مسلمانوں کو اقلیتی فوائیدکی ترسیل کا معاملہ, تمام نظریں مرکزی سرکار پر مرکوز

 سرینگر// مسلمانوں کو اقلیتی فوائد ملنے کے خلاف سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے سے متعلق عرضداشت پرریاستی سرکار کو ٹھوس موقف لینے کا مشورہ دیتے ہوئے متفکر سیول سوسائٹی گروپ’’جی سی سی‘‘ نے کہا کہ درخواست گذار کو آسان جیت نہیں ملنی چاہی۔فکر مند شہریوں کے گروپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ’’نا قابل یقین نتیجہ‘‘ ہے کہ عرضداشت ریاست کے مفادات اور اس کے زیر اثرات معاملات پر منفی اثرات مرتب کرے۔ جموں کشمیر میں مسلمانوں کو دی جانی والے اقلیتی فوائد کے خلاف دائر کی گئی درخواست پر عدالت عظمیٰ میں پیر کو شنوائی ہوگی،جبکہ تمام آنکھیں حکومت ہند کے موقف پر مرکوز ہیں،جبکہ اس سے دیگر5 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام ایک علاقے پر بھی اثرات مرتب ہونگے۔یہ درخواست جموں نشین وکیل انکر شرما نے سپریم کورٹ میں دائر کی ہے اور چیف جسٹس کی عدالت میں پیر کو اس پر شنوائی ہوگئی۔اس درخواست کی سماعت اہم نوعیت کی حامل ہے کیونکہ مرکزی اور ریاستی سرکار اس معاملے سے مشترکہ طور پر نپٹ رہی ہیں،جبکہ اس سلسلے میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے،جس میںمرکزی اور ریاستی وزراء شامل ہیں،تاکہ ریاست میں اقلیتوں کے مشکالات کو تلاش کیا جائے۔ عوامی مفاد عامہ میں دائر کی گئی اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ جموں کشمیر کے مسلمانوں کو اقلیتی فوائد دئیے جانے کا سلسلہ بند کیا جائے،جبکہ درخواست گزار نے جموں کشمیر میں اقلیتی کمیشن کی تشکیل اور قومی اقلیتی کمیشن کو ریاست میں نافذ کرنے کی درخواست بھی پیش کی ہے۔فکر مند شہریوں کے گروپ نے کہا ہے کہ درخواست میں اس حقیقت کو پس پردہ رکھا گیا ہے کہ دفعہ2 شق سی کے تحت مرکزی حکومت نے مسلمانوں،عیسایوں،سکھوں، بودھوں اور پارسیوں کے بعد اب جینوں کو بھی بھارت کے قومی اقلیت کا درجہ دیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ قومی اقلیتوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور بھارت بھر کے تناظر میں انہیں اقلیتی درجہ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ قومی اقلیت، اپنی حیثیت اس لئے نہیں کھو سکتی کہ کسی ریاست میں ان کی تعداد زیادہ ہے،یا وہ اکثریت میں ہیں۔جی سی سی نے مزید کہا ہے کہ’’مثبت عوامل کی اسکیمیں آئین کے تیسرے باب کے باہر ہیں،اور قومی کمیشن برائے اقلیتی طبقہ قانون کے باہر نہیں ہے،جبکہ جموں کشمیر میں اس قانون کے اطلاق،یا کسی دوسری ریاست کو اس طرح کی اسکیموں کے تحت قومی اقلیتوں کو فوائد سے دور نہیں رکھا جاسکتا۔گروپ نے کہا ہے کہ ریاستی سرکار کو اس سلسلے میں کسی بھی لیت و لعل کیلئے کوئی بھی جگہ موجود نہیں ہے،اور ریاستی سرکار اس کیس کا دفاع مستحکم و مضبوط طریقے سے کریں۔فکر مند شہریوں کے اس گروپ میں سابق چیئرمین پبلک سروس کمیشن محمد شفیع پنڈت، ہائی کورٹ کے سابق جج،جسٹس(ر) حسنین مسعودی،سابق چیف انفارمیشن کمشنر جی آر صوفی،کشمیر یونیورسٹی کے سابق و ائس چانسلر عبدالواحد قریشی،گریٹر کشمیر کے مدیر اعلیٰ فیاض احمد کلو،گورنمنٹ زنانہ کالج سرینگر کی سابق پرنسپل ڈاکٹر نصرت اندرابی اور کشمیر ٹائمز گروپ کی ایگزیکٹو ایڈیٹر انورادھا بھسین شامل ہیں۔