مزید خبریں

متنازعہ فلم ’دی کشمیر فائلز‘کے خلاف شیعہ فیڈریشن کا احتجاج 

فلم میں اسلام و رہبر معظم کی توہین کی گئی ہے ،نمائش روکنے کا مطالبہ کیا 

جموں//شیعہ فیڈریشن صوبہ جموںکے بینر تلے نماز جمعہ کے بعد زوردار احتجاج کیا گیا ۔یہ احتجاج دی نیوز ٹی وی کی جانب سے لوکل پروڈکشن میںتیار کی گئی متنازعہ فلم ’دی کشمیر فائلز ‘کے خلاف تھا ۔اس موقع پر احتجاج کرنے والوںنے زور دار نعرے بازی کر کے اس متنازعہ فلم کی نمائش کو روکنے کی مانگ کی ۔اس موقعہ پر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے امام جمعہ مولوی زوار نے فلم بنانے والوںکو تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس فلم میںاسلام ،رہبر معظم آیت اللہ خامنائی کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔امام جمعہ نے کہا کہ متنازعہ فلم سے خاص مذہب کو نشانہ بناکر نفرت و انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔جس کی ہم پر زور مذمت کرتے ہیں۔مولوی زوار نے جموںوکشمیر کے ایل جی منوج سنہا سے فلم کی نمائش روک دینے کی مانگ کی گئی ،ساتھ ہی انتباہ دیا گیا کہ فلم سے متنازعہ سین کو ہٹایا جائے ،اگر فلم جوںکی توںریلیز کی جاتی ہے تو احتجاج کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا ،جس کی ذمہ داری سرکار کی ہوگی ۔پروگرام کے حاشیئے پر شیعہ فیڈریشن کے صدر عاشق حسین خان نے متنازعہ فلم بنانے والوںکو آڑے ہاتھوںلیتے اسلام کو غلط انداز سے پیش کرنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے جس کا اسلام سے دور کا واسطہ نہ رہا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میںاس قسم کے واقعات و حرکات اکثر رونما ہوتے رہتے ہیںجن کو روکنا موجودہ سرکار کا فرض اولین ہے لیکن بار بار احتجاج و سوشل میڈیا و الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کی وساطت سے مرکزی سرکار کی توجہ دلائی جاتی رہی لیکن مرکزی سرکار نے ہوش کے ناخن نہ لئے جس سے اس بات کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ مرکزی سرکار کی ان عناصر کو شہ حاصل ہے جو اپنے ذاتی مقاصد کے حصول کے لئے خاموشی اختیار کرتی ہے ۔خان نے کہا کہ کسی بھی مذہب  کے ماننے والوںکو بار بار سڑکوںپر لانے کیلئے مجبور کیا جا تا ہے ،جس سے ملک کی نیک نامی نہیںہوتی ہے ،خان نے کشمیر فائل فلم میںمتنازعہ سین فلمائے جانے کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے مرکزی سرکار و جموںوکشمیر کے ایل جی سے فلم کی نمائش روکے جانے کی مانگ کی ،ساتھ ہی مستقبل میںاس قسم کی واہیات فلم کشی پر مکمل پابندی عائد کئے جانے کی بھی مانگ کی ،ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے گلشن کو پارہ پارہ کرنے کی مذموم کوششیںکرنے والوںسے سختی سے نمٹا جائے کیونکہ اس سے ہماری اندرون و بیرون ملک بدنامی ہو رہی ہے ۔انہوںنے فلم کے قابل اعتراض سین کو ہذف کرنے کی پر زور مانگ کی ۔
 
 

جموں صوبہ میں پٹواریوں کی گرفتاری کے خلاف پٹوار کانفرنس کا احتجاج جاری

ایسوسی ایشن کے ارکان نے صوبائی کمشنرسے ملاقات کی، مثبت نتائج کی توقع

سید امجد شاہ
جموں// آل جموں و کشمیر پٹواری ایسوسی ایشن (اے جے کے پی اے) نے بدنام زمانہ سنجوان چاوڑی گمشدہ ریکارڈ سکینڈل میں دو پٹواریوں کی گرفتاری کے بعد جموں صوبے بھر میں اپنے جاری احتجاجی مظاہروں کو تیز کر دیا ہے۔چیف جوڈیشل مجسٹریٹ نے ایک ریٹائرڈ تحصیلدار سمیت چار افراد کی درخواست ضمانت مسترد کر دی ہے، اے جے کے پی اے کے اراکین نے کہا کہ دو گرفتار پٹواریوں میں سے ایک ریونیو اہلکار کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا اور دوسرا ابھی تک پولیس کی تحویل میں ہے۔اے جے کے پی اے کے عہدیداروں نے گریٹر کشمیر کو بتایا، "ہمارے عہدیداروں کی ڈویژنل کمشنر کے دفتر سے میٹنگ ہوئی اور ہم جموں صوبے میں ریونیو اہلکاروں (پٹواریوں) کی ہڑتال کے بعد کچھ مثبت ردعمل کی توقع کر رہے ہیں۔دریں اثنا، احتجاج کرنے والے پٹواریوں نے الزام لگایا کہ ریونیو اہلکاروں کو مبینہ طور پر اس جرم کے لیے ہراساں کیا جا رہا ہے جو انہوں نے مبینہ طور پر نہیں کیا۔پٹواریوں کی طرف سے کٹھوعہ سمیت مختلف اضلاع میں بھی اسی طرح کے احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں ریونیو اہلکاروں کی حمایت میں ان کے مسائل کے ازالے کا مطالبہ کیا گیا تھا یعنی گرفتار ریونیو اہلکاروں کی رہائی۔اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (SIT) نے اکھنور اور جموں کے سٹی ایریا سے دو اور ریونیو اہلکاروں کو گرفتار کرنے کے بعد جموں کے ضلع ہیڈ کوارٹر میں کئی دنوں سے احتجاج جاری تھا۔