مزید خبریں

تند، مِتا و وسر مائیکروکنٹینمنٹ زون قرار

عاصف بٹ 
کشتواڑ//ضلع کشتواڑ  میں کورونا وائرس کے مثبت معاملات میں ایک مرتبہ پھر مسلسل اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے جسکے بعد انتظامیہ نے سخت قدم اٹھاتے ہوئے قصبہ کے کئی علاقوں کو مائیکرو کنٹینمنٹ زون قرار دیا اور ان علاقہ جات میں صد فیصد ٹیسٹنگ و ویکسی نیشن کو لازمی قراردیا گیا ہے۔ گزشتہ چند روز کے دور ان علاقہ جات سے کورونا کے 30 سے زاید معاملات درج ہوئے ہیں جسکے بعد ضلع انتظامیہ نے قدم اٹھایا ہے۔جہاں قصبہ علاقہ تند کے کچھ حصوں کو مائیکرو کنٹینمنٹ زون بنایا گیا جسکے بعد متا کے قریب 160رہایشی مکانات کو بھی مائیکرو کنٹینمنٹ زون بنایا گیا اور ادویات و لیباٹری کو چھوڑ کر سبھی دوکانوں کو بند رکھنے کی ہدایت دی گی۔ تحصیلدار کشتواڑ کو ہدایت جاری کی گئی کہ وہ ان علاقوں میں خلاف ورزی کرنے والوں پر سخت کاروائی عمل میں لائے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتہ کرونا وائرس کے ضلع میں42معاملات تھے وہیں اب انکی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
 
 

کووڈ ایس اوپیز کی خلاف ورزی پر16ہزار کاجرمانہ

 1396 ٹیکے لگائے گئے ، 1493 نمونے جمع کیے گئے 

رام بن //ضلع رام بن میں کووڈ پروٹوکول کو نافذ کرنے کی مہم کو جاری رکھتے ہوئے انفورسمنٹ ٹیموں نے چہرے کے ماسک نہ پہننے اور جسمانی فاصلہ برقرار نہ رکھنے پر گھومنے پر متعدد خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانہ عائد کیا۔نافذ کرنے والی ٹیموں نے اپنے اپنے دائرہ اختیار میں معائنہ کے دوران 15ہزار800 روپے جرمانہ وصول کیا ۔انفورسمنٹ افسران نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ چہرے کے ماسک پہنیں اور جسمانی فاصلہ برقرار رکھیں اس کے علاوہ اپنے قریبی سی وی سی پر کوویڈ ویکسی نیشن کی خوراکیں لیں۔ ضلع امیونائزیشن آفیسر رام بن ڈاکٹر سریش نے بتایا کہ منگل کو ضلع رام بن میں 1396 افراد کو پہلی اور دوسری کوویڈ ویکسین کی خوراک دی گئی۔چیف میڈیکل آفیسر رام بن ڈاکٹر محمد فرید بھٹ کی طرف سے جاری کردہ روزانہ بلیٹن کے مطابق محکمہ صحت نے 1493 نمونے جمع کیے ہیں جن میں 321،RT-PCR اور 1172 ،RAT نمونے شامل ہیں اس کے علاوہ 1396 افراد کو کوویڈ ویکسین ضلع کے مخصوص ویکسی نیشن مراکز میں دی گئی ہے۔
 
 
 

