مزید 5خواتین نشانہ بن گئیں،بال تراشی کیخلاف عوام سراپا احتجاج

 سرینگر// وادی میں خواتین کی مبینہ بال تراشی کی لہرتشویشناک صورتحال اختیار کر گئی ہے۔منگل کو جہاں 10خواتین کو نشانہ بنایا گیا وہیں بدھ کوسرینگر ،بجبہاڑہ اور خانصاحب میں مزید 5خواتین کو نشانہ بنایا گیا۔اس دوران مہجور نگر، سمر بگ لسجن میں پر تشدد احتجاج ہوا جبکہ ولر ہامہ سلر پہلگام میں دوفوجی اہلکاروں کو دبوچ لیا گیا جس کے دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے گولیاں چلائیں گئیں جس سے5افراد مضروب ہوئے جبکہ بارہمولہ میں3اہلکاروں اور بیروہ میں ایس ایس پی او کی مار پیٹ کی گئی۔اس دوران مائسمہ، کپوارہ اور اوڑی میں ہڑتال رہی اور پانپور میں طلاب نے مظاہرے کئے۔
سرینگر
بدھ کو سرینگر کے مہجور نگر علاقے میں اس وقت احتجاجی مظاہرے اور نعرہ بازی ہوئی،جب ایک خاتون کے مبینہ طور پر بال تراشے گئے۔مقامی لوگوں کے مطابق نقاب پوش افراد نے ایک خاتون کی صبح سویرے چوٹی کاٹی،جس کے ساتھ ہی وہ بے ہوش ہوئی،اور اس کو اسپتال پہنچایا گیا۔علاقے میں واقعہ کے خلاف مظاہرے ہوئے اور لوگوں نے نعرہ بازی کی۔اس دوران مکمل ہڑتال ہوئی اوردکانیں،کاروباری مراکز و تعلیمی ادارے بند رہے۔ سرینگر کے مضافاتی علاقہ سمر بگ لسجن میں گولہ پورہ کے نزدیک بعد از دوپہر ایک خاتون کی مبینہ طور پر چوٹی کاٹی گئی۔ واقعہ کے بعدخواتین گھروں سے باہر آکر احتجاج کرنے لگیں۔خواتین نے لسجن بائی پاس کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے نعرہ بازی کی،اور مصروف ترین شاہراہ بائی پاس پر دھرنا دیا،جس کی وجہ سے کافی دیر تک گاڑیوں کی نقل و حمل بند ہوکر رہ گئی۔اس دوران پولیس بھی وہاں پہنچی اور انہوں نے احتجاجی مظاہرین کو دھرنا ختم کرنے کی تلقین کی ۔دریں اثنائمائسمہ ،گائوکدل ،بڈ شاہ چوک اور گرد ونواح میں بدھ کو مسلسل دوسرے روز بھی گیسو تراشی کے خلاف ہڑتال رہی ۔یہاں دکانیں بند رہیں جسکی وجہ سے تجارتی سر گرمیاں متاثر ہو کر رہ گئیں ۔اُدھر ڈگری کالج پونپور کے طلاب نے بدھ کے روز گیسو تراشی کے واقعات کے خلاف پرامن احتجاجی مظاہرے کئے ۔مذکورہ کالج میں زیر تعلیم طلاب نے کالج احاطے میں جمع ہو کر گیسو تراشی کے واقعات کے خلاف اپنا احتجاج  درج کرایا ۔
اننت ناگ
ملک عبدالسلام  کے مطابق ولرہامہ سلر پہلگام میں صبح ساڑھے چھ بجے  لوگوں نے دو مشتبہ افراد کو زلف تراشی کے الزام میں دبوچ لیا۔عین شاہدین کے مطابق دو مشتبہ افراد نے صبح ساڑھے چھ بجے شریفہ اختر زوجہ زوالفقار احمد ساکن صوفی پورہ کی بال تراشی کی کوشش کی ۔ تاہم  اہل خانہ نے اسے دبوچ لیا جس کے بعد سارا علاقہ جمع ہوگیا ۔ گائوں میں پہلے سے ہی فوج کی ایک گاڑی موجود تھی ،جنہوں نے دونوں مشتبہ افراد کو عوامی چنگل سے بچا لیا۔