہ اس وقت داخل کیا گیا جب مسلم پرسنل لا ءبورڈ نے یہ سمجھ لیا کہ مسلمانوں میں طلاق ثلاثہ پر پابندی لانے کیلئے آواز اٹھ رہی ہے اس کے بعدمسلم پرسنل لا ءبورڈ نے اگلے حلف نامہ میں یہ کہا کہ تمام قاضیوں کو یہ حکم نامہ جاری کیا گیا ہے کہ نکاح کے وقت دولہے سے یہ کہا جائے کہ اگر بیوی اور شوہر میں نااتفاقی پیدا ہوجائے تو کسی بھی قیمت پر ایک وقت میں تین طلاق نہ دے ۔ اس طرح سے مسلم پرسنل لا ءبورڈ نے دبے لفظوں میں طلاق ثلاثہ کی مخالفت کی لیکن طلاق ثلاثہ جائز ہے اس پر اڑے رہے اور بالآخر سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ کہا کہ طلاق ثلاثہ شرعی نہیں ہے اور نہ ہی قرآن مجیدمیں اس کا ذکر ہے اور پانچ مہینہ کیلئے طلاق ثلاثہ پر پابندی عائد کر دی اور مرکز ی حکومت سے ان پانچ مہینوں میں طلاق ثلاثہ پر پابندی لانے کیلئے قانون بنانے کیلئے ہدایت دی گئی۔ شمشیرخان پٹھان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ان کی اور کئی دیگر افراد نے مسلم پرسنل لا ءبورڈسے گذارش کی تھی کہ طلاق ثلاثہ پر پابندی کو قبول کر لیا جائے اور اس طرح کا حلف نامہ سپریم کورٹ میں داخل کر کے حکومت کو قانون بنانے سے روکا جائے کیونکہ کوئی بھی حکومت مذہبی معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی ہے اور اگر ایک بار مداخلت کی تو ہر بار مداخلت کرے گی اور دوسر ی بات یہ کہ حکومت طلاق ثلاثہ پر پابندی کے علاوہ اوربھی کئی مذہبی باتوں کو اس میں شریک کرے گی لیکن مسلم پرسنل لا ءبورڈ کے لوگوں پر اور خاص کر کے مولانا ولی رحمانی پر اس بات کا کوئی اثر نہیں ہوا اور موسم سرما کے پارلیمنٹ سیشن میں حکومت طلاق ثلاثہ پر پابندی کیلئے بل پیش کرے گی۔ پٹھان کا کہنا ہے کہ ابھی بھی وقت ہے کہ اب بھی مسلم پرسنل لا ءبورڈ نے سپریم کورٹ سے رجوع ہو کر طلاق ثلاثہ پر مکمل پابندی عائد کرنے کی بات کو قبول کر لینا چاہیئے اور اس طرح کا حکم نامہ ہندوستان کی سبھی شاخ کو بھیج دینا چاہئے اور سپریم کورٹ سے گذارش کی جانی چاہیئے کہ حکومت کو طلاق ثلاثہ بنانے سے روکا جائے اور اگر مسلم پرسنل لا ءبورڈ نے ایسا نہیں کیا اور حکومت کی جانب طلاق ثلاثہ کی آڑ میں اگر کوئی ظالمانہ قانون عائد کیا گیا تو مسلم پرسنل لا ءبورڈ کو اس کی ذمہ داری قبول کرنی ہو گی اور انہیں اپنے آپ کو مسلم پرسنل لا ءبورڈسے مستعفی ہونا پڑے گا۔ شمشیر خان پٹھان نے مسلم دانشوروں سے گذارش کی ہے کہ اس معاملے کی جلد از جلد پہل کریں اور مسلم پرسنل لا ءبورڈ کو سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کیلئے مجبور کریں۔یو این آئی