کووڈ 19 کے معاملات میں اضافہ 

قصبہ ڈوڈہ کے دو محلے مائیکرو کنٹینمنٹ زون قرار

اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع میں ایک بار پھر سے کووڈ 19 کے معاملات میں اضافہ ہوا ہے۔گذشتہ روز جی ایم سی کے 16 ایم بی بی ایس طلاب، سابق ڈپٹی کمشنر و ایک کے اے ایس آفیسر سمیت 28 نئے مثبت کیسز سامنے آئے تھے جس کے بعد انتظامیہ نے آج قصبہ کے عید گاہ محلہ و دربار ہوسٹل جی ایم سی کو مائیکروکنٹینمنٹ زون قرار دیتے ہوئے ہر طرح کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کی ہے۔ ڈپٹی کمشنر وکاس شرما کی جانب سے جاری حکمنامہ کے مطابق عید گاہ محلہ میں منظور احمد گنائی کے مکان سے نصر اللہ ملک و نصر اللہ ملک کے مکان سے نعمت اللہ بلوان کے مکان تک کا علاقہ مائیکرو کنٹینمنٹ زون ہوگا وہیں آئی ٹی آئی کے متصل ڈوڈہ دربار ہوسٹل جی ایم سی کو بھی اسی زمرے میں رکھا گیا ہے۔حکمنامہ کے مطابق ان محلوں میں مکمل لاک ڈاؤن نافذ رہے گا اور صرف ایمرجنسی سروسز بحال رہیں گی۔میڈیکل ایمرجنسی کے لئے 24×7 قائم کئے گئے کنٹرول روم کے نمبرات 0196-233337،233465،233542 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ ڈی سی نے ایس ایچ او کو مائیکرو کنٹینمنٹ زون میں رہائش پذیر سو فیصد آبادی کو ویکسین کروانے کو یقینی بنانے و انکار کرنے پر آفات سماوی ایکٹ کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔تحصیلدار ڈوڈہ کو کنٹینمنٹ زون کا نگران آفیسر مقرر کیا گیا ہے جبکہ سی ایم او کو طبی عملہ کی تعداد بڑھانے و ٹیسٹنگ عمل میں تیزی لانے کو کہا گیا ہے۔حکمنامہ میں ضلع کنٹرول روم میں تعینات عملہ کو روزانہ دو مرتبہ ہوم قرنطینہ میں رکھے گئے افراد کی سختی سے رپورٹ کرنے کو کہا گیا ہے۔
 
 

تحصیلدار ، نائب تحصیلدار مڑواہ و دیگر کئی افسران کی کرسیاں خالی

 عوام مشکلات سے دوچار ،اضافی چارج کے برعکس مستقل افسران کو تعینات کرنے کی مانگ

عاصف بٹ
کشتواڑ//ضلع کشتواڑ کے سب ڈویژن مڑواہ کی30000آبادی پر مشتمل عوام بدترین مشکلات سے دوچارہیں کیونکہ علاقہ میں تحصیلدار، نایب تحصیلدار ، دیہی ترقی افسر،سی ڈی پی او ،وی ای ایس کے علاوہ کئی اور آفیسران تعینات نہیں ہیں۔مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ضلع کے دیگر بلاکوں میں تعینات آفیسران کو مڑاہ کے اضافی چارج دئے گئے جو کبھی کبھار ہی ان دفاتر کا رخ کرتے ہیں اور لوگوں کو اپنے چھوٹے بڑے کام کروانے کیلئے ضلع ہیڈکوارٹر پر دردر کی ٹھوکریں کھاکر خالی ہاتھ واپس جانا پڑتا ہے ۔انھوں نے بتایا کہ تحصیلدار کی کرسی گزشتہ چھ ماہ سے زائد عرصہ سے خالی ہے اور انکی جگہ دوسرے تحصیلدارکو اضافی چارج دیا گیا ہے جبکہ یہی حال نایب تحصیلدار، بی ڈی او اور دیگر محکمہ جات کا بھی ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ اگر افسران کو مستقل تعینات کیا جاتا تو عوام کے کام مڑواہ کے اند ہی جلد مکمل ہوجاتے اور انھیں در در کی ٹھوکریں نہ کھاناپڑتیں۔نذیراحمدلون سرپنچ حلقہ یوردو نے بتایا کہ علاقہ میں متعدد سرکاری دفاتر غیر فعال ہیں اور زیادہ تر کام ضلع ہیڈکوارٹر سے ہی انجام دیا جاتا ہے جبکہ علاقہ میں صحت عامہ کی کارکردگی افسوسناک ہے۔انھوں نے بتایا کہ نواپچی ہنزل اور ہنزل لوپارہ  سڑک کی فاریسٹ کلیئرنس گزشتہ پانچ سال سے زیرالتوا ہے اور اس میں کوئی بھی پیش رفت نہ ہوسکی جبکہ ایل جی انتظامیہ علاقہ کے لیے باعث عذاب ثابت ہوئی۔ انھوں نے انتظامیہ کے سینئر آفیسران ،چیف سکریٹری اور صوبایی کمیشنر جموں سے ذاتی مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ علاقہ میں تعمیر و ترقی ممکن ہوسکے۔
 

 بانہال میں بس سٹینڈ ہٹانے کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی اپیل 