اس موقعہ پر لوگ مشتعل ہوئے اور انہوں نے فوج پر پتھراؤ کیا جس پر لوگوں کے مطابق فوج نے بے تحاشا فائرنگ کرکے تقریباً 5 افراد کو زخمی کر دیا، اور مشتبہ افراد کو اپنے ساتھ لے گئے۔ گولیاں لگنے سے جو شہری زخمی ہوئے انہیں ضلع ہسپتال اننت ناگ میں داخل کیا گیا ان کی شناخت زاہد احمد میر ولد گلزار احمد، ظہور احمد جان ولد محمد انور جان، ارشاد احمد بٹ ولد محمد ابراہیم بٹ، فاروق احمد کھانڈے ولد غلام نبی کھانڈے اور مختی بیگم زوجہ غلام محمد ماگرے کے طور ہوئی۔ادھر گُری اُرن ہال بجبہاڑہ علاقے میں بدھ کی دوپہر مبینہ طور ایک خاتون کی زُلف تراشی کے پر اسرارواقع رونما ہوئے۔واقع کے فوراً بعد مختلف بستیوں سے تعلق رکھنے والے مردوزن گھروں سے باہر آئے اور نعرے بازی کرتے ہوئے سرینگر جموں شاہراہ کی طرف مارچ کیا جہاں انہوں نے دھرنا دیکر گاڑیوں کی آواجاہی روک دی ۔بعد میں پولیس نے معاملے کی نسبت چھان بین کا یقین دلاکر مظاہرین کو پر امن طور تتر بتر کرنے کی کوشش کی۔ تاہم مظاہرین منتشر نہیں ہوئے جس کے بعد ان پر ٹیر گیس کے گولے داغے گئے ۔
بڈگام
 نمائندہ عظمیٰ کے مطابق خانصاب بڈگام میں بدھ کو چوٹیاں کاٹنے کے 2واقعات پیش آئے جبکہ بیروہ میں ایک ایس پی او کی مارپیٹ کی گئی ۔مقامی لوگوں  کے مطابق سمش آباد میں ایک جواں سال لڑکی پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا جس دوران لوگوں نے کوشش کو ناکام بنایا تاہم ملزمان مذکورہ لڑکی کے کچھ بال کاٹنے میں کامیاب ہوئے۔اسی طرح کے ایک اور واقعہ میں اقبا ل کالونی خانصاحب میں فسٹ ائر میں زیر تعلیم ایک طالبہ کی چوٹی کاٹی گئی ۔اس موقعہ پر جب لڑکی نے شور مچایا تو اسکے سر پر وار کیا گیا اور جب اسکی ماں نے شور سنا تو باہر اس نے اپنی بیٹی کو بے ہوش پایا اور اسکے بال کٹے ہوئے پائے ۔اس سے قبل کالونی میں گذشتہ دنوں ایک لڑکی کے بال کاٹنے کی کوشش کو ناکام بنادیا گیا تھا ۔ادھر بیروہ میں کل لوگوں نے اس وقت ایک ایس پی اوبشیر احمد کی مارپیٹ کی جب لوگوں کو یہ شک ہوا کہ وہ گیسو تراشی میں ملوث ہے۔اس موقعہ پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ ایس پی او کو بچالیا ۔بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ ایس پی او گھروں میں داخل ہوکر اخروٹ خریدرہا تھا ۔بڈگام ضلع میں آج تک گیسو تراشی کے 16واقعات پیش آئے ہیں ۔
بارہمولہ
