مزید 3واقعات، پائین شہر بند، سیول لائنز میں احتجاج

سرینگر//صنف نازک کی پراسرار گیسو تراشی کے خلاف مزاحمتی خیمے کی کال پر حیدپورہ،سرائے بال، چرار شریف اور دیگر علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے جبکہ حضرت بل اور حاجن میں سنگباری اور ٹیر گیس شلنگ کے واقعات رونما ہوئے۔ امکانی احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر شہر خاص کے5حساس پولیس تھانوں اور سیول لائنز کے2پولیس اسٹیشنوں کے حدود میں آنے والے علاقوں میں بندشیں عائد کی گئیں،جس کے پیش نظر جامع مسجد سرینگر میں مسلسل چوتھے ہفتے بھی نماز جمعہ کی ادائیگی پر پہرے بٹھا دئے گئے۔ 
 احتجاج
 لبریشن فرنٹ کی طرف سے سرائے بالا میں احتجاجی جلوس برآمد کیا گیا،جس کے دوران گیسو تراشی کے خلاف نعرہ بازی کی گئی۔احتجاجی مظاہرین نے سرائے بالا سے نماز جمعہ کے بعد جلوس برآمد کرتے ہوئے اسلام و آزادی کے حق میں بھی نعرہ بازی کی،اور اس دوران بینئر اور پلے کارڑ بھی اٹھا رکھے تھے۔ جلوس میں فرنٹ کے شیخ عبدالرشید، محمد صدیق شاہ، بشیر احمد کشمیری، اشرف بن سلام اور محمد عظیم زرگر وغیرہ نے شرکت کی۔ شرکائے جلوس خواتین پر ہورہے حملوں کے خلاف نعرے بلند کرتے ہوئے امیرا کدل تک پہنچے جہاں انہوں نے ان مذموم حملوں کے خلاف ایک احتجاجی دھرنا بھی دیا۔حریت(گ) کارکنوں نے حیدرپورہ میں پُرامن احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرہ میں مولوی بشیرعرفانی، نثار حسین راتھر، محمد یوسف نقاش، حکیم عبدالرشید، بشیر احمد قریشی، امتیاز احمد شاہ، سید محمد شفیع، عمران احمد بٹ اور سینکڑوں اراکین شامل تھے۔ احتجاجی مظاہرین نے اگر چہ ائرپورٹ روڑ کی طرف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی،تاہم پولیس نے انہیں اس کی اجازت نہیں دی،جس کے بعد نعرہ بازی کرتے ہوئے وہ منتشر ہوئے۔اس دوران درگاہ حضرتبل میں گزشتہ روز گیسو تراشی کے واقعے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ جمعہ کو نوجوانوں نے صبح مسافر اور نجی گاڑیوں پر سنگبازی کرتے ہوئے گاڑیوں کی نقل و حرکت کو بند کرنے کی کوشش کی،جس کے ساتھ ہی علاقے میں ہڑتال ہوئی۔اچانک ہڑتال اور سنگباری کی وجہ سے درگاہ میں افراتفری کا ماحول پیدا ہوا۔مقامی لوگوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز انہوں نے ایک بال تراش کو دبوچا تھا،تاہم پولیس نے اس کو بچا لیا اور بعد میں رہا کیا۔ نماز جمعہ کے موقعہ پر احتجاجی پروگرام کے سلسلے میں حریت قائدین نے آستان عالیہ جناب صاحب صورہ میں ایک پُر امن احتجاجی مظاہرہ کیا جس دوران موئے تراشی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ان واقعات میں ملوث عناصر کی گرفتاری میں حکومتی ناکامی کیخلاف شدید احتجاج کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے میںمشتاق احمد صوفی، ایڈوکیٹ یاسر دلال، محمد حیات، ساحل احمد وار ، غلام محمد نجار، فاروق احمد شیخ  اور لوگوں کی بڑی تعداد نے حصہ لیا۔ بڈگام کے چرار شریف قصبہ میں اس وقت صورتحال بگڑ گئی جب نماز جمعہ کے بعد یہاں احتجاجی جلوس بر آمد ہوا ۔ احتجاجی جلوس کے بعد یہاں نوجوان مشتعل ہوئے جب پولیس اور فورسز نے انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی ۔ مشتعل نوجوانوں کی سنگباری کے جواب میں فورسز نے ہوائی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں چرار شریف قصبہ میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ۔
بارہمولہ+بانڈی پورہ
فیاض بخاری کے مطابق ضلع بارہمولہ کے پہلی پورہ بونیار علاقے میں جمعرات کی شام ایک دوشیزہ کی گیسو تراشی کی گئی محمد مقبول نجار کی بیٹی جب گھر میں کام رہی تھی تو اس دوران وہ ایک کمرے میں کسی کام کیلئے گئی وہ وہاں پر پہلے سے ہی تین نامعلوم افراد داخل ہوئے تھے ۔جس کے بعد انہوں نے مذکورہ لڑکی کو بیہوش کرکے گیسو تراشی کی ۔ ان افراد کو پکڑنے کی کافی کوشش کی گئی لیکن وہ فرار ہوئے ۔ادھرعازم جان کے مطابق بانڈی پورہ کے حاجن علاقہ میں فورسز اور نوجوانوں کے مابین تصادم آرائی ہوئی ۔ صبح سویرے 13 آر آر فوج کی گشتی پارٹی حاجن بازار میں نمودار ہوئی ، اس دوران نوجوانوں نے گشتی پارٹی پر زبردست پتھرائو کیا  اورجواب میں فورسز نے ٹیر گیس کے گولے داغے۔ مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ فورسز نے انتقام گیری کے تحت مکانوں اور دوکانوں کے  شیشے توڑ ڈالے ۔ توڑ پھوڑ کے خلاف حاجن میں بطور احتجاج ہڑتال رہی ۔ اجس میں گیسو تراشی کے خلاف نماز جمعہ کے بعد پرامن جلوس بھی نکالا گیا ۔ بانڈی پورہ قصبہ میں نماز جمعہ کے بعد احتجاج نہیں ہوا۔اس دوران گنائی محلہ بیروہ میں بارہویں جماعت کی طالبہ پر اپنے گھر میں حملہ کیا گیا۔اہل خانہ نے اسے بیہوش پایا اور اسکے بال کاٹے گئے تھے۔اسے اسپتال منتقل کردیا گیا۔اس سے قبل بیرہ قصبہ میں ایک لڑکی کی دو بار گیسو تراشی کی گئی۔دریں اثناء بائی پاس چھانہ پورہ برج کے قریب نمازجمعہ کے بعد جھگی جھونپڑی میں رہنے والی ایک غیر ریاستی لڑکی کے بال بھی کاٹے گئے۔
شہر خاص سیل 
مزاحمتی جماعتوں کی طرف سے احتجاجی مظاہروں کے کال کے پیش نظر پائین شہر کے حساس علاقوں میں پابندیاں عائد کی گئیں اور شہری نقل و حرکت پر بندشیں لگائی گئیں۔ پائین شہر کے پانچ پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں سخت بندشوں اور قدغنوں کا نفاذ عمل میں لایا گیا۔پولیس اسٹیشن خانیار، رعناواری،نوہٹہ،مہاراج گنج اور صفاکدل کے تحت آنے والے بیشتر علاقوں میں پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کو اہم سڑکوں ،چوراہوںاور شاہراہوں پر تعینات کیاگیا تھا اور جگہ جگہ ناکے بٹھائے گئے تھے۔سرکاری طور پر ان علاقوں میں دفعہ144کے تحت امتناعی احکامات نافذ رہیں۔ گاڑیوں کے ساتھ ساتھ پیدل چلنے والوں کی نقل و حرکت مکمل طور مسدود کھی گئی ۔سیول لائنز کے مائسمہ اور کرالہ کھڈ تھانوں میں بھی امکانی احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر جزوی طور پر بندشیں عائد کی گئی تھیں۔پائین شہر میں صبح سے ہی سناٹا اور ہوکا عالم چھایا رہا اور سخت ترین ناکہ بندی سے شہریوں کو اپنے ہی گھروں کے اندر قیدی بناکر رکھا گیا تھا۔اس دوران پائین شہر اور سیول لائنزکے صفاکدل ،سکہ ڈافر، نواب بازار، نوہٹہ ، جمالٹہ، خانیار، رعناواری، راجوری کدل ، علمگری بازار، حول ،بہوری کدل ، مہاراج گنج سمیت کم وبیش تمام علاقوں میں دوکانیں، کاروباری ادارے، بنک، پیٹرول پمپ اور دفاتر وغیرہ مکمل طور بند او ر گاڑیوں کی نقل و حرکت معطل ہوکر رہ گئی۔
جامع مسجد مسلسل مقفل
جامع مسجد سرینگر کے ارد گرد سخت ترین پابندیاں عائد کی گئیں تھیں،جس کی وجہ سے چوتھے ہفتے بھی مسلسل اس تاریخی مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی ممکن نہیں ہو سکی۔جامع مسجد کی طرف جانے والے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں ،اور کسی بھی شخص کو اس طرف جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ شہر خاص کے نوہٹہ میں واقع اس تاریخی مسجد کے تمام صدر دروازوں کو بند کیا گیا تھا ۔ مرکزی مسجدکی طرف جانے والی سبھی سڑکوں اورگلی کوچوں کوصبح سے ہی مکمل طورسیل رکھاگیاتھا۔نوہٹہ ،گوجوارہ ،راجوری کدل ،صرف کدل ،ملارٹہ اوردیگرنزدیکی علاقوں کی سڑکوں اورگلی کوچوں پرپولیس اورفورسزکی جانب سے خاردارتاریں بچھاکررکاوٹیں ڈالدی گئی ہیں جبکہ سبھی چوراہوں ،نکڑوں اورگلی کوچوں کے دہانوں پرپولیس اورسی آرپی ایف کے دستے چوکنارکھے گئے ہیں۔
 

بندشیں آج بھی بدستور رہیں گی

 سرینگر//مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے دی گئی ہڑتال کال کے پیش نظر ضلع انتظامیہ نے سرینگر کے پائین شہر میں5 پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں بندشیں عائد کرنے کا فیصلہ کیاہے جبکہ کشمیر یونیورسٹی نے سنیچر کو لئے جانے والے تمام امتحانات ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔ ضلع انتظامیہ سرینگر نے نوہٹہ،رعناواری،خانیار،صفاکدل اورمہاراج گنج کے تحت آنے والے علاقوں میں مسلسل دوسرے روز دفعہ 144 کے تحت بندشیں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ سیول لائنز کے مائسمہ اور کرالہ کھڈ علاقوں میں بھی جزوی طور پر بندشیں عائد رہیں گی ۔ اس دوران  21 اکتوبر سنیچروار کیلئے کشمیر یونیورسٹی کی انتظامیہ نے لئے جانے والے تمام امتحانات ملتوی کر دیا ہے ۔ یونیورسٹی ترجمان نے بتایا کہ امتحانات کیلئے الگ سے نئی تاریخوں کا اعلان کیا جائیگا ۔