 مانگ پوری نہ کرنے کی صورت میں جمعہ کو بانہال میں ہڑتال کا انتباہ

محمد تسکین
بانہال//قصبہ بانہال سے بس سٹینڈ کو ہٹا کر دوسری کئی جگہوں پر منتقل کرنے کے خلاف بیوپار منڈل بانہال نے دو روز کی مسلسل میٹنگوں کے بعد اس فیصلے کو انتظامیہ کی طرف سے واپس نہ لینے کی صورت میں جمعہ سے دکانیں بند رکھ کر ہڑتال کا فیصلہ کرنے کا انتباہ دیا اور اس سلسلے میں انتظامیہ کو لئے گئے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کی گئی ہے۔پیر اور منگل کے روز میونسپل پارک بانہال میں منعقد ہوئی دکانداروں اور تاجروں کی میٹنگ کی صدرات صدر بیوپار منڈل بانہال نصیر احمد وانی کر رہے تھے ۔ صدر بیوپار منڈل بانہال نصیر احمد وانی نے منگل کی شام کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وہ مانگ کر رہے ہیں کہ بانہال قصبہ سے بس سٹینڈ کو ہٹانے کے بعد دور دراز کے علاقوں سے بانہال قصبے کا رخ کرنے والے مسافروں اور عام لوگوں کو سخت مشکلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور بیماروں، حاملہ خواتین ، سکول اور ٹیوشن جانے والے بچوں اور اپنے کنبوں کے ساتھ آنے جانے والے مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اپنے اپنے روٹ کی گاڑی پکڑنے کیلئے انہیں ایک سے دو کلومیٹروں کی مسافت طے کرنا پڑتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دکانداروں کا مطالبہ ہے کہ کھڑی ، مہومنگت ،کاونہ ، ترگام ، اکڑال اور نیل چملواس وغیرہ کی رابطہ سڑکوں پر چلنے والی ایک ایک مسافر گاڑی کو بانہال بس سٹینڈ میں رکنے کی اجازت دی جائے تاکہ مسافروں کو لمبی مسافت طے کرکے گاڑیوں میں سوار ہونے سے نجات مل سکے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ایس ڈی ایم بانہال اور ایس ایس پی ٹریفک کو مطلع کیا گیا ہے لیکن ابھی تک ان کی طرف سے یقین دھانیوں کے باوجود کوئی مثبت کاروائی نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ابھی حکام کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں اور انتظامیہ کی طرف سے اس مانگ کی طرف توجہ نہ دینے کی صورت میں جمعرات کے روز کی جانے والی مجوزہ میٹنگ میں جمعہ کو بانہال میں مکمل ہڑتال کا اعلان کیا جائے گا۔صدر بیوپار منڈل بانہال نصیر احمد وانی نے مزید بتایا کہ وہ بس سٹینڈ کو بانہال قصبے سے چار الگ الگ مقامات پر لینے کے فیصلے کے خلاف نہیں ہیں بلکہ سیدھی سی اپیل ہے کہ بس سٹینڈ بانہال میں مسافروں کی سہولیت کیلئے مختلف علاقوں اور رابطہ سڑکوں کی ایک ایک مسافر گاڑی کو قصبہ بانہال کے بس سٹینڈ میں رکنے کی اجازت دی جانی چاہئے تاکہ عوام کو مزید مشکلات سے راحت مل سکے ۔ انہوںنے سب ڈویژن بانہال اور ضلع انتظامیہ رام بن کے علاہ ٹریفک حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس عوامی مسئلے کو جلد از جلد حل کریں تاکہ لوگوں کو مزید پریشانی سے آسانی نجات مل سکے۔ واضح رہے کہ پچھلے دنوں انتظامیہ نے شاہراہ پر قصبہ بانہال میں ہونے والے ٹریفک جام سے بچنے کیلئے قصبہ بانہال میں قائم تمام گاڑیوں کے سٹینڈوں کو دوسری عارضی جگہوں پر منتقل کیا گیا تھا اور قصبہ بانہال میں مسافر گاڑیوں کی پارکنگ پر مکمل پابندی عائد کردی ہے۔ 
 

