مسئلہ کشمیر بچوں کا کھیل نہیں :انجینئر رشید

سرینگر//عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید نے گورنر ایس پی ملک کو حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ گورنر کے اقوال اور ریاست میں زمینی صورتحال آپس میں میل کھاتے نہیں دکھائی دیتے ہیں۔ انجینئر رشید نے کہا کہ اگرچہ اس بات سے کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا ہے کہ نوجوانوں کو مشورے میں لئے جانے کی ضرورت ہے تاہم ابھی تک دیکھا گیا ہے کہ سرکار کا ریاستی،باالخصوص وادی ۔کے نوجوانوں کے ساتھ فقط گولی،پیلٹ ،پبلک سیفٹی ایکٹ اور اس طرح کی دیگر ظالمانہ چیزوں کے علاوہ کوئی تعلق نہیں ہے ۔انجینئر رشید نے کہاکہ گورنر ملک کا یہ کہنا کوئی مطلب نہیں رکھتا ہے کہ ریاستی نوجوانوں کو مصروف کیا جانا چاہیئے کیونکہ انکے سبھی دعوؤں کا مقصد مسئلہ کشمیر کو حل کئے بغیر ہی کشمیریوں کو خاموش کرنا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ سرکاری دعویداری کی سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ دکھاوے کیلئے بھی جو وقت وقت پر دعویٰ اور اقدامات کئے جاتے ہیں انہیں بھی کچھ وقت بعد کوڈے دان میں پھینک کو بھلا دیا جاتا ہے۔انہوں نے یاد دلاتے ہوئے کہاکہ یہ کوئی اور نہیں بلکہ خود وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ تھے کہ جنہوں نے سنگبازوں کے خلاف ایف آئی آر واپس لئے جانے کا اعلان کیا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف یہ ایف آی آر اپنی جگہ برقرار ہیں بلکہ نوجوانوں کے خلاف مزید ایف آئی کے اندراج اور انہیں پی ایس اے کے تحت جیل بھیجدئے جانے کے علاوہ آئے دنوں پولس تھانوں میں بلا کر انکی تذلیل کئے جانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔انجینئر رشید نے کہا کہ کشمیری قوم اپنے تعلیم یافتہ بچوں کو کھونا نہیں چاہتی ہے مگر اس طرح کے بیشتر معاملات سرکاری دہشت گردی کا نتیجہ ہیں کیونکہ کشمیری نوجوانوں کو بندوق اٹھانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر گورنر ملک اپنی دعویداری میں کچھ بھی سنجیدہ ہیں تو پھر انہیں ڈاکٹر منان وانی کے خاندان کے ساتھ رابطہ کرکے سچ جاننے کی کوشش کرنی چاہیئے کہ جہاں منان ہمیشہ سے ہی مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل میں یقین رکھتے تھے وہیں سرکاری فورسز نے انکی تذلیل کرکے انہیں بندوق اٹھانے پر مجبور کردیا تھا۔عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ نے بیرون ریاست زیر تعلیم کشمیری طلباء کے حالات کو افسوسناک اور قابل رحم بتاتے ہوئے کہا کہ ریاستی سرکار کا یہ کہنا کہ وہ اس حوالے سے بیرون ریاست متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اسے بری الذمہ قرار نہیں دیتی اور نہ ہی محض اس دعویداری کی بنیاد پر سرکار یہ کہہ سکتی ہے کہ اس نے اپنی ذمہ داری نبھائی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر نئی دلی نے واقعتاََکشمیری نوجوانوں کی فکر کی ہوتی تو پھر کشمیر میں تربیتی اور پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں کے قیام میں اڑچنیں نہیں ڈالی گئی ہوتیں۔انجینئر رشید نے کہا کہ نئی دلی اور اسکے آلہ کاروں کی دعویداری کچھ بھی ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس نے بار بار خود کو خود ہی بے نقاب کیا ہوا ہے۔انجینئر رشید نے کہا کہ گورنر ملک کو یہ بات جان لینی چاہیئے کہ ریاست کو وہ نہیں بلکہ سرکاری فورسز چلاتی آرہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے کہ جسے یہاں کے 13سے20سال تک کی عمر کے نوجوانوں کو کسی بھی طرح قابو کر کے نپٹایا جاسکتا ہوبلکہ مسئلہ کشمیر کے دائمی حل کیلئے نئی دلی کو سنجیدہ ہوکر پاکستان اور ریاست کی مزاحمتی جماعتوں ،چاہے وہ مسلح گروہ ہوں یا سیاسی جماعتیں،کے ساتھ بات کرنا ہوگی۔