مسئلہ کشمیر کا حل مزاحمتی قیادت کے بغیر ناممکن

سرینگر؍؍حریت(گ) چیئرمین سید علی گیلانی نے مرکزی وزیرداخلہ کے اس بیان کہ اگر حریت والوں نے دروازے بند نہ کئے ہوتے ،تو مسئلہ کشمیر کاحل نکل آیا ہوتا،پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان اس زمینی صورتحال کابرملااعتراف ہے کہ کشمیر کادیرینہ مسئلہ یہاں کی مزاحمتی قیادت کے بغیر حل نہیں ہوسکتا۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ وزیرداخلہ کے اس بیان سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ یہاں کے عوام کے جذبات،احساسات اور اُن کی امنگوں کی ترجمانی یہاں کی مزاحمتی قیادت کرتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس اعتراف کے بعد حکومت کو اپنی روایتی ضداورہٹ دھرمی کوترک کرکے زمینی حقائق کو تسلیم کرنا چاہیے اور مسئلہ کشمیر کو اس کے تاریخی پس منظر اور عوامی خواہشات کے مطابق حل کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے ، کیوںکہ بھارت کے حکمرانوں نے گزشتہ سات دہائیوں سے ریاست کے عوام کوزیرکرنے کیلئے طاقت کا ہر وہ حربہ استعمال کیا ،جو اُن کے ہاتھ میں تھا،لیکن جموں کشمیر کا عوام اپنی مبنی برحق جدوجہد سے دستبردار ہونے کیلئے تیار نہ ہوا۔گیلانی نے کہا کہ انتہا یہ ہے کہ حکومتی سطح پر بات چیت کا عندیہ کسی نے نہیں دیا ،بلکہ دہلی میں کشمیر کیلئے روانہ ہونے والے وفدکی میٹنگ میں اس بات کا واشگاف الفاظ میں اعلان کیا گیا کہ ہم کشمیرمیں سرکاری اور منتخب لوگوں سے ملنے جارہے ہیں اور یہ کہ ریاست جموں کشمیر بھارت کا’اٹوٹ انگ‘ہے ۔گیلانی نے کہا کہ اُ سوقت کا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اس بات کا گواہ ہے کہ ممبران پارلیمنٹ کا جو گروپ کشمیرمزاحمتی قیادت سے ملنے آیا ،اُ نکے تعلق سے سرکاری موقف یہ تھا کہ یہ لوگ ذاتی حیثیت سے ملاقاتیں کررہے ہیں  اورحکومت نہ ہی انہیں روکے گی اور نہ ہی جانے کیلئے کہے گی ۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ بھارت کے حکمران ڈھٹائی سے جھوٹ بولنے میں یدِ طولا رکھتے ہیں اور ٹھوس حقائق سے منہ موڑنے اور انہیں یکسر مسترد کرنے میں دنیا میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔اس لیے اس بار بھی انہوں نے اُسی مہارت سے کچھ ممبروں کی ذاتی کوشش کو مذاکرات کا لباس پہنا کر دنیا کو دھوکہ دینے کی مذموم کوشش کی۔ حریت چیرمین نے کہا کہ اُس وقت کی بھارتی استعمار کے مقامی چہرے اپنے آقاؤں کے مکروفریب کو خوش کُن الفاظ کا جامہ پہناکر ریاستی عوام کو بہلانے کے لیے بہت ہی پھرتی دکھا رہے تھے، یہی وجہ ہے کہ آزادی پسندوں کے نام ’’بات چیت‘‘ کے حوالے سے خط ریاست کے حکومتی ذمہ دار کی طرف سے نہیں، بلکہ ایک مقامی پارٹی کی سربراہ کی حیثیت سے بھیجا گیا، تاکہ قتل وغارت گری اور کشمیریوں کوظلم سے اپنے جائز مطالبات سے دست بردار کرنے کے نئے حربے آزمانے والے ان کے خونین ساتھیوں کے ماتھے پر کوئی بل نہ آئے۔ ، اسی لیے پارلیمانی وفد کے دورے سے کچھ گھنٹے قبل رات کے اندھیرے میں کسی پولیس اہلکار کے ذریعے ’’دعوت نامہ‘‘ بھیج کر اس کو میڈیا میں اس قدر اُچھالا گیا جیسے یہی چند لمحات مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مخصوص تھے اور یہ گزرنے کے بعد اب یہ ساری کہانی قصہ پارینہ بن جائے گی۔ آزادی پسند رہنما نے کہا کہ ہمارے خونِ ناحق کے شراکت دار لیلیٰ اقتدار پر براجمان ’’شرق وغرب‘‘ کو ملانے کی باتیں کرنے والوں کو کچھ ہی عرصے کے بعد اس بات کا تجربہ ہوا کہ بیساکھیوں، جھوٹ، فریب اور دھوکہ میں بننے والی کوئی بھی عمارت زیادہ دیر حقائق کا سامنا کرنے کی اہل نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے پٹارے سے آزمائے ہوئے پرانے نسخوں پر ایک بار پھر عمل آوری کا دور شروع کیا گیا، مگرمچھ کے آنسو اور ظلم وستم کے مارے لوگوں کو گلے لگانے کے پرانے حربے استعمال کرکے پھر ایک بار عوامی جذبے کے استحصالی کوششیں زوروں پر ہیں۔ حریت چیرمین نے واضح کیا کہ ایسی فریب کارانہ سیاسی گورکھ دندوں سے مسائل حل نہیں ہوتے ہیں۔ بڑے اور دیرینہ مسائل کے لیے دور اندیشی، بالغ نظری، بے باکی، جرأت اور سب سے بڑھ کر حقیقت پسندی لازمی ہے۔ جن خصائل سے حکمران کم سے کم آج تک عاری ہی نظر آرہے ہیں۔