مسلم لیگ مسرت عالم کو پیش عدالت نہ کرنے پر برہم

سرینگر//مسلم لیگ نے محبوس قائد مسرت عالم بٹ کوعدالتی احکامات کے باوجود پیشی پر حاضر نہ کرنے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے قانون کی پامالی قرار دیا ہے۔ لیگ ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ اس سے بڑھ کر لاقانونیت اور بشری حقوق کا گلہ گھونٹنے کی کیا عملی مثال اور جیتا جاگتا ثبوت پیش کیا جاسکتا ہے کہ مسرت عالم بٹ کو عدالتی احکامات کے باوجود پیشی کے لئے عدالت میں حاضر نہیں کیا جاتا ہے جس سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ انہیں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت سیاسی انتقام گیری کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور ان کی اسیری کو طول دینے کے لئے مذموم ہتھکنڈے آزمائے جارہے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ جس طرح کا رویہ مسرت عالم بٹ کے ساتھ روا رکھا جارہا ہے اور قانون کو بالائے طاق رکھ کر ان کی رہائی کے راستوں کو مسدود کرنے کے لئے انھیں عدالتوں سے دور رکھا جارہا ہے اس سے بھارتی جمہوریت کی قبا چاک ہی نہیں بلکہ اس کی سنگین پامالی ہورہی ہے ۔ترجمان کے مطابق پولیس و انتظامیہ مسرت عالم بٹ کے ساتھ ساتھ محمدیوسف میر، فیروز احمد خان،اسداللہ پرے ، مولوی سجاد، محمد حیات بٹ، شوکت حکیم،معراج الدین نندا ، محمد امین ڈار،وحید احمد گوجری اور دیگر قیدیوں کی اسیری کو طول دے کر ان کے حوصلوں کو توڑنا چاہتی ہیں لیکن ایسا ہرگز ممکن نہیں ہے۔ ادھر مسلم لیگ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سرینگر کی ایک عدالت (جج سمال کازز)نے کرنال جیل ہریانہ میں مقید تنظیم کے امیر اعلیٰ مشتاق الاسلام کو 22دسمبر2018کی صبح  دس بجے ایف آئی آر زیر نمبر17/2015کے سلسلے میںپیش کیا جائے۔