مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے فکرو فہم

طارق اعظم

دنیا جہاں کی رہبری و رہنمائی کے لیے ربِ کریم نے افضل البشر ، اپنے برگزیدہ بندے یعنی انبیا ٕ کرام علیہ السلام اور چھوٹے چھوٹے صحیفوں سے لیکر چار بڑی کتابيں خصوصاً قرآنِ مجید کا پے در پے نزول کیا۔ ہر نبی اور ہر کتاب کا مقصد یہ تھا کہ اللہ کے بندے اور بندیاں اللہ کے ہر حکم کو قابلِ طرز پر بجا لائیں۔ جیسے روزہ ، نماز، زکوۃ ، تلاوت ، ذکر ، حج و عمرہ وغیرہ وغیرہ ۔ نوح ؑ نے اپنی قوم کو طویل مدت تک سمجھایا سکھایا ، حضرت ابراہیمؑ ، حضرت اسمعیلؑ ، حضرت اسحٰقؑ ، حضرت یعقوبؑ ، حضرت یوسفؑ ، حضرت موسیٰ ؑ ، حضرت عیسیٰ ؑ اور آخر میں نیبوں کے سردارحبیبِ خداؐ نے بھی جو تربیت اللہ کے بندوں کو کی ،اس سے نہ صرف جن و انسان متاثر ہوئيں، بلکہ جنگلوں میں رہنے والے وحشی جانور ، ہوا میں اڑنے والے پرندے ، خاموشی سے ڈھسنے والے درندے، پھاڑنے والے جانوروں تک پر گہرا اثر پڑا ۔ اسی لئے ہم جب تواریخ کے کتب میں جھانکتے ہیں تو شیر اور ہرن کو ایک ساتھ پانی پیتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ کیونکہ رسول اللہؐ نے جو تعلیمات پوری دنیا کے خلق کو دی ہے۔ وہ عبادات کے علاوہ خلق سے احسن سلوک کرنے پر زیادہ رہنمائی کرتی ہے اور آپؐ نے خود اپنی ذاتِ اقدس سے دکھایا کہ خدمت خلق کیسی کی جاتی ہے۔ سیرت کی کتابوں سے لیکر تواریخ کا ایک ایک ورق بہ زبان حال کہتے ہیں، کہ وہ بے شک غریبوں کا والی ، یتیموں کے مولا ، ضعیفوں کے ہمدرد ، محتاجوں مسکینوں کے آسرا تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ بھائی چارہ ، اخوت اور اخلاقِ عظیم پر زور دیا۔ میری آنکھوں کے سامنے ان گنت واقعات گزر رہے ہیں، جو مجھے یہ احساس دلا رہے ہیںکہ دیکھو! ہمارے پیارے نبی ؐ نے کس طرح کا طریقہ اپنے مسلمان بھائیوں کے اختیار کیا۔ صرف مسلمانوں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ وقت کے بڑے بڑے گنوار جانور نما انسان ،جو آپؐ کو ہر وقت ستم دینے رہتے تھے، اِن کے ساتھ بھی حسین برتائو کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگوں نے آپؐ کی یہ راست بازی ، اخوت اور بھائی چارہ دیکھ کر اسلام کی دعوت کو قبول کیا۔ اس اخوت کے درس نے صحبت ِ نبوت سے فیض یافتہ کلمہ گو انسانوں کے اندر بھائی چارہ کا اتنا بڑا انقلاب لایا کہ چشمِ فلک نے اور جبینِ عرض نے یک زبان ہو کے کہا’’ صحابہ ؓ جیسے گداز لوگ پہلے کبھی دیکھے تھے اور نہ آج کے بعد ایسے لوگ دیکھنے کو ملیں گے‘‘۔ اس ریگستان کا ذرہ ذرہ شاہد ہے کہ جب نبی رحمتؐ نے ہجرت کی تو انصار صحابہ نے جو مہاجر صحابہ سے اخوت اور ہمدردی کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ رشک ہے۔ اگر کسی انصار صحابی کے پاس دو کمرے میسر تھے، تو وہ خلوصِ دل سے کہتا تھا۔ میرے مہاجر بھائی جو جو کمرہ آپ کو پسند ہے، وہ آج سے آپ کا ہوگا۔ اور اگر کسی کے پاس ایک سے زائد کپڑے تھے، توہ اپنے دوسرے بھائی کو کہتا تھا کہ جو بھی کپڑا آپ کو پسند ہے، بلا خوف لے لو۔ اس طرح کے ہزاروں معاملات انصار بھائیوں نے اپنے مہاجر بھائیوں سے کئے اور ایک پر سکون اورپُر امن معاشرتی نظام قائم کیا۔ کیا ہم نے کبھی کتابوں میں پڑھا یا ،کسی واعظ سے سُنا کہ کوئی صحابی،کسی دوسرے صحابی سے حسد کرتا تھا؟ یا کسی کو تکلیف پہنچانے کے لئےجادو وغیرہ کا سہارا لیتا تھا ؟ یا کسی کے مال و جان کو نقصان پہنچاتا تھا؟ نہیں!بالکل بھی نہیںسُنا ہوگا ۔کیوں کہ انہوں نے سنا تھا، اپنے محبوب سرورِ دو عالم ، امامِ کائنات رسولِ ہاشمیؐ سے کہ مسلمان وہ ہے ، جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، اس لئے کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ ہاتھ یا زبان سے کسی مسلمان کو تکلیف پہنچائے، اگر کسی نے اس طرح کی کوئی حرکت کردی ہو، جس سے دوسرے کو تکلیف پہنچ گئی ہو تو اس کو چاہیے کہ اس سے معافی مانگے، اس کو جنایت علی مادون النفس میں شمار کیا جاسکتا ہے۔
ہوس نے کردیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انسان کو
اخوت کا بیاں ہوجا ، محبت کی زبان ہوجا
چلئے آج ہم اپنے سماج کے گریبان کو جھانک کر دیکھتے ہیں کہ اخوت کی ان تعلیمات کو ہم نے کہاں تک نبھایا اور کیا کیا اقدامات ہم نے اٹھائے، اپنے مسلمان پڑوسیوں کے خاطر ۔ان کے سکھ دکھ میں کیا ہمارا کوئی رول رہا ہے؟ ہائے! میرے پالن ہار اللہ! آج کے ابنِ آدم نے کارِ ابلیس کو اپناہتھيار بنا کر اپنے ہی بھائی کا جینا حرام کردیا ہے۔ کبھی لمبے لمبے قوی ہاتھوں سے، تو کبھی کھٹی کڑوی اور ترشی زبان سے نحیف دلوں کو ریزہ ریزہ کردیتا ہے۔ کس قدر کا حسد آج کے نامی مسلم کے دل میں پیدا ہوا ہے، وللہ سن کر ، دیکھ کر وحشت ہوجاتی ہے کہ ایک مسلمان بھائی اپنے دوسرے بھائی یا کسی پڑوسی کو ستم پہنچانے کیلے سحر گروں کے جاتا ہے۔ کیا اس حد تک آج کا مسلمان گر گیا ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ اس تکلیف پہنچانے والے کو کیسے نیند آجاتی ہے بلکہ یہ منظر بھی ہم نے دیکھا ہوگا کہ ایک بھائی دوسرے بھائی کو سازش کر کر کے کسی ویران بیابان میں لے جا کر وہی قتل کر دیتا ہے۔ اس درجے کی سخت دلی، بے رحمی اور بے راہ روی ۔ لیکن گھبرانے کی اور مایوس ہونے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ جہاں ہمیں یہ مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں، وہی ہم ایسے زندہ ضمیر اور حساس مسلمانوں کو بھی دیکھتے ہیں، جو تن من اور دل و جان سے اپنے ہمسایوں سے ،رشتہ داروں سے، عزیز و اقارب سے، ضرورت مندوں اور حاجت مندوں سے قابلِ تحسين اور قابلِ رشک کا سلوک کرتے ہیں۔ اللہ تعالی ہم سب کو ایک دوسرے سے محبت اور نیک سلوک کرنے پر آمادہ کریں۔
رابطہ۔ 6006362135
[email protected]>