فیاض بخاری کے مطابق شیری بارہمولہ میں بدھ کو اس وقت افرا تفری پھیل گئی جب مقامی لوگوں نے سرینگر مظفر آباد شاہراہ پر تین فوجی اہلکاروں کو گیسو تراش سمجھ کر شدید مارپیٹ کی۔جس کے بعد تینوں افراد کو پولیس کے حوالے کیا گیا۔مقامی لوگوں کے مطابق ان تینوں افراد سے کچھ بیڑیاں برآمد ہوئی ، جس کے باعث انہیں  یہ افراد مشتبہ لگے۔اس دوران شیری بازار میں کچھ دیر تک دوکانیں بند رہیں اور ٹریفک بھی متاثر رہا۔تاہم پولیس نے ان افراد کے ملوث ہونے کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تینوں فوجی اہلکار کچہامہ کیمپ  سے وابستہ ہیں اور سرچ بیٹری ٹھیک کرنے کیلئے بازار جارہے تھے۔ایس ایس پی بارہمولہ امتیاز حسین نے بتایا کہ یہ تینوں افراد فوجی ہیں اور مذکورہ اہلکار نزدیکی فوجی  کیمپ میں تعینات ہیں اور کچھ شرپسندوں نے انہیں گاڑی سے اتار کر مارپیٹ کی۔انہوں نے کہا کہ پولیس نے اس سلسلے میں کیس درج کر کے تحقیقات شروع کردی۔ معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں پولیس نے نصف درجن افراد کو گرفتار کیا ہے۔
اوڑی
ظفر اقبال کے مطابق اوڑی میں چوٹی کاٹنے کے واقعات کے خلاف دوسرے روز بھی احتجاج کیا گیامنگل کو سرحدی قصبہ اوڑی میں نامعلوم افراد نے ایک خاتون کو گائوخانے میں پاوڈر پھنکنے کے بعد چوٹی کاٹنے کی کوشش کی تھی مگر خاتون کی چینخ و پکار کے بعد دونوں افراد فرار ہوگئے تھے۔بدھ کو اس واقعہ کے خلاف لوگوں نے، جن میں خواتین بھی شامل تھیں، دوسرے روز بھی اوڑی بازار میں سرینگر مظفر آباد شاہراہ پر پولیس اور حکومت کے خلاف احتجاج کیا جس دوران دوکانیں بند اور گاڑیوں کی آمد رفت بھی روک دی گئی ۔احتجاج میں شامل متاثرہ خاتون کے ایک رشتہ دار نے بتایا کہ اس واقعہ کے روز جس ٹا ٹا سومو گاڑی میں وہ دو افراد فرار ہوئے ، اس گاڑی کا نمبر انہوں نے نوٹ کرلیا ہے اورپولیس کو بھی دیا تھا مگر پولیس اس گاڑی کے ڈرائیور کو حراست میں لینے سے انکاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ انکی مانگ ہے کہ پولیس اس گاڑی کے ڈرائیور کو حراست میں لیکر پتہ لگائیں کہ اس واقعہ میں کون لوگ ملوث ہیں۔ایس ڈی ایم اوڑی ڈی ساگر ڈائفورڈ نے احتجاجیوں کو بتایا کہ پولیس نے اس سومو ڈرائیور کو حراست میں لیا تھا مگر ڈرائیور کی بہن کی موت ہونے کی وجہ سے اس کو شام تک چھوڑ دیا ہے جس کے بعد اس کو دوبارہ گرفتار کیا جائے گا اور ڈرائیور سے پوچھ تاچھ کی جائے گی ۔ 
کپوارہ
اشرف چراغ کی اطلاع کے مطابق ریڈی چوکی بل میں شادی شدہ خاتون کے گیسو تراشنے کے خلاف بدھ کو علاقے میں مکمل ہڑتال رہی ۔ کرالہ پورہ قصبہ میں واقعہ کے خلاف  تمام کاروباری سرگرمیاں متاثر رہیں۔ اس دوران نوجوانوں کی کئی ٹولیاں قصبے میں نمودار ہوئیں اور ہڑتال کی خلاف ورزی کرنے والے دوکانوں پر پتھرائو کیا ۔قصبے میں گاڑیوں کی آمد رفت بھی متاثر رہی۔ ادھر چوکی بل میں لوگوں نے واقعہ کے خلاف احتجاج کیاجبکہ دوسرے روز بھی وہاں پربازار بند رہے ۔کرالہ پورہ کے لون ہرے، میلیال ، پنز گام اور بٹہ پورہ میں لوگوں نے چوٹی کاٹنے کی کوششیں ناکام بنا دیں ہیں۔