گول:زوہد محلہ و پڈیہار محلہ میں بجلی کی آنکھ مچولی

تاریں لوگوں کے مکانوںکے ساتھ جڑی ہیں ، کھمبے کہاں ہیں؟ 

زاہد بشیر
گول//گول میں محکمہ پی ڈی ڈی ہر جگہ پر بجلی کے کھمبے لگانے اور لوگوں کو بہتر بجلی سپلائی کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے لیکن سب ڈویژن گول کے صدر مقام متصل جامع مسجد کے دو محلوں جن میں زوہد محلہ اور پڈیہار محلہ میں قریباً ایک دو سال سے یہاں کی عوام بجلی کی دوہائی دے رہے ہیں لیکن ان کی کوئی نہیں سن رہا ہے ۔ اگر چہ کئی مرتبہ انتظامیہ اور دوسرے نمائندوں نے یقین دہانی بھی کرائی تھی لیکن ابھی تک ان کا یہ مسئلہ حل نہیں ہوا ہے ۔ نذیراحمد زوہد نامی ایک شہری کا کہنا ہے کہ ’’یہاں پر تاریں لوگوں کو خود بازار سے خریدنی پڑتی ہیں ، میٹر کہاں ہیں ، بجلی کے پول کہاں ہیں اور اثر رسوخ والوں کو بیس بیس فٹ پر تاریخ اور پول دئے ہیں ‘‘ان کا کہنا ہے کہ کئی مرتبہ اس مسئلے کو لے کر محکمہ پی ڈی ڈی سے مطالبہ کیا تھا لیکن ابھی تک اس کی طرف کسی نے کوئی توجہ نہیں دی ، بجلی کی آنکھ مچولی اتنی ہے کہ بجلی ہونے کے با وجود لوگوں کو روشنی کا انتظام کرنا پڑتا ہے کیونکہ بہت کم وولٹیج ہوتی ہے ۔ انہوں نے ایک بار پھر سے انتظامیہ اور محکمہ پی ڈی ڈی سے مطالبہ کیا ہے کہ ان محلوں کی طرف توجہ دی جائے اور بجلی کی جو بد تر صورتحال ہے اس کی حالت کو بہتر بنایا جائے ۔
 
 
 

جموں شہر میں رکشا بندھن کے موقع پر ایک کروڑ روپے مالیت کی مٹھائیاں فروخت

جموں//جموں شہر میں رکشا بندھن کے تہوار کے موقع پر ایک دن میں ایک کروڑ روپے مالیت کی مٹھائیاں فروخت کی گئی ہیں۔ایک مٹھائی دکان کے مالک نے کہا کہ اگرچہ گذشتہ چند برسوں سے چاکلیٹ کھانے کا ہی چلن تھا لیکن رکشا بندھن کے تہوار کے موقع پر شہر میں ایک دن میں ہی ایک کروڑ روپے مالیت کی دودھ کی بنی مٹھائیاں فروخت کی گئیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مٹھائیوں سے وابستہ دکان داروں کے بھی اچھے دن شروع ہونے لگے ہیں۔موصوف نے کہا کہ ایک وقت ایسا تھا کہ ہم رکشا بندھن، دیوالی وغیرہ جیسے تہواروں کے موقعوں پر ڈیڑھ سے دو کروڑ روپے مالیت کی مٹھائیاں فروخت کرتے تھے ۔انہوں نے کہا: 'لیکن بعد میں لوگ چاکلیٹ اوردوسری قسم کی ڈبہ بند مٹھائیاں خریدنے لگے جس سے ہمارا کام از حد متاثر ہوا'۔موصوف دکان دار نے کہا کہ اب ایک بار پھر رجحان بدل گیا ہے اور لوگ مٹھائیاں خریدنے لگے ہیں۔ایک اور دکان دار نے کہا کہ لوگ ایک بار پھر تازہ مٹھائیاں خریدنے لگے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایک دن میں ہی ایک کروڑ روپے مالیت کی مٹھائیاں میں بیچی گئیں۔انہوں نے کہا کہ رکشا بندھن کے تہوار کے موقع پر ہم نے دو دنوں میں ساڑھے تین لاکھ روپے مالیت کی مٹھائیاں بیچیں۔دکان دار ایسوسی ایشن کے ایک لیڈر نے بتایا کہ رکشا بندھن کے تہوار کے موقع پر ایک کروڑ روپے مالیت کی تازہ مٹھائیاں فروخت کی گئیں۔انہوں نے کہا کہ ہم مٹھائیوں کے معیار کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ تجارت ایک بار پھر ابھرنے لگا۔قابل ذکر ہے کہ جموں شہر میں کم سے کم دو سو مٹھائیوں کے دکان موجود ہیں۔
 

