مسلسل خانہ نظربندی سے گیلانی کی زندگی کو شدید خطرہ پہنچنے کا اندیشہ

 سرینگر// حریت (گ) کا ایک غیر معمولی اجلاس زیرِ صدارت حریت جنرل سیکریٹری غلام نبی سمجھی سرینگر حریت دفتر پر منعقد ہوا جس میں تحریک حقِ خودارادیت کے حوالے سے تازہ ترین سیاسی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں پچھلے 8برسوں سے حریت چیرمین سید علی گیلانی کو مسلسل اپنی رہائش گاہ میں نظربند رکھے جانے پر انتظامیہ کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے محسوس کیا گیا کہ گیلانی جیسی انقلابی سیاسی شخصیت کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مدّت دراز تک ان کی رہائش گاہ کے تنگ حدود میں زندگی گزارنے پر مجبور کئے جانے سے ان کی صحت اور زندگی کو شدید خطرہ پہنچنے کا اندیشہ لاحق ہوسکتا ہے۔ اجلاس میں اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا گیا کہ گیلانی کو پچھلے 8برسوں کے دوران عیدین اور جمعہ نمازوں کی ادائیگی سے محروم کرتے ہوئے اِسے مذہبی امورات میں شرمناک مداخلت سے تعبیر کئے جانے کے علاوہ اسے اقوامِ متحدہ کے تسلیم شدہ انسانی حقوق کے چارٹر میں درج مذہبی آزادی کو سلب کئے جانے کی بزدلانہ کارروائی قرار دیا۔ اجلاس میںاقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں مطالبہ کیا گیا کہ بھارتی افواج اور انتظامیہ کے ہاتھوں تحریک حقِ خودارادیت کے ساتھ وابستہ اعلیٰ قیادت سے لے کر عام لوگوں تک ہر ایک متنفس کو سرکاری دہشت گردی کے نتیجے میں حقِ زندگی کے علاوہ جملہ حقوق انسانی سے محروم کئے جانے کا سنگین نوٹس لیتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو اس کے تاریخی تناظر میں حل کئے جانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ حریت اجلاس میں ریاست جموں کشمیر کی موجودہ صورتحال کو گھمبیر قرار دیتے ہوئے یہ بھی محسوس کیا گیا کہ موجودہ حالات میں ہر سطح پر اتحاد واتفاق کو مضبوط سے مضبوط تر بنائے جانے سے ہی بھارت کے جارحانہ حربوں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ اجلاس میںمحمد یٰسین عطائی (پیپلز لیگ’ع‘)، مولوی بشیر عرفانی (ماس مومنٹ) ، امتیاز احمد شاہ (پیپلز فریڈم لیگ)، سید محمد شفیع (پیپلز لیگ’خ‘)، سید بشیر اندرابی (کشمیر فریڈم فرنٹ)، محمد یوسف نقاش (اسلامک پولیٹکل پارٹی)، یٰسمین راجہ (مسلم خواتین مرکز)، محمد شفیع لون (ایمپلائزفورم)، حکیم عبدالرشید (مسلم ڈیموکریٹک لیگ)، نثار حسین راتھر (تحریک وحدت اسلامی)، خواجہ فردوس (ڈی پی ایم)، غلام احمد گلزار (انصاف پارٹی)، پیر عبدالرشید (تحریک حریت) اور آغا سید محمد یعصوف (پیروان ولایت)نے شرکت کی۔