مزید خبریں

 کلدیپ کھڈا صدر، جنڈیال کے جنرل سکریٹری منتخب

جموں//سینٹرل گورنمنٹ پنشنرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (سی جی پی ڈبلیو اے) جموں کی 24ویں سالانہ جنرل باڈی میٹنگ کا انعقاد گزشتہ روز  یہاں کیا گیا جس میں سابق ڈی جی پی اور سی وی سی، کلدیپ کھوڈاکو اس کا صدر اور سابق ممبر جموں و کشمیرپبلک سروس کمیشن، کے بی جنڈیال اس کے جنرل سکریٹری کے طور پر بلا مقابلہ منتخب ہوئے۔پریس بیان کے مطابق، سابق ڈی جی ڈی آر ڈی او اور اسپیشل سکریٹری ایم او ڈی، ڈاکٹر سدرشن کمار کو نائب صدر، سابق ڈپٹی سینٹرل انٹیلی جنس آفیسر، آئی بی، بی بی مگوترا کو سیکریٹری اور سابق ڈپٹی کمشنر اسپیشل برانچ، کیبنٹ سیکریٹریٹ، او پی شرما کو خزانچی کے طور پرمنتخب کیا گیا۔ ان سب کو بلا مقابلہ منتخب کر لیا گیا۔ الیکشن ریٹرننگ آفیسر نثار احمد نے کروایا۔سبکدوش ہونے والے صدر، ایس ایس وزیر آئی پی ایس (ریٹائرڈ) کو اس کے سرپرست کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔ AGM میں 65 ممبران نے شرکت کی۔
 
 
 

جموں یونیورسٹی میں دو کتابوں کا اجراء

جموں//شعبہ اُردوجموں یونیورسٹی نے تقریبات کے انعقادکے سلسلے کوجاری رکھتے ہوئے قاسمی کُتب خانہ تالاب کھٹیکاں جموں کے اشتراک سے نامورادیب ،نقاد،محقق اورسابق صدرشعبہ اُردوکشمیریونیورسٹی پروفیسرقدوس جاویدکی کتاب ’’ادب کے معمار(جموں،کشمیراورلداخ‘‘جلداول اورمعروف اُردووپنجابی ادیب خالدحسین کی خودنوشت ’’میں زندہ آدمی ہوں‘‘کی رسم ِ رونمائی تقریب منعقدہوئی ۔اس دوران کُتب کی رسم رونمائی تقریب کی صدارت معروف ادیب ایازرسول نازکی نے کی ۔اس موقعہ پرایڈیشنل ڈائریکٹرجنرل آف پولیس دانش رانامہمان خصوصی جبکہ صحافی سہیل کاظمی مہمان ذی وقارتھے۔ ایوان صدارت میں کتب کے مصنفین پروفیسرقدوس جاوید اورخالدحسین کے علاوہ محمدریاض احمدصدرشعبہ اُردوجموں یونیورسٹی بھی موجودتھے۔اس دوران ساہتیہ اکادمی ایوارڈیافتگان ولی محمداسیرؔکشتواڑی اورخالدحسین کی عزت افزائی بھی کی گئی اورانہیں شال سے نوازاگیا۔اپنے صدارتی خطاب میں ایازرسول نازکی نے پروفیسرقدوس جاوید کواہم موضوع پرکتاب مرتب کرنے اورخالدحسین کوخودنوشت لکھنے پرمبارکبادپیش کی۔انہوں نے مصنفین کے ساتھ ساتھ ساہتیہ اکادمی کی طرف سے ایوارڈحاصل کرنے والے ادیبوں اسیرکشتواڑی اورخالدحسین کوبھی مبارکبادپیش کی ۔
 
 

ہندستانی قیادت مشترکہ طورپر مل بیٹھ کر عالمی امن میں ہندستان کا کردار طے کرے : بھیم سنگھ