کلونت سنگھ اپنی پارٹی ایکس سروس مین 

سیل صوبہ جموں کے کارڈی نیٹر مقرر 

جموں//جموں وکشمیر اپنی پارٹی نے کلونت سنگھ کو ایکس سروس مین سیل کا انچارج کارڈی نیٹر صوبہ جموں مقرر کیاہے۔ اُن کی تقرری کی تجویز پارٹی صوبائی صدر جموں منجیت سنگھ نے پیش کی تھی جس کا اعلان پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری کی منظوری کے بعد کیاگیاہے۔
 
 
 

سبکدوش انجینئروں کی خدمات لینا ناقابل قبول

  حکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے، بے روزگار انجینئروں کی مانگ 

اشتیاق ملک
ڈوڈہ //مختلف کورسز میں انجینئرنگ ڈپلومہ و ڈگری ہولڈر بے روزگار نوجوانوں نے حکومت کی جانب سے نوکری سے سبکدوش ہوئے انجینئروں کی خدمات حاصل کرنے کے فیصلے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں ہزاروں ڈپلومہ و ڈگری ہولڈر انجینئر روزگار کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور حکومت ان کو روزگار دینے کے بجائے سبکدوش ملازمین کی خدمات حاصل کرنے کا سوچ رہی ہے۔صدر ڈبلیو ایف او انجینئر مجیب ملک نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جہاں لاکھوں تعلیم یافتہ نوجوان روزگار نہ ملنے کی وجہ سے ذہنی تناؤ کا شکار ہو رہے ہیں وہیں انجینئرنگ کی ڈگری و ڈپلومہ حاصل کرنے والے ہزاروں بے روزگار امیدوار بھی اپنے مستقل کو لے کر پریشان ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2014 سے انجینئرنگ کی کوئی تعیناتی عمل میں نہیں لائی گئی ہے اور سرکار ان نوجوانوں کو نظر انداز کر کے ریٹائرڈ انجیئروں کو محکمہ دیہی ترقی میں دوبارہ روزگار دینے کا اعلان کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو انجینئروں کی خالی پڑی آسامیوں کو پر کرنے کے لئے باقاعدہ طور پر ایس ایس آر بی کے تحت تقرری کا عمل شروع کرنا چاہیے بجائے اس کے کہ سبکدوش ملازمین کی خدمات طلب کی جائیں۔ملک نے کہا کہ ریٹائرڈ ملازمین کو پھر سے نوکری پر واپس لانے سے بہتر ہے کہ سرکار انجینئرنگ کالجوں کو بند کرے تاکہ ہزاروں بچوں کا مستقبل داؤ پر نہ لگے۔شاہد حسین نامی ایک اور بے روزگار نوجوان نے کہا کہ تین سال قبل انہوں نے سیول انجینئرنگ میں ڈگری حاصل کی ہے لیکن آج تک سرکاری اور نہ ہی نجی کمپنیوں میں نوکری مل سکی۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح ہزاروں نوجوان انجینئرنگ کی ڈگری لئے دربدر ہیں اور سرکار ریٹائرڈ انجینئروں کی خدمات لینے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر سے اس فیصلے کو واپس لینے و انجینئروں کی خالی اسامیوں کو پورا کرنے کے لئے بھرتی عمل شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر اس فیصلے پر نظر ثانی نہیں کی گئی تو وہ بڑے پیمانے پر احتجاج پر اتر آئیں گے۔
 
 
 

