مسئلہ کشمیر پر موقف میں کوئی تبدیلی نہیں لائی: برطانیہ

 سرینگر//برطانیہ نے کہا ہے کہ کشمیر سے متعلق ان کی سرکاری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی ہے اور ہندوستان اور پاکستانی باہمی طور پر اس مسئلہ کو حل کرسکتے ہیں ۔برطانیہ کا کہنا ہے کہ بھارت اور پاکستان خطے میں دیرپا امن کی راہیں تلاش کریںاور مسئلہ کشمیر کو باہمی طور پر حل کرنے کی کوششیں کریں ۔ برطانیہ کی حکومت نے اپنے غیر متزلزل مؤقف کا اعادہ کیا کہ بھارت اور پاکستان کے لئے اس مسئلے کا دیرپا سیاسی حل تلاش کرنے کے لئے اقدامات کرنے چاہئے۔ کشمیر کی سیاسی صورتحال پر پارلیمنٹ میں منعقدہ بحث کے جواب میں  وزیر خارجہ ، دولت مشترکہ اور ترقیاتی دفتر (ایف سی ڈی او) کے وزیر نائجل ایڈمس نے زور دیا کہ برطانیہ کے لئے یہ نہیں ہے کہ وہ باہمی معاملہ میں کوئی ثالثی کردار ادا کرے جبکہ انہوں نے قبول کیا کہ لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف انسانی جانوں کے زیاں کا شدید خطرہ لاحق ہے ۔ ایڈمس نے ایشیاء کے وزیر کی حیثیت سے کہا کہ’ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان کو اس صورتحال کے لئے ایک پائیدار سیاسی حل تلاش کرنا چاہئے جو کشمیری عوام کی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے نکالا جائے ‘۔سی این آئی کے مطابق انہوں نے کہا ’’برطانیہ کی حکومت کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ کوئی حل پیش کرے یا ثالث کی حیثیت سے کام کرے،دفعہ370 کو منسوخ کرنے کے حوالے سے اراکین پارلیمنٹ کی طرف سے اٹھائے گئے امور کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں پہلے ہی ہندوستان کے ساتھ بات کی گئی ہے‘ ۔