مسافر ٹرانسپورٹ کو ’ آزادی‘ مل گئی

 سرینگر //کورونا وائرس کے پیش نظر 30فیصد مسافر کرایہ میں اضافہ کے زبانی ا علان کے بعد محکمہ ٹرانسپورٹ روٹوں کیلئے کرایہ ریٹ لسٹ مقرر کرنے میں ناکام ہوا ہے اور اب مسافر گاڑیوں کے مالکان نے از خود من مانی قیمتیں مقرر کی ہیں اورمسافروں سے 30کے بجائے 50فیصد اضافی کرایہ لیا جا رہا ہے ۔ امور صافین وعوامی تقسیم کاری محکمہ نے قریب دو ماہ قبل وادی میں ٹرانسپورٹ کرایہ میں 30فیصد کا اضافہ کرلیا۔ حالانکہ 1947کے بعد پہلی بار کسی محکمہ یا اسکے سربراہ کی جانب سے مسافر کرایہ میں30 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔1980کی دہائی میں ایک بار 15فیصد کا اضافہ کیا گیا تھا جبکہ 1990کی دہائی میں 20فیصد کا اضافہ کیا گیا تھا۔ جموں کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار ٹرانسپورٹروں کو  کایہ میں من مانے طریقے سے 30فیصد کرایہ بڑھانے کی آزادی دی گئی اور اس حوالے سے لوگوں کے جیبوں پر کتنا اثر پڑیگا اس بات کو زیر نظر نہیں رکھا گیا۔کورونا بندشوں کے سبب خسارہ برداشت کرنے والے ٹرانسپورٹ شعبے کو مالی پیکیج دینے کی ضرورت تھی لیکن محکمہ امور صارفین نے اسکا الٹا حل یہ نکالا کہ لوگوں کی جیبیں ہی خالی کی جائیں ۔المیہ تو یہ بھی ہے کہ کرایہ میں اضافہ کے اعلان کے بعد کوئی  مختلف روٹوں پر کوئی ریٹ مقرر نہیں کی گئی جس کے نتیجے میں مسافروں کو متعدد روٹوں پر 30فیصد کے بجائے 50فیصد کرایہ ادا کرنے پر مجبور کیا گیا ہے،  اور حکام خاموش تماشائی بنے  بیٹھے ہیں ۔حکام نے کرایہ میں اضافہ کے اعلان کے دوران کہا تھا کہ کرایہ میں اضافہ کورونا وائرس کی وجہ سے عائد بندشوں کو ہٹانے تک رہے گا، اور جیسے ہی بندشیں ہٹ جائیں گی تو کرایہ کی وصولی پرانے طریقے کار کے مطابق ہو گی۔ اس دوران ٹرانسپوٹروں سے بھی کہا گیا تھا کہ وہ اس صورت میں 30فیصد کرایہ میں اضافہ کریں گے جب وہ گاڑیوں میں50فیصد سواریوں کو بٹھائیں گے اور اس کیلئے تمام قوائد ضوابط کو عملایا  جائے گا لیکن ایس او پیز کو بالائے طاق رکھ کر ٹرانسپوٹرروں نے من مرضی سے کرایہ وصول کرنا شروع کر دیا ہے ۔کرایہ میں اضافہ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پہلے کرناہ سے سرینگر کا کرایہ 350سے 400روپے تھا اب یہ کرایہ بڑھا کر 1000روپے کیا گیا ہے جبکہ کرناہ کے مقامی روٹوں پر چلنے والی گاڑیوں کے مالکان نے بھی 50فیصد کرایہ میں اضافہ کر دیا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق کپوارہ سے سرینگر کیلئے پہلے180سے لیکر 200لیا جاتا تھا لیکن اب اس کو بڑھا کر 300 مقرر کیا گیا ہے ۔بارہمولہ سے سرینگر 120روپے کرایہ تھا جسے بڑھاکر 240کردیا گیا ہے۔بارہمولہ سے بونیار پہلے 60 روپے کرایہ تھا جسے بڑھا کر 120کیا گیا ہے اورباہمولہ سے اوڑی 110 روپے کرایہ تھا جسے 220 کیا گیا ہے۔ شوپیاں سے سرینگر پہلے اگرچہ 110روپے کرایہ لیا جاتا تھا وہیںاب 150روپے کرایہ لیا جا رہا ہے ۔اننت ناگ سے سرینگر  80 روپے کرایہ تھا جواب 160 روپے کیا گیا ہے۔ اننت ناگ کے لوگوں کے مطابق پہلے اننت ناگ سے ڈورو تک 40روپے کرایہ تھا آج 80روپے لیا جا رہا ہے ۔ڈورو سے قاضی گنڈ پہلے 20 روپے کرایہ تھا ،اب اس کو بڑھا کر 40روپے کیا گیا ہے ، ڈورو سے کوکرناگ پہلے 30اورآج 60روپے کرایہ لیا جاتا ہے ۔گاندربل ضلع میں کنگن سے سرینگر تک 70روپے کرایہ لیا جاتا تھا لیکن اب 120روپے کرایہ لیا جا رہا ہے ۔گاندر بل سے کنگن کا کرایہ 40روپے تھا لیکن اب 70روپے لئے جارہے ہیں۔مسافروں کا الزام ہے کہ جب حکام نے 30فیصد کرایہ بڑھانے کا علان کیا تھا اس وقت مسافر گاڑیوں کے مالکان سے کہا گیا تھا وہ صرف 50فیصد سواریاں ہی ایس او پیز کے تحت بھریں گے، لیکن اس کو بالاطاق رکھ کر سواریاں بھی پوری بھری جاتی ہیں اور کرایہ بھی من مانے طریقے سے حاصل کیا جاتا ہے۔ایسا ہی حال بانڈی پورہ، پلوامہ ، بڈگام ، ترال اور دیگر روٹوں پر چلنے والی گاڑیوں کا بھی ہے وہاں پر بھی کرایہ میں اضافہ کیا گیا ہے ۔ ٹرانسپورٹروں کا کہنا ہے کہ پانچ اگست سے اب تک انہیں قریب ساڑھے 4ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے اور انہوں نے سرکار سے مطالبہ کیا تھا کہ ان کی گاڑیوں کو چلنے کی اجازت دی جائے اور ساتھ میں ان کیلئے مالی پیکیج کا اعلان کیا جائے لیکن سرکار نے ابھی تک کسی بھی بڑے پیکیج کا اعلان نہیں کیا اور صرف کرایہ کو بڑھا دیا گیا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ ہماری سرکار سے گزارش ہے کہ انہیں ایک بڑا مالی پیکیج فراہم کیا جائے جس سے ان کا گھر چل سکے اور لوگوں پر بھی کرایہ کا اضافی بوجھ نہ پڑے ۔ ریجنل ٹرانسپورٹ افسر کشمیر اکرم ٹاک نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی مسافروں کو ہدایت دی ہے اگر کوئی بھی گاڑی مالکان اضافی کرایہ وصول کر رہا ہے اس کی گاڑی کا نمبر محکمہ کو بتا دیں ،تاکہ اس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے ۔انہوں نے کہا کہ ایسے کسی بھی گاڑی مالکان کو نہیں بخشا جائیگاجو اضافی کرایہ وصول کر رہا ہے ۔