ڈی سی جموں نے کرشنا جنم اشٹمی کے انتظامات کو حتمی شکل دی

 جموں //ڈپٹی کمشنر انشول گرگ نے کرشنا جنم اشٹمی کے آئندہ تہوار کے انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے مختلف محکموں کے افسران کی میٹنگ طلب کی۔میٹنگ میں میلے کے جشن کے حوالے سے کئے جانے والے انتظامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مذہبی تنظیموں کے ارکان نے متفقہ طور پر کہا کہ کووڈ 19 وبائی امراض کے پیش نظر کوئی بھی شوبھا یاترا یا کسی بھی قسم کی جھانکی کا اہتمام نہیں کیا جائے گا۔ مندر کے احاطے میں صرف پوجا/آرتی کی جائے گی جس کے لیے انہوں نے مناسب سیکورٹی ، بجلی اور پانی کی بلا تعطل فراہمی اور مندروں اور اس کے اطراف میں مناسب صفائی کی درخواست کی۔ڈپٹی کمشنر نے محکمہ پولیس کے افسران سے کہا کہ وہ مندروں کے داخلی/خارجی راستوں پر حفاظتی انتظامات کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے ٹریفک پولیس سے یہ بھی کہا کہ وہ مندروں کے ارد گرد گاڑیوں کی ہموار نقل و حرکت کو یقینی بنائے تاکہ جام سے بچا جا سکے۔انہوں نے پی ایچ ای اور پی ڈی ڈی کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ میلے کے دوران بجلی اور پانی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنائیں۔جے ایم سی کے متعلقہ عہدیداروں سے کہا گیا کہ وہ شہر کے مندروں اور اطراف میں صفائی کو یقینی بنائیں۔ فائر سروسز حکام سے کہا گیا کہ وہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے چوکس رہیں۔انہوں نے مذہبی تنظیموں پر بھی زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ عقیدت مند تہوار کے دوران مندروں میں کووڈ مناسب رویے پر عمل کریں۔ڈپٹی کمشنر نے افسران پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ میلے کے انعقاد کے لیے ان کے متعلقہ محکموں سے متعلق انتظامات مناسب وقت پر ہوں۔
 

انٹر سکول زونل لیول ٹورنامنٹ کشتواڑ میں شروع 

کشتواڑ//محکمہ یوتھ سروسز اینڈ سپورٹس کشتواڑ نے زون اندروال ، ناگسنی ، کشتواڑ ، درابشالہ اور پاڈر میں انڈر 19 (لڑکے اور لڑکیاں) کے لیے کیروم اور شطرنج کے نظم و ضبط میں انٹر سکول زونل لیول کھیلوں کا مقابلہ شروع کیا۔یہ ٹورنامنٹ ڈائرکٹر جنرل وائی ایس اینڈ ایس جے اینڈ کے یو ٹی غضنفر علی کے جاری کردہ سالانہ سرگرمی کیلنڈر کے مطابق اور ڈپٹی کمشنر اشوک شرما کی مجموعی نگرانی میں منعقد کیا جا رہا ہے۔بچوں میں بہت زیادہ جوش و خروش دیکھا گیا ، جبکہ مہمان خصوصی لالتی شرما (ڈسٹرکٹ یوتھ سروسز اینڈ سپورٹس آفیسر کشتواڑ) نے پرنسپل ایچ ایس ایس اتھولی پیڈر منگل سنگھ کی موجودگی میں کیرم اینڈ شطرنج ٹورنامنٹ کو کھلا قرار دیا۔ ٹورنامنٹ کوویڈ 19 وبائی امراض کے تمام احتیاطی تدابیر کی سختی کے ساتھ منعقد کیا جا رہا ہے۔اسی طرح کے ایونٹس کا افتتاح انچارج پرنسپل GGHSS کشتواڑ سرجیت کمار نے زون کشتواڑ میں کیا۔مقابلے کے افتتاحی دن انچارج زیڈ پی ای اوز کی نگرانی میں دیگر زونوں میں کیرم اور شطرنج کے میچ بھی کھیلے گئے۔انچارج زیڈ پی ای او زون ناگسنی سریش پریہار کک نے تقریب کا آغاز کیا۔زون اندروال اور ڈربشالہ میں ایونٹس کو بالترتیب انچارجc ZPEOs ، سنجے کمار شرما اور کیلاش گپتا کی نگرانی میں کھلا قرار دیا گیا۔
 

