مزید خبریں

 سابق ایکسائز کمشنر کے خلاف غیر متناسب اثاثوں کا مقدمہ درج

جموں//انسداد بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے منگل کے روز ایک سابق ایکسائز کمشنر کے خلاف غیر متناسب اثاثوں کا مقدمہ درج کیا اور جموں و کشمیر کے اندر اور باہر تین مقامات پر تلاشی لی۔ ایک ترجمان نے بتایا کہ یہ مقدمہ یہاں بٹھنڈی کے رہائشی سابق ایکسائز کمشنر محمد جاوید خان کے خلاف ابتدائی تفتیش کی بنیاد پر درج کیا گیا تھا کہ اس نے مبینہ اور غیر منقولہ طور پر بھاری اثاثے جمع کرائے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خان ، ان کے کنبہ کے افراد اور ان کے اخراجات سے ہونے والے اثاثوں کی قیمت ان کے معلوم ذرائع سے آمدنی کے لئے غیر متناسب ہیں جو بدعنوانی کی روک تھام کے ایکٹ کے مختلف حصوں کے تحت قابل سزا ہیں۔"تحقیقات کے دوران سرچ وارنٹ حاصل کیے گئے اور دو ٹیمیں گڑگاؤں اور نوئیڈا میں تلاشی کے لئے روانہ کردی گئیں۔اے سی بی کے ترجمان نے بتایا ، "جموں کے بٹھنڈی ، جموں میں ملزمان کی رہائش گاہ پر بھی تلاشی لی گئی۔ ٹیموں نے ملزموں کے ذریعہ بدعنوانی کے طریقوں کا سہارا لے کر حاصل کی گئی غیر محاسب دولت سے متعلق قابل اعتراض دستاویزات برآمد کیں اور انھیں ضبط کیا۔"انہوں نے بتایا کہ اس کیس کی مزید تفتیش جاری ہے ۔
 
 
 

تحریری امتحان کیلئے عبوری تاریخ کااعلان

 جموں//آئی جی پی آرمڈ جموں زون ، چیئرمین سنٹرل بورڈ نے جے کے پولیس عہدیداروں کے لئے تحریری امتحان کے لئے عارضی تاریخ کا اعلان کیا ہے جو ایس جی سی ٹی (ایم) کی حیثیت سے تبادلوں کے لئے ٹائپنگ ٹیسٹ کے اہل ہیں۔ اس سلسلے میں ایک نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن میں لکھا گیا ہے کہ جموں و کشمیر پولیس کے تمام پولیس اہلکار جنہوں نے ایس جی سی ٹی (ایم) کو وزارتی ایگزیکٹو کیڈر میں تبدیل کرنے کے لئے درخواست دی ہے اور ان کے ٹائپنگ ٹیسٹ کے اہل ہیں، ان کا تحریری امتحان 14-02-2021 کو عارضی طور پر جموں و کشمیر پولیس پبلک سکول میران صاحب ، جموں اور پولیس پبلک اسکول بمنہ سری نگرمیں لیاجائے گااور گیارہ بجے رپورٹنگ ٹائم مقرر کیاگیاہے۔
 
 
 
 
 
 

