مسلم خواتین کے حقوق کی آڑ میں ارتداد کی کوشش:جماعت اسلامی

 سرینگر//جماعت اسلامی جموں کشمیر نے مسلم خواتین کیلئے بغیر محرم حج کی اجازت دینے اور ان کیلئے 1300نشستیں مخصوص رکھنے کے اعلان پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے اسے اسلامی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے ۔جماعت اسلامی کے ترجمان نے کہاہے کہ اس اعلان سے واضح ہوتا ہے کہ آر ایس ایس کے کنٹرول میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ایک منصوبہ بند طریقے پر مسلمانوں کی اسلام سے وابستگی منقطع کرنا چاہتی ہے تاکہ لادین قسم کی ایک اُمت تیار کرکے اُن کے لیے گھر واپسی کے نام پر ارتداد کی راہ ہموار بنائی جائے۔ اس سے قبل بھی اس طرح کے کئی اقدامات کئے گئے جو صرف مسلمانوں کے دینی معاملات میں صریح مداخلت کے سوا اور کچھ نہیں ہے حالانکہ اس طرح کی کارستانیوں سے نہ قرآن بدل سکتا ہے اور نہ ہی اسلامی شریعت میں تحریف ہوسکتی ہے البتہ دینی حمیت کے ضعف کا شکار مسلمانوں کے ایمان میں خلل لایا جاسکتا ہے۔بیان کے مطابق نریندر مودی مسلمان عورتوں کے حقوق کی آڑ میں اُن میں لادینی اور ارتداد کے رجحانات عام کرنے کے درپے ہے حالانکہ اسلام ہی وہ دین رحمت ہے جس نے عورتوں کو حقیقی مقام دلایا ہے۔ ایک ہی مجلس میں سہ طلاق دینے کو ایک قابل سزا مجرمانہ کارروائی قرار دے کردراصل وہ مسلم سماج میں مردوں اور عورتوں کے درمیان رسہ کشی کا ایک ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ مسلمانوں کا مضبوط خاندانی نظام درہم برہم ہو۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ طلاق بدعت کا استعمال مسلم سماج میں نہ ہونے کے برابر ہے اور اس کا استعمال بھی وہی لوگ کرتے ہیں جو دینی تعلیمات سے بالکل ناواقف ہیں بلکہ اگر کہا جائے کہ مسلمانوں میں فسخ نکاح کا معاملہ باہمی گفت و شنید کے ذریعے طے کیا جاتا ہے جو کہ خلع کی ہی ایک شکل ہے اور طلاق احسن اور حسن کا استعمال بھی بہت کم ہوتا ہے تو کوئی مبالغہ نہ ہوگا۔ مسلم خواتین کے حقوق خاص کر مساوات کی آڑ میں ان کے اندر دین کے خلاف بغاوت کا ایک رجحان پیدا کرنے کی مذموم کوششیں ہورہی ہیں جن کا اگر اُمت مسلمہ نے وقت پر ایک باضابطہ لائحہ عمل کے تحت مقابلہ نہ کیا تو یہ انتشار اُمت کا باعث بن سکتا ہے۔