مسلم اُمہنفاق وانتشار کے بھنور میں

سوال  یہ ہے کہ ان حالات میں علماء اور عام مسلمانوں کی ذمہ داری کیا ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے، او ر اس سوال کا تعلق مسلمانوں میں سے کچھ افراد سے ، کسی خاص جماعت سے، کسی خاص گروہ اور تنظیم سے نیز کسی خاص خطہ اور علاقہ کے رہنے والوں سے نہیں ہے بلکہ پوری ملت اسلامیہ سے ہے۔ آئیے ہم غور وفکر کریں کہ موجودہ حالات میں مقامات مقدسہ اور بالخصوص مسجد اقصیٰ کی حرمت کی بقاء کی لئے ہم کیا کچھ کر سکتے ہیں:
۱۔ ہم چوں کہ بیت المقدس اور حرمین شریفین سے بڑے فاصلہ پر ہیں،اس لئے ہم براہ راست اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد نہیں کر سکتے لیکن ہم یہ تو کر سکتے ہیں کہ اپنا احتجاج درج کرائیں اور مسلم ممالک بالخصوص سعودی عرب، مصر، عرب امارات، اردن اور شام کے سفارت خانوں تک اپنا احتجاجی نوٹ پہنچائیں کہ وہ ۱۹۶۷ء میں اسرائیل کے مقبوضہ علاقوں پر ہرگز اسرائیل کے قبضہ کو تسلیم نہیں کریں اور جب تک اسرائیل اس کو تسلیم نہ کرے، اس سے ہر طرح کے تعلقات منقطع رکھیں اور اگر کوئی تعلقات ہیں تو انہیں منقطع کرلیں۔
۲۔ اختلاف مسلک ومشرب سے بالاتر ہو کر تمام دینی جماعتیں اور اہم ادارے جیسے جمعیۃ علماء ہند، جماعت اسلامی ہند، جمعیۃ اہل حدیث، دارالعلوم دیوبند، دارالعلوم ندوۃ العلماء، جامعہ اشرفیہ مبارکپور، جامعہ سلفیہ بنارس، جامعۃ الفلاح اعظم گڑھ وغیرہ تمام مسلم ملکوں سے اور خاص کر مذکورہ ملکوں سے مطالبہ کریں کہ وہ امریکہ واسرائیل کے سامنے سر نہ جھکائیں اور اللہ پر بھروسہ کر کے پوری قوت کے ساتھ باطل  کی مزاحمت کریں، حماس کو’’ دہشت گرد‘‘ تنظیم ماننے سے انکار کردیں اور اسرائیل کو دہشت گرد قرار دیں۔
۳۔ خاص طور پر سعودی عرب کے سامنے یہ بات رکھی جائے کہ موجودہ ولی عہد نے جو راستہ اختیار کیا ہے، یہ صریحاََ اسلام مخالف ہے، یہ سعودی روایات کے بھی خلاف ہے، یہ خود اس ملک کے دستور کے بھی مغائر ہے جس میں کتاب وسنت کو ملک کے لئے دستور کا درجہ دیا گیاہے، یہ حرمین شریفین کی تولیت کے عظیم منصب کے لئے مطلوبہ اوصاف واقدار کے برعکس ہے اور یہ مغرب نواز پالیسی، دینی، معاشی، اخلاقی اور دفاعی ہر پہلو سے خود مملکت کے لئے نقصان دہ ہے، نیز یہ ملک اور شاہی خاندان کے اندر بھی ایک بڑے انتشار کا سبب ثابت ہو سکتا ہے، اس لئے وہ اس نئی پالیسی سے باز آجائیں اور اپنے اْس مقام ومرتبہ کا لحاظ کریں جو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی نسبت سے ان کو عطا کیا ہے۔