ادھم پور میں موروں کو پکڑ کر قرنطینہ میں رکھنا شروع

جموں// جموں و کشمیر میں محکمہ وائلڈ لائف نے ضلع ادھم پور کے دندال نامی گائوں میں موروں کو پکڑ کر قرنطینہ میں رکھنا شروع کر دیا ہے۔یہ اقدام دندال میں چند روز قبل ایک مور اور ایک گھریلو پرندے کا ایوئین فلو ٹیسٹ مثبت آنے کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔ادھم پور کے وائلڈ لائف رینج آفیسر راکیش شرما نے بتایا کہ دندال نامی گائوں کے ایک کلو میٹر کے ریڈیس میں موجود تمام موروں کو قرنطینہ میں رکھا جا رہا ہے جبکہ گھریلو پرندوں کو ایس او پیز اور گائیڈ لائنز کے تحت ڈسپوز آف کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ چونکہ مور ہمارا قومی پرندہ ہے اس کے پیش نظر ان کو پکڑ کر قرنطینہ میں رکھنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔راکیش شرما نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا’’پندرہ دن قبل ادھم پور کے دندال نامی گائوں میں کچھ گھریلو پرندوں اور ایک مور کی موت واقع ہوئی۔ ہم نے مور کو ٹیسٹنگ کے لئے جموں بھیجا جہاں سے اسے جالندھر بھیجا گیا تھا۔ تین دن پہلے اس کی رپورٹ مثبت آئی۔ یہ تشویشناک معاملہ ہے‘‘۔ان کا مزید کہنا تھا’’میں نے اپنی ٹیموں کو دندال بھیج دیا ہے۔ انہیں وہاں جتنے بھی مور ملیں گے ان کو الگ الگ رکھا جائے گا۔ جب تک نہ ان کی رپورٹ آتی ہے ان کو قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔ چونکہ گھریلو پلوٹری پرندے کھانے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں، ان کو ایس او پیز اور گائیڈ لائنز کے تحت ڈسپوز آف کیا جائے گا‘‘۔راکیش شرما نے کہا کہ ہمارے ضلع میں 7 جنوری کو بھی 153 کوے مردہ حالت میں پائے گئے تھے جن کی بعد ازاں رپورٹ منفی آئی۔انہوں نے کہا’’کچھ کووں کو ٹیسٹنگ کے لئے جموں بھیجا گیا تھا جبکہ باقیوں کو ایس او پیز اور گائیڈ لائنز کے تحت محفوظ طریقے سے  ڈسپوز کیا گیا تھا۔ جن کووں کو ٹیسٹنگ کے لئے جموں بھیجا گیا تھا ان کی رپورٹ منفی آئی تھی‘‘۔
 
 
 
 
 
 

 جموں یونیورسٹی پونچھ کیمپس کیلئے رقوم واگزار پر عوام میں خوشی کی لہر

حسین محتشم
پونچھ//جموںیونیورسٹی کے پونچھ کیمپس کی زیر التوا تعمیرات کومکمل کرنے کیلئے جموں کشمیر انتظامیہ کی جانب سے رقومات واگزار کرنے پر پونچھ کے عوام خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔اس حوالے سے پونچھ یوتھ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر کا شکریہ ادا کیا ہے کہ انہوں نے اس کام کو شروع کرنے کا حکم صادر فرمایا ہے۔نیشو گپتا نے کہا کہ 2008 سے اقتدار بدلنے کے ساتھ ساتھ جموں یونیورسٹی پونچھ کیمپس کا سنگ بنیاد بھی بدلتا گیا اور مختلف سیاسی رہنمائوں نے سنگ بنیاد رکھنے کے لئے پونچھ آنے کی زحمت بھی کی لیکن اس امر کے بعد عمارت کے کام کاج کو مکمل کرنے میں کسی نے زمینی سطح پر دلچسپی نہیں دکھائی اور متعدد وجوہات کے باعث اس یونیورسٹی کیمپس کے کام میں خلل پیدا ہوا ۔انہوں نے کہا کہ اس عمارت کے رکے ہوئے کام کو لیکر نوجوانوں کے بارہا احتجاج کے بعد ایک مرتبہ اس وقت کے ریاستی گورنر نریندر ناتھ وہرا نے کیمپس کی تعمیر کے لئے 1.39 کروڑ روپے واگزار کرنے کا اعلان کیا گیا لیکن وہ رقومات واگزار ہی نہیں ہوئی۔ ایڈوکیٹ بانو پرتاب نے کہا2008 سے پونچھ کے زیر تعلیم وہ بچے جو اس وقت چھوٹی جماعتوں میں تعلیم حاصل کر رہے تھے ایک خواب سجا چکے تھے کہ وہ اپنی اعلیٰ تعلیم بھی پونچھ میں ہی حاصل کریں گے لیکن ان میں کچھ تو تعلیم کو غربت کی وجہ سے آگے نہیں بڑھا پائے اور کچھ اعلیٰ تعلیم جموں کشمیر یا بیرون جموں و کشمیر سے حاصل کر کے واپس لوٹ آئے ہیں مگر اب تک یہ عمارت مکمل نہیں ہو سکی جو قابلِ افسوس ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اب جب لفٹینٹ گورنر نے اس عمارت کے لئے دوبارہ رقومات فراہم کرنے کا اعلا کیا ہے تو اس پر فوری عمل ہوگا اور جلد سے جلد اس عمارت کا کام شروع کیا جائے گا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ بقایا رقومات بھی ساتھ ساتھ واگذار کر کے عمارت کا کام جلد سے جلد مکمل کیا جائے گا۔