جموں//دنیا آگ کی زد میں ہے اور جنگ کے ڈھول بجانے کی کوئی منطق یا وجہ نہیں ہے۔ یوکرین جیسے چھوٹے ملک میں جنگ، قتل و غارت گری اور امن کو تباہ کرنے کی کیا وجہ ہے جو کبھی سوویت یونین کا حصہ تھا؟ روس نے امن کو فروغ دینے والے ملک کے طور پر اپنا نام روشن کیا اور یہ روس ہی تھا جو ہندوستان کے ساتھ کھڑا تھا جب کچھ بڑے ممالک نے جموں و کشمیر کا نام نہاد مسئلہ سلامتی کونسل کے سامنے اٹھایا۔نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر پروفیسر بھیم سنگھ نے اپنے ساتھیوں، قانون سازوں اور وکلاء کو تاریخ کے صفحات کھولنے کا مشورہ دیا کہ کس طرح سوویت یونین جیسے کچھ بڑے ممالک پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں امن کے لیے لڑے۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ روسی قیادت ماضی میں دنیا کے کونے کونے میں امن کی کوششوں کی حمایت میں اپنے کردار کو فراموش کر چکی ہے۔ موجودہ روسی قیادت جنگ اور ایٹمی ہتھیاروں سے پرہیز کرنے کے لیے ماضی میں اپنے قائدانہ کردار کو بھول چکی ہے۔ ہندستان کا کردار، پنڈت جواہر لال نہرو اور شری کرشنا مینن کی قیادت میں سلامتی کونسل کے سامنے دلائل، امن اور بھائی چارے کے مشن کے لیے کسی بھی سیاسی جماعت اور ہندستانی قیادت کے ذہن میں ہونا چاہیے۔ کوئی اس دن کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا جب روس یو ایس ایس آر کا دل اپنے ہی گھر میں جنگ کے ڈھول پیٹے گا جیسا کہ آج روس اور یوکرین کے درمیان ہو رہا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں ہندوستانی قیادت نے ان دنوں ناقابل تصور کردار ادا کیا اور بے گناہوں کو گولی مارنا سوویت یونین، ہندوستان اور اس کے اتحادیوں کی لغت میں نہیں تھا۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے لڑنے والی پرانی روسی قیادت کی پوزیشن کا کیا ہوا؟ آج کی دنیا میں لیڈرشپ کا فقدان ہے اور کوئی گاندھی، نہرو اور کوئی دوسری ایسی قیادت نہیں ہے جو امن کا ڈھول پیٹے اور دنیا کو بتا سکے کہ قتل و غارت گری، بمباری یا سڑکوں پر لڑائی کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔پینتھرس پارٹی نے صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند سے پرزور اپیل کی کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کا اجلاس بلائیں اور انہیں یہ پیغام دیں کہ عالمی امن اسی وقت ممکن ہے جب امن کا ڈھول پیٹنا شروع ہو جائے اور نفرت اور جنگیں چلائیں پھر قتل و غارت گری ہمیشہ کے لیے رک جائے۔یہ ہندستانی قیادت کی نااہلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان روس اور یوکرین جیسی قوموں کے درمیان نفرت کی جنگوں کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔پروفیسر بھیم سنگھ نے پورے ہندوستان میں پینتھرس پارٹی کی قیادت کو بتایا کہ قیادت مکمل تخفیف اسلحہ اور امن کے لیے آواز اٹھائے گی، کیونکہ انسانوں کو مارنے اور لوگوں کو تقسیم کرنے سے دنیا میں امن کی بحالی میں مدد نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ پینتھرس پارٹی نے ایک بین الاقوامی امن کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں تمام سابقہ ناوابستہ اقوام کو مدعو کیا جائے گا اور اس عظیم تحریک کو زندہ کیا جائے گا جسے چین، بہندستان اور دیگر ممالک نے 1954 میں ناوابستگی کے پلیٹ فارم پر کھڑا کیا تھا۔پروفیسر بھیم سنگھ نے یہ بھی اعلان کیا کہ اس سال 23 مارچ کے بعد پینتھرس پارٹی عالمی امن کی آواز بلند کرے گی، نہ جنگ، نہ بندوق، نہ ایٹمی ہتھیار اور بم۔ یہی تحریک ہے جو دنیا کو موت اور تباہی سے بچا سکتی ہے۔آج جموں میں منعقدہ کانفرنس میں ملک کے مختلف حصوں سے کئی سرکردہ سیاسی رہنما اور دانشور موجود تھے۔پروفیسر بھیم سنگھ نے ہندوستان کے صدر کو ایک درخواست بھیجی ہے جس میں عالمی امن کونسل کی جانب سے جلد از جلد ایک ٹیم اقوام متحدہ بھیجنے کی اجازت مانگی  ہے۔
 
 

جموں میونسپل کارپوریشن نے ترقیاتی 

محاذ پر جموں مغرب اسمبلی حلقہ کو نظر انداز کیا:ڈاکٹر روہت گپتا

جموں//اپنی پارٹی صوبائی سیکریٹری ڈاکٹر روہت گپتا نے کہا ہے کہ جموں میونسپل کارپوریشن اسمبلی حلقہ جموں مغرب کو ترقیاتی محاذ پر نظر انداز کر رہی ہے۔ وارڈ نمبر33شیو نگر جموں میں منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وارڈ میں لوگوں کو بنیادی سہولیات کا فقدان ہے ۔نکاسی کا مناسب نظام نہیں، صفائی ستھرائی نہیں کی جارہی، لوگوں کو بلاکسی وجہ پریشان کیاجارہاہے۔وارڈ سے منتخب کارپوریٹرز بھی لوگوں کی نمائندگی نہیں کر رہے۔جموں میونسپل کارپوریشن کو کروڑوں روپے فنڈز حکومت سے مل رہے ہیں لیکن جموں شہر میں ترقی دکھائی نہیں دے رہی اور سمارٹ سٹی پروجیکٹ ہنوز دیرینہ خواب ہے۔ ناقص صفائی ، بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی، پینے کے صاف پانی کی قلت کی شکایات ہیں۔ 
 
 

شیخ نوشین جموںوکشمیر کی ممتاز حقوق زنانہ کارکن

جموں//جب دنیا خواتین کا عالمی دن منانے جا رہی ہے اور نچلی سطح پر خواتین کی کوششوں کو تسلیم کرنے جا رہی ہے ،جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے انڈین ویمن سوشل لابنگ گروپ کی پروجیکٹ ڈائریکٹرشیخ نوشین کاخواتین کی دستکاری، ہینڈلوم کلسٹرز، سینیٹری پیڈز کی تقسیم، چھوٹے پیمانے کے پروجیکٹوں میں سیڈ فنڈنگ، زندگی کی مشکلات سے دوچار خواتین کی مدد میں اپناایک الگ رول ہے ۔بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ، ناری شکتی، اور بچیوں کو مفت تعلیم، خواتین کاروباریوں کو سیڈ فنڈنگجیسے پلیٹ فارم سے ہمارے ویژن کی حمایت کرنے کے لیے، ہم   وزیر اعظم نریندر مودی کے تعاون کے لیے بہت شکر گزار ہیں۔