مسئلہ کشمیر کا حل فوج نہیں،افہام و تفہیم

سرینگر//سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر ایک سیاسی تنازعہ ہیں اور اس کا فوجی حل نہیں نکل سکتا،تاہم انہوں نے پاکستان کے ساتھ مذاکرتی عمل اور لوگوں کے ساتھ افہام و تفہیم کا راستہ نہیں اپنا یا جاتا حالات ٹھیک نہیں ہونگے۔پلوامہ کے ایک نوجوان کو مبینہ طور پر فوجی کیمپ میں تشدد کا نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ وہ یہ معاملہ کور کمانڈر کے ساتھ اٹھائے گی،تاکہ فوجی افسر میجر شکلا کو جوابدہ بنایا جاسکے۔ محبوبہ مفتی بدھ کو سابق ممبر اسمبلی سونہ وار محمد اشرف میر کے ہمراہ صدر اسپتال پہنچی اور مبینہ تشدد کا نشانہ بنائے جانے والے نوجوان توصیف احمد کی عیادت کی۔اس موقعہ پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ توصیف کو شادی مرگ پلوامہ کے فوجی کیمپ میں طلب کیا گیا اور وہاں انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔محبوبہ مفتی نے توصیف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں کیمپ میں میجر شکلا نے ہدایت دی کہ وہ بندوق اپنے گلے میں لٹکا دئے اور وہ ان کی تصویر لینا چاہتے ہیں،جبکہ دھمکی دی کہ اگر انہوں نے میجر کی ہدایت پر عمل نہیں کیا تو انکے ہاتھوں میں بندوق رکھ کر انہیں( فرضی) تصادم آرائی میں مارا جائے گا۔ سابق وزیر اعلیٰ نے کہا’’ توصیف کے والد کو کچھ برس قبل جنگجوئوں نے مارا اور اس کا بھائی فوج میں ہے،جو کہ کئی ماہ سے لاپتہ ہے‘‘۔سابق وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا’’ ایسا سنا ہے کہ میجر شکلا ایک بہادر سپاہی ہے،مگر یہ کیسی بہادوری ہے کہ وہ اپنے ہی جموں کشمیر کے بچوں پر اس قدر تشدد ڈھا سکتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اس کو بہادری نہیں کہہ سکتے کہ کسی بچے کو کیمپ میں طلب کر کے اس کے ساتھ زیادتی کی جائے۔ محبوبہ مفتی نے امید ظاہر کی کہ ریاستی گورنر اور فوج کے کور کمانڈر اس بات کا نوٹس لیں گے اور میجر شکلا سے پوچھ تاچھ کریں گے کہ توصیف پر اس قدر کیوں ظلم کیا گیا۔ محبوبہ نے کہا’’ میں یہاں(صدر اسپتال) سے نکل کر کور کمانڈر سے بات کروں گی،اور یہ معاملہ اٹھائوں گی کہ توصیف کو کیوں مارا گیا،تاکہ میجر شکلا کی جوابدہی ہو‘‘۔ ایک سوال کے جواب میں پی ڈی پی صدر نے  واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کا حل فوج نہیں کرسکتی،بلکہ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے جو افہام و تفہیم اور پاکستان کے ساتھ بات چیت کے ذریعے حالات بہتر ہوسکتے ہیں۔محبوبہ مفتی نے کہا’’ وزیر اعظم ہند نے کہا کہ وہ جنگجوئوں کی کمر توڑ دینگے،مگر جموں کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس کو فوج حل نہیں کرسکتی،نا ہی فوج اس کا علاج ہے،بلکہ جب تک بات چیت نہ ہو اور لوگوں کے ساتھ افہام و تفہم کے ساتھ بات چیت کی جائے اور پاکستان کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع نہ حالات بہتر نہیں ہوسکتے۔