مسلم ممالک میں کشت و خون اسلام کی تعلیمات کی غلط تشریح کا نتیجہ، کشمیر سیاسی مسئلہ ،طاقت کی بنیاد پراسکا تصفیہ نہیں ہوسکتا:محبوبہ مفتی

سرینگر//بندوق کو تباہی کا سامان قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ جنت مختصر راہ(شارٹ کٹ) سے حاصل نہیں ہوتی۔ وزیر اعلیٰ نے بندوق کی تباہ کاریاں لوگوں تک پہنچانے میں ایماء مساجد سے مدد طلب کی۔انہوں نے کہا’ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے‘اور بات چیت کے ذریعے یہ تنازعہ حل کیا جاسکتا ہے،نہ کہ طاقت کی بنیاد پر اس کا تصفیہ ہوگا۔ سابق وزیر خزانہ کی طرف سے کشمیر کو غیر سیاسی مسئلہ قرار دینے کے بعد وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے،اور مفاہمت کا کوئی بھی متبادل نہیں۔ سرینگر میںوقف بورڑ کی طرف سے ایماء مساجد،مجاورین اور وقف بورڑ ملازمین و ممبران کی کانفرنس کے دوران خطاب میں وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ اسلام امن اور انسانیت کا مذہب ہے، اسلام کا رنگ بھی سبز ہے اور علم کا کا رنگ بھی،جبکہ انکی جماعت کا پرچم بھی سبز ہے۔انہوں نے کہا کہ جب یہ رنگ اصل ہیت میں پھیلے گا،تو جموں کشمیر کی صورتحال بھی ٹھیک ہوگی۔محبوبہ مفتی نے بندوق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنت حاصل کرنے کیلئے کوئی بھی مختصر راستہ(شارٹ کٹ‘ نہیں بلکہ اس ماں کے قدموں تلے جنت ہے،جو اپنے بچے کو بندوق چھوڑ کر آنے کی فریاد کرتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بندوق  سے کچھ حاصل نہیں کیا جاسکتا،اور نہ ہی ایک بندوق کے مقابلے میں لاکھوں بندوقوں سے لڑا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بندوق اٹھا کر اپنے ہی لوگوں کو مارنا کون سی عقلمندی ہے۔وزیر اعلیٰ نے سوالیہ انداز میں پوچھتے ہوئے کہا کہ کیا طاقت کی بنیاد پر ہم مسئلہ حل کر سکتے ہیں؟،مذاکرات اور بات چیت کو تمام مسائل کی کنجی قرار دیتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ اگر ہمیں امن قائم کرنا ہے،تو اس کیلئے بھی حکومت ہند سے رجوع کرنا ہے،اور بات چیت کرنی ہے تو اس کیلئے بھی مرکزی سے ہی رجوع کرنا ہوگا۔وزیر اعلیٰ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا’’ جنگجوئوں،فوج اور پولیس کے پاس بندوق ہے،تاہم وہ حل نہیں‘‘۔وزیر اعلیٰ نے ایماء مساجدسے مخاطب ہوکر کہا کہ آپ سے ہی ہم نے یہ بات بھی سیکھی ہے کہ اصل جہاد اپنے نفس سے جہاد کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایماء کو چاہے کہ وہ مساجد میں اس (بندوق کی تباہی)پر بھی بات کریں۔انہوں نے کہا’’میں یہ باتیں یہاں نہیں کرنا چاہتی تھی،تاہم مساجد میں اس طرح کی باتیں ہوتی ہیں،اصل یہ نہیں ہونا چاہے،مگر جب آپ بندوق پر بات(جہادو بندوق) پر کرتے ہیں،تو اس (تباہ کاری) پر بھی بات کریں‘‘۔ وزیر اعلیٰ نے کسی کا نام لئے بغیر کیا کچھ لوگ اپنے بچوں کو تعلیم کارستہ دکھاتے ہیں،اور دوسروں کے بچوں کو جہاد کی ترغیب دیتے ہیں،جبکہ اسلام یہ سکھاتا ہے کہ اپنے بچوں کو جو راستہ دکھائے،دیگر لوگوں کے بچوں کو بھی اسی راستے پر چلنے کی تلقین کرے۔ اس دوران تقریب کے حاشیہ پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے سرحدوں پر صورتحال کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعظم ہند اٹل بہاری واجپائی کے وقت ایک پہل شروع ہوئی تھی،اور سرحدیں خاموش ہوئیں تھی۔انہوں نے کہا کہ مفاہمت کا کوئی بھی متبادل نہیں ہے،اور اس طرح کی صورتحال سے زیادہ ریاستی عوام کو نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس سے قبل تقریر کے دوران وزیر اعلیٰ نے خواتین پر گھریلوں تشدد کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے علمائے کرام و ایماء مساجد پر زور دیا کہ وہ مساجد میں اس طرح کے موضوعات پر بھی بات کریں،اور لوگوں کو سمجھائے ۔انہوں نے کہا کہ علمائے کرام اور ایماء مساجد صرف خواتین کے لباس کو موضوع بحث بناتے ہیں ،اور اس سے باہر نہیں نکلتے۔محبوبہ نے کہا‘‘قران میں لباس کے بارے میں صرف ایک آیت ہے،جبکہ خواتین کو تعظیم اور حقوق پربے شمار‘‘۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پہلے لڑکیوں سے جہیز طلب کیا جاتا تھا،اور آج یہ دیکھا جاتا ہے کہ لڑکی نوکری کرتی ہے یا نہیں،تاہم انہوں نے کہا کہ ہر ایک لڑکی کو نوکری نہیں مل سکتی۔وزیراعلیٰ نے علماء سے مخاطب ہوکرکہاکہ آج شام ،عراق،لیبیااورافغانستان ویمن جیسے مسلم ممالک میں جوکشت وخون کی صورتحال پائی جاتی ہے ،وہ دین اسلام کی تعلیمات کی غلط تشریح اوراسلام کوغلط طورپرپیش کرنے کانتیجہ ہے ۔انہوں نے تشددسے متاثرہ مسلم ممالک کی صورتحال کواُمت مسلمہ کیلئے لمحہ فکریہ اورعلمائے دین کیلئے چشم کشاقراردیتے ہوئے کہاکہ دین اسلام توامن اورانسانیت کاداعی ہے توپھرکیوں مسلمان اس آفاقی دین کے نام پراپنے ہی مسلم بھائی بہنوں اوربچوں کوخون میں نہلارہے ہیں ۔ محبوبہ مفتی نے سبزرنگ کواسلام ومسلمانوں کی علامت سے تعبیرکرتے ہوئے علماء اورعام لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے گردونواح کے ماحول کوبچانے کیلئے شجرکاری مہم کاحصہ بنیں ۔انہوں نے واضح کیا کہ وقف کسی کی خاندانی وراثت نہیں،بلکہ اس پر مجاورین کا حق سب سے پہلے ہے۔وزیر اعلیٰ نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ وقف کی اراضی پر کئی لوگ قابض ہیں،اور قبضہ نہیں چھوڑتے۔انہوں نے کہا’’وقف کی اراضی پر کچھ لوگ قابض ہیں،جبکہ جب بھی ان سے قبضہ چھوڑنے کی بات کی جاتی ہے،تو وہ گروپ بناتے ہیں،اور جموں کشمیر میں پہلے ہی صورتحال ٹھیک نہیں ہے،جبکہ ہم بھی نہیں چاہتے ہیں کہ مزید صورتحال خراب ہو۔اس سے قبل وقف بورڑ کے وائس چیئرمین نظام الدین بٹ نے وقف بورڑ کی کارکردگیوں پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ وادی کی صورتحال دگر گو ںہے،اور سب سے زیادہ مشکل ترین صورتحال کا سامنا وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو ہے۔کانفرنس سے مولانا طیب کاملی،خورشید احمد قانون گو اور دیگر ممبران بورڑ بھی موجود تھے۔