۴۔ اس وقت مسئلہ فلسطین مخلصین اور منافقین کو پرکھنے کا ایک پیمانہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہودونصاریٰ کو حرم مکی سے بغض تھا، اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو قدرت کے باوجود حج نہ کرے تو مجھے اس سے غرض نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہوکر (ترمذی، حدیث نمبر: ۸۱۲)یعنی اس وقت کعبۃ اللہ سے محبت اخلاص کے لئے معیار تھا، موجودہ دور میں یہودونصاریٰ کو مسلمانوں سے سب سے زیادہ بغض اس بات سے ہے کہ وہ انبیائے بنی اسرائیل  ؑکے مرکز بیت المقدس پر کیوں قابض ہیں، اس لئے اس وقت جو شخص یا جو حکومت مسئلہ فلسطین کو نظر انداز کرتی ہے، اور یہودیوں کے ہاتھ اس کا سودا کرنے کو تیار ہو، وہ اس دور کے منافقین ہیں، اس لئے ایسے ملکوں کے سرکاری عہدہ داروں اور سرکاری مولویوں کو اداروں اور تنظیموں میں مدعو کرنے سے گریز کیا جائے، اسی طرح اگر اعدائے اسلام کی ہم نوا ان ظالم حکومتوں کی طرف سے کوئی دعوت آئے تو اسے قبول نہیں کیا جائے اور صاف طور پر لکھا جائے کہ مسئلہ فلسطین میں آپ کی مسلمان مخالف پالیسی کی وجہ سے ہم لوگ اس دعوت کو رد کررہے ہیں۔
۵۔ فلسطین کا سودا کرنے میں جن ملکوں کا نام سامنے آ رہا ہے، دینی کاموں کے لئے نہ ان سے عطیہ مانگا جائے اور نہ ان کا عطیہ قبول کیا جائے کیوں کہ ایسے ممالک مسجدیں اور عمارتیں بنوا کر یا تھوڑی بہت رقمی امداد کر کے اپنے حقیقی مکروہ چہرے کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں۔
۶۔ اسرائیل اور اسرائیل نواز امریکی کمپنیوں کا مستقل طور پر بائیکاٹ کیا جائے، یہ نہ سوچا جائے کہ ہمارے سامان نہ خریدنے سے کمپنی تو بند نہیں ہوگی، پھر اس کا کیا فائدہ؟بلکہ اس بات کو پیش نظر رکھا جائے کہ ہمیں یہ کام ایک دینی فریضہ کے طور پر کرنا ہے، بلاسے کہ ہمارے اس عمل سے دشمن کو خاطر خواہ نقصان نہ پہنچے؛ لیکن ہم عند اللہ ظالم کی حمایت کے گناہ سے تو بچیں گے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ظالموں سے تمہارا تعلق نہیں ہونا چاہیے( ھود: ۱۱۳) 
۷۔ یہ بھی ضروری ہے کہ مسلمان ۱۹۶۷ء کے پہلے کی طرح زیادہ سے زیادہ مسجد اقصیٰ کی زیارت کا شرف حاصل کریںاور بیت المقدس کے سفر کا اہتمام کریںتاکہ ظاہر ہو کہ مسلمانوں کو اس مسجد سے اب تک ویسا ہی تعلق ہے، جیسا تعلق پہلے تھا۔
۸۔ مسجد اقصیٰ کے موضوع پر زیادہ سے زیادہ جلسے کئے جائیں، جمعہ کے بیانات میں ،مدارس اسلامیہ کے سالانہ جلسوں میں، مسلم جماعتوں اور تنظیموں کے پروگراموں میں اس موضوع کو پیش کیا جائے، مضامین کے ذریعہ یہودیوں کی قتل و غارت گری، ظلم وبربریت اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کو خوب واضح کیا جائے، برادران وطن کے ساتھ مل کر مسئلہ فلسطین پر سیمینار رکھے جائیں، اور اس میں زبانی بیانات، تحریری دستاویزات اور تصویروں کے ذریعہ فلسطینیوں کی مظلومیت کو زیادہ سے زیادہ نمایاں کیا جائے۔