ناظم امور صارفین کا اکھرال ،بانہال میں فوڈ سٹورںکا معائنہ

 رام بن //ڈائریکٹر فوڈ سول سپلائیز اینڈ کنزیومر افیئرز جموں ڈاکٹر نسیم جاوید چودھری نے ضلع رام بن کے اکھرال اور بانہال میں فوڈ سٹوروں میں دستیاب غذائی ذخیرے کا معائنہ کیا۔اسٹاک کا معائنہ کرتے ہوئے ڈائریکٹر نے محکمہ کی طرف سے فراہم کردہ غذائی اناج کے معیار پر اطمینان کا اظہار کیا اور ریکارڈ کی مناسب دیکھ بھال اور فائدہ اٹھانے والوں کو اناج کی جلد اٹھانے اور تقسیم پر زور دیا۔ انہوں نے جغرافیائی ٹیگ والی تصاویر کے ساتھ اکھراال اور بانہال میں فوڈ سٹورز کی مرمت اور تزئین و آرائش کے لیے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹس جمع کرانے کے لیے موقع پر ہدایات بھی جاری کیں۔ڈائریکٹر نے تحصیل سپلائی آفیسر بانہال کے دفتر کا بھی دورہ کیا اور ٹی ایس او کو ہدایت کی کہ دفتر کے احاطے کے باہر ایک شکایت خانہ لگایا جائے۔ انہوں نے ٹی ایس او ، بانہال اور رامسو کو بھی ہدایت کی کہ وہ اناج کی بروقت تقسیم ، راشن کارڈوں کی تصدیق کے علاوہ مستحقین کی فہرست جمع کروائیں ۔انہوں نے عوام کی شکایات کو فوری طور پر دور کرنے کے لیے سخت ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے غیر این ایف ایس اے کے تحت فائدہ مند سطح پر راشن کارڈ کے ساتھ آدھار بیجنگ کو اولین ترجیح دی اور 100 فیصد آدھار سیڈنگ کے لیے 30 اگست 2021 کی آخری تاریخ مقرر کی۔ڈائریکٹر نے ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسل (ڈی ڈی سی) کی چیئرپرسن رام بن ڈاکٹر شمشاد شان سے بھی ملاقات کی اور ان سے درخواست کی کہ وہ لوگوں کو آدھار کی تقسیم کے بارے میں آگاہ کریں تاکہ وہ مستفید افراد کے راشن کارڈ کے ساتھ آدھار سیڈکر سکیں اور یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ ضلع کے تمام تحصیل سپلائی آفیسرز آدھار کی ترسیل کریں گے۔ بعد ازاں ڈائریکٹر نے ڈپٹی کمشنر رام بن مسرت الاسلام کے ساتھ مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کیا اس کے علاوہ ضلع رام بن میں اناج کی ڈور سٹیپ ڈلیوری کے لیے ای ٹینڈرنگ کے عمل کو جلد مکمل کرنے کی درخواست کی۔
 

پی ڈی پی کشتواڑ کی ضلع کمیٹی تشکیل

عاصف بٹ 
کشتواڑ// نچلی سطح پر تنظیم کو مضبوط بنانے کیلئے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے کشتواڑ کی ضلع کمیٹی تشکیل دی۔ پارٹی ترجمان نے بتایا کہ نائب صدر چودھری عبدالحمید و جنرل سیکرٹری سردار امریک سنگھ رین کی منظوری سے ضلع صدر کشتواڑ کی ضلعی کمیٹی اور فرنٹ تنظیموں کے سربراہوں کی تشکیل کی تجویز کو منظوری دی۔ عبدالکبیر نائک کو سینئر نائب صدر ، نذیر احمد لون ، غلام نبی غافل ، طالب حسین بٹ ، رفیقہ بیگم (کونسلر میونسپل کمیٹی کشتواڑ)کو نائب صدر ، ماسٹر جوگندر بھنڈاری ، عبدالکبیر بٹ کو بطور جنرل سیکرٹری ، انیتا ٹھاکر ، مخالد اقبال مولوی ، سجاد حسین بٹ ، حبیب اللہ دھوبی کو سیکرٹری ، اشتیاق حسین گلکار بطور جوائنٹ سیکرٹری (آرگنائزیشن)،منظور الٰہی جوائنٹ سیکرٹری اور فدا حسین بطور خزانچی منتخب کئے گئے جبکہ واصل ڈولوال کو دوبارہ ضلع صدر یوتھ مقرر کیا گیا ہے جبکہ گلناز بیگم کو ضلع صدر خواتین ونگ ، ارشاد حسین گری کو ڈسٹرکٹ میڈیا کوآرڈ ی نیٹر ،حاجی محمد اقبال اور عبدالرحمن کشمیری کو زونل صدر کشتواڑ اور اندروال کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔
 
 

فوج کی جانب سے گول میں کرکٹ ٹورنامنٹ کا انعقاد

فائنل میچ شیخ سی سی فاتح ،اب تک26ٹیموں نے لیا اس میں حصہ 

زاہد بشیر
گول//نوجوانوں کو کھیل کود کی جانب راغب کرانے کے لئے جہاں پورے جموںو کشمیر میں انڈین آرمی کی جانب سے کھیلوں کا انعقاد ہو رہا ہے وہیں ضلع رام بن اور ضلع ریاسی کے دور دراز علاقوں میں بھی انڈین آرمی کی جانب سے کھیل کود سے متعلق مختلف مقامات پر میچوں کا انعقاد کیا ۔ انڈین آرمی کی جانب سے گول میں ’’سوارنم وجے ‘‘ٹی 20 کرکٹ ٹورنامنٹ کا انعقاد کیاگیا جس میں اب تک قریباً26ٹیموں نے حصہ لیا اور آج صبح دس بجے سے فرنڈس سی سی گول اور شیخ سی سی بگا مہور ریاسی کے درمیان کڑے کا میچ کھیلا گیا جس میں ٹاس جیت کر شیخ سی سی بگا نے بلے بازی کرنے کا فیصلہ کیا ۔ گول کے منزم کنڈ سر سبز میدان میں خوشگوار موسم کے بیچ صبح دس بجے شیخ سی سی بگا اور گول فرنڈس کرکٹ کلب کے درمیاب کڑے کا مقابلہ شروع ہوا ۔ سخت بلے بازی کے ساتھ ساتھ تیز ترار گیند بازی کے بیچ 20اوروں کے اس میچ میں شیخ سی سی بگا کی ٹیم نے آٹھ وکٹوں کے نقصان پر159رن بنائے اور پہلے اونگ ایک بجے اختتام پذیر ہوئی اور اُس کے بعد فورا ً دوسری اونگ کا آغاز ہوا لیکن بد قسمتی سے گول کے معروف کرکٹر بشیر احمد ملک جو یہاں پر بلے بازی کے ساتھ ساتھ گیند بازی میں بھی ہمیشہ اہم کرار ادا کرتا آ رہا ہے کوئی رن نا بناتے ہوئے دوسرے بال پر ہی اوٹ ہو گئے اور اُس کے بعدفرنڈس کرکٹ کلب گول کے قسمت ڈگمگاتے رہے اور اس طرح سے فرینڈز کرکٹ کلب کو بگا شیخ سی سی نے 17.3 اوورز میں صرف 87 رنز پر ڈھیر کر دیا۔ٹورنامنٹ میں رام بن اور ریاسی اضلاع کی 16 ٹیموں نے حصہ لیا۔آل راؤنڈر ، فرینڈز کرکٹ کلب کے بشیر ملک جنہوں نے 4 میچوں میں 96 رنز بنائے اور 17 وکٹیں حاصل کیں ، مین آف دی ٹورنامنٹ قرار پائے ، شیخ سی سی کے امیر بٹ جنہوں نے صرف 19 گیندوں میں 48 رنز بنائے ، مین آف دی میچ قرار پائے۔ اور شیخ الیون کے محمد یاسین جنہوں نے آج پانچ وکٹیں حاصل کیں انہیں بہترین بولر قرار دیا گیا۔آخر میں ، ایس ڈی ایم گول غیاث الحق اس موقع پر مہمان خصوصی اور مقامی ڈی ڈی سی ، ممبر گول ، سخی محمد چودھری اورایس ایچ او گول منیر خان نے ٹرافی اور 10 ہزار روپے کا چیک جیتنے والی ٹیم کو دیا اور تمغوںکے ساتھ سرٹیفکیٹ دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوںکو 8 ہزار روپے انعام کے طور پر ملے۔آرمی ذرائع کے مطابق ٹورنامنٹ کا اہتمام کرکٹ ایسوسی ایشن آف گول کی درخواست پر کیا گیا تھا۔مقامی لوگوں بالخصوص نوجوانوں نے آپریشن سدبھاونا کے تحت فوج کی جانب سے اس ٹورنامنٹ کے انعقاد پر اُن کا شکریہ ادا کیا ۔