مسئلہ کشمیر پر دھونس دبائو قبول نہیں کریں گے:میر واعظ

 سرینگر//حریت(ع) چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ فوجی طاقت کا استعمال کرنے اورلوگوںومزاحمتی خیمے کو ہراساں کرنے کی پالسیاں ناکام ہوچکی ہیں، لہٰذا حکومت ہند کو اس حقیقت کا اعتراف کرنا چاہیے۔جامع مسجد میں خطاب کرتے ہوئے میر واعظ نے کہا کہ انہوںنے دہلی جاکر’’این آئی اے‘‘ کا سامنا کرنے کا اجتماعی طور فیصلہ کیا ۔انہوں نے کہا کہ این آئی نے 3 روزہ پوچھ تاچھ کے دوران ان سے  اسلامیہ اسکول، جامع مسجد سرینگر، دارالخیر، حریت، پاکستان جانے کے خواہشمند لوگوں اور کشمیری طلباء کو پاکستان میں ایم بی بی ایس کی خاطرک ویزا کے سفارشی خطوط کے حوالے سے سوالات کئے۔انکا کہنا تھا کہ انہوں نے تفتیشی ایجنسی کو ان سولات کے حقائق پر مبنی جوابات سے واقف کرایا ۔انہوں نے کہا کہ اب انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور این آئی اے کی طرف سے مزاحمتی قیادت پر دبائو بڑھایا جارہا ہے تاکہ کشمیریوں کی آواز کو دبایا جاسکے ، خود میرے گھر پر چھاپہ ڈالا گیا، اورکئی نوٹسیں جاری کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات اور الیکشنوں سے مسئلہ کشمیر کی حیثیت اور ہیئت کو متاثر نہیں کیا جاسکتا ،بلکہ ہند و پاک کو مسئلہ کو حل کئے بغیر کوئی چارئہ کار نہیں ہے۔انہوں نے کہا’’ مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کے حوالے سے ہمارے اصولی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی اور نہ ہی دھونس اور دبائو سے ہمیں اپنے موقف سے ہٹایا جاسکتا ہے۔میر واعظ نے کہا کہ پلوامہ واقعہ کے بعد ظلم و جبر کا دائرہ وسیع ہوتا جارہا ہے ، گرفتاریاں ، پی ایس اے کے تحت مزاحمتی لیڈروں اور کارکنوں کی گرفتاریاں اور مختلف جماعتوںپر پابندی عائد کی گئی تاکہ کشمیری عوام پر دبائو بڑھایا جائے اور وہ اپنے موقف سے دستبردار ہو جائیں۔