۹۔ اس وقت ہمارے دینی مدارس میں تاریخ کا مضمون گویا پڑھایا ہی نہیں جاتا لیکن کم سے کم سیرت نبویؐ کے ساتھ مقامات مقدسہ کی تاریخ کو شامل ِنصاب کیا جائے تاکہ آنے والی نسل کا اپنے مقدس مقامات سے محبت و اعتقاد کا رشتہ بغیر کسی کمی کے قائم رہے۔
۱۰۔ سوشل میڈیا کے ذریعہ مسئلہ فلسطین کی اہمیت،مغرب کی دوہری پالیسی اوراس سلسلے میں موجودہ مسلم حکمرانوں کی کوتاہی کو ہر ہر مسلمان تک پہنچایا جائے اور اس کو پُر امن اور مہذب احتجاج کا ذریعہ بنایا جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم کسی برائی کو دیکھو تو قوت سے بدلنے کی کوشش کرو، قوت صرف ہتھیار ہی کی نہیں ہوتی، قانون کی بھی ہوتی ہے، اور جمہوری معاشرے میں اتحادو اجتماعیت کی بھی ہوتی ہے، اگر قوت کا استعمال ممکن نہ ہو توزبان سے روکنا ضروری ہے، آج کل پُرامن احتجاج کی جو صورتیں اختیار کی جاتی ہیں، یا جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے، یہ سب زبان ہی سے روکنے کے زمرہ میں آتے ہیں اور اگر زبان سے بھی کہنا ممکن نہ ہو تو انسان دل میں کڑھن محسوس کرے، یہ ایمان کا بالکل آخری درجہ ہے، (مسلم، حدیث نمبر: ۴۹) اب اگر کوئی شخص حکمرانوں کے روبرو کچھ بول نہ سکے، دل کی کڑھن کے ساتھ خاموشی اختیار کر لے تو وہ ایمان کے آخری درجہ میں ہے۔ اگر کڑہن محسوس کرنے کے بجائے وہ خوشامد اور چاپلوسی کرنے لگے، جیسا کہ اس وقت عالم اسلام کے بعض علماء و ارباب افتاء کا حال ہے تو گویا وہ ایمان کے اس آخری درجہ سے بھی محروم ہے۔ جہاں تک ہندوستان کی بات ہے توعالم اسلام اور مقامات مقدسہ کے بارے میں اس کی ایک روشن تاریخ رہی ہے۔ چنانچہ ہندوستان کے علماء اور اکابر نے خلافت عثمانیہ کے سقوط کے وقت خاموشی اختیار نہیں کی اور یہ نہیں سوچا کہ یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے، یہ پرایا مسئلہ ہے بلکہ اس وقت کے متحدہ ہندوستان میں اس کے خلاف بھرپور احتجاج کیا گیا، اور خلافت تحریک وجود میں آئی، ملت کے ذمہ داروں کے لئے لمحۂ فکرہے کہ اگر اسلامی اقدار کے خلاف کھلے ہوئے عناد، یہودونصاریٰ کی دوستی اور مقامات مقدسہ کے احترام کی پامالی پر بھی ہماری رگِ حمیت نہیں پھڑکے اور ہماری دینی غیرت کو جوش نہیں آئے تو پھر کون سا وقت ہوگا جب ہم اللہ سے کئے ہوئے اس وعدہ کو پورا کر سکیں گے کہ ہم نے اپنے پورے وجود کو خدا کے ہاتھوں بیچ دیا ہے(توبہ: ۱۱۱) اور یہ کہ ہمارا کچھ نہیں ہے، ہم اللہ اور صرف اللہ کے لئے ہیں: بے شک میری نماز، میری قربانی ، میرا جینا، میری موت اللہ کے لئے جو تمام عالمین کا پالنہار اور پروردگار ہ ہے (انعام:۱۶۲)